ایران نے افزودہ یورینیم کے ذخیرے میں 50 فیصد اضافہ کرلیا، آئی اے ای اے کا انکشاف

May 31, 2025 | 21:55:PM
ایران نے افزودہ یورینیم کے ذخیرے میں 50 فیصد اضافہ کرلیا، آئی اے ای اے کا انکشاف
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک)اقوام متحدہ کے جوہری نگران ادارے بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی ( آئی اے ای اے ) کی ایک تازہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ایران نے گزشتہ تین ماہ کے دوران 60 فیصد تک افزودہ یورینیم کے اپنے ذخیرے میں تقریباً 50 فیصد اضافہ کر لیا ہے۔

آئی اے ای اے کی رپورٹ کے مطابق 17 مئی 2025 تک ایران نے 408.6 کلوگرام یورینیم کو 60 فیصد سطح تک افزودہ کیا ہے جو کسی بھی غیر جوہری ہتھیار رکھنے والی ریاست کی بلند ترین مقدار ہے جبکہ فروری میں یہ مقدار 274.8 کلوگرام تھی جو اب بڑھ کر 133.8 کلوگرام کے اضافے کے ساتھ موجودہ سطح پر پہنچ چکی ہے۔

رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ایران نے تین مختلف مقامات پر ایسے جوہری مواد کے ساتھ خفیہ سرگرمیاں کیں جن کے بارے میں ایجنسی کو اطلاع نہیں دی گئی تھی جبکہ رپورٹ میں ان سرگرمیوں کو "سنگین تشویش" قرار دیا گیا ہے اور ایران سے کہا گیا ہے کہ وہ فوری طور پر شفافیت اختیار کرے۔

یہ بھی پڑھیں:محکمہ موسمیات نے تیز ہواؤں اور گرج چمک کیساتھ بارش کی نوید سنا دی

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایک بیان میں اس بات کو دہرایا کہ ایران جوہری ہتھیاروں کو "ناقابل قبول" سمجھتا ہے۔

آئی اے ای اے کی یہ رپورٹ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران اور امریکہ کے درمیان جوہری معاہدے کی بحالی پر مذاکرات جاری ہیں اور مغربی ممالک بالخصوص امریکہ، برطانیہ، فرانس اور جرمنی  نے ایران پر عدم پھیلاؤ کی ذمہ داریوں کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے مزید پابندیوں کی دھمکی دی ہے۔

سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کے روز کہا تھا کہ ایران جوہری ہتھیار نہیں رکھ سکتا اور وہ ایک معاہدہ چاہتے ہیں جو پورے مشرق وسطیٰ کو تباہی سے بچا سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ایلون مسک کی سوجی ہوئی آنکھ کیساتھ ٹرمپ حکومت سے علیحدگی؛ مکا کس نے مارا تھا؟

دیگر کیٹیگریز: دنیا
ٹیگز: