خیبرپختونخوا کی معدنیات کے لائسنس اور فوج  - زمینی حقائق

Jul 31, 2025 | 22:34:PM
خیبرپختونخوا کی معدنیات کے لائسنس اور فوج  - زمینی حقائق
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24 نیوز)سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، خیبرپختونخوا میں اب تک 3900 سے زائد مائننگ لائسنس جاری کیے جا چکے ہیں، جن میں سے صرف ایک لائسنس فوج کے ذیلی ادارے ایف ڈبلیو او (فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن) کو بویا ، شمالی وزیرستان کے علاقے میں 2015 میں دیا گیا۔یہ وہ وقت تھا جب کوئی پختون ، کوئی ادارہ اور کوئی تنظیم شمالی وزیرستان میں پیسے لگانے کو تیار نہیں تھی- بویا کے سوا صوبے کے کسی بھی حصے میں فوج یا کسی عسکری ادارے کے پاس معدنیات کا کوئی اور لائسنس یا لیز موجود نہیں۔جب ایف ڈبلیو او (فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن) نے بویا سے واپس جانے کی بات کی تو مقامی افراد منتیں کرنے آ گئے کہ فوج اس پروجیکٹ کو ختم نہ کرے جس نے مقامی افراد کو بے حد فائدہ دیا ہے- 

یہ بھی حقیقت ہے کہ اس وقت وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کے پاس 500 سے زائد نئی مائننگ درخواستیں زیر غور ہیں، جن میں سے ایک بھی درخواست فوج یا کسی عسکری ادارے کی جانب سے نہیں دی گئی۔تو پھر خیبرپختونخوا میں فوج اور معدنیات کے بارے میں جھوٹا پراپیگنڈہ کیوں کیا جاتا ہے؟؟؟۔کیوں کہا جاتا ہے کہ فوج صوبے کی معدنیات پے قبضہ کرنا چاہتی ہے؟؟؟۔

ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے واضح الفاظ میں خود کہا:"میں حلفاً کہتا ہوں کہ مائنز اور منرلز بل پر میری آج تک کور کمانڈر سے کوئی بات نہیں ہوئی۔ مجھے افسوس ہے کہ یہ بل پی ٹی آئی کی اندرونی سیاست کی نظر ہو گیا، حالانکہ اس سے سب سے زیادہ فائدہ خیبرپختونخوا کے عوام کو ہونا تھا۔"خیبرپختونخوا میں معدنیات سے متعلق کافی عرصے سے جھوٹے بیانیے اور سازشی پروپیگنڈے گردش کر رہے ہیں۔ ریاست مخالف عناصر کی جانب سے یہ تاثر دینے کی کوشش کی جاتی ہے کہ صوبے کے معدنی وسائل پر فوج یا اس کے ذیلی ادارے قابض ہو رہے ہیں۔تاہم زمینی حقائق ان دعوؤں کے برعکس ہیں۔

یہ امر بھی قابل غور ہے کہ خیبرپختونخوا کے پہاڑی اور دشوار گزار علاقوں میں کان کنی ایک نہایت تکنیکی، مشینی اور مہنگا عمل ہے، جس کے لیے خصوصی مہارت، جدید مشینری اور تجربہ کار افرادی قوت درکار ہوتی ہے۔ خیبرپختونخوا حکومت کی خواہش ہے کہ فوج کے ذیلی ادارے ایف ڈبلیو او اور این ایل سی اپنی تکنیکی مہارت کی بنیاد پر مائننگ پراجیکٹس میں شراکت کریں، تاہم فوج نے ان منصوبوں میں دلچسپی ظاہر نہیں کی اور نہ ان اداروں کی جانب سے کوئی پیش رفت نہ ہوئی۔صوبہ خیبرپختونخوا میں فوج اس وقت خوارج کے خلاف ایک فیصلہ کن جنگ میں مصروف عمل ہے۔ *ایسے میں مائنر اور منرلز کے نام پر فوج کے خلاف بے بنیاد پراپیگنڈہ پھیلانا نہ صرف غیر ذمہ دارانہ ہے بلکہ امن و امان کی بحالی میں فوج کے مثبت کردار کو جھٹلانے کے مترادف ہے، فوج کا یہ مثبت کردار خود صوبائی حکومت بھی تسلیم کر چکی ہے۔ایسے وقت میں جب ریاست مخالف عناصر عوام میں شکوک و شبہات پیدا کر رہے ہیں، ضروری ہے کہ اصل حقائق کو واضح انداز میں عوام کے سامنے رکھا جائے۔معدنیات پر عوام کا حق تسلیم شدہ ہے، اور اسی اصول کے تحت صوبائی حکومت کو پالیسی سازی کرنی چاہیے، نہ کہ افواہوں اور پروپیگنڈے کا شکار ہو کر ریاستی اداروں کو بدنام کیا جائے۔

یہ بھی پڑھیں:خاتون کو بلیک میل کرنیوالا ٹک ٹاکر پیکا ایکٹ کے تحت گرفتار