پسند کی شادی؛ ایک سو اکیس گھر جلانے والے ملزموں کے نام ایف آئی آر میں ڈالنے کیلئے ہائی کورٹ میں درخواست
Stay tuned with 24 News HD Android App
(صدام حسین چانڈیو) جیکب آباد کے گاؤں گوٹھ محمد صدیق ارائیں کے 121 گھر جلانے کے جرم میں شامل تمام ملزموں کے نام ایف آئی آر میں شامل کروانےکے لئے متاثرہ گرھانوں نے سندھ ہائی کورٹ میں درخواست دائر کر دی۔ پولیس نے جو ایف آئی آر درج کی اس میں ایک سو بیس گھروں کو نذر آتش کرنے کے سرغنہ اور دوسرے طاقتور ملزموں کے نام شامل نہیں کئے تھے۔ متاثرہ گھرانوں کے افراد تبھی سے پولیس کی اس ناانصافی پر احتجاج کر رہے تھے۔اب متاثرین کا مطالبہ ہے کہ پولیس تحقیقات کی بجائے عدالتی انکوائری کروائی جائے کینوکہ پولیس ملزموں کی طرفدار ہے۔
ab 121 گھروں کو نذرِ آتش کرنے کے مقدمے کی ایف آئی آر میں بااثر تصور کئے جانے والے ملزموں کے نام شامل کرانے کے لیے متاثرین نے سندھ ہائی کورٹ لاڑکانہ سے رجوع کر لیا ہے۔ مدعی غلام شبیر برڑو نے دو ملزموں سردار صدام خان برڑو اور سردار احمد علی چنو کو بھی مقدمے میں نامزد کرنے کی استدعا کی ہے۔
متاثرہ گھرانوں کے افراد پولیس کی نام نہاد تحقیقات پر مسلسل عدم اعتماد ظاہر کر رہے ہیں۔ انہوں نے کیس کی تفتیش پولیس سے واپس لے کر جوڈیشل انکوائری کروانے کا مطالبہ کیا ہے۔
پسند کی شادی کرنے والی لڑکی کے سسرالی رشتہ داروں کو سزا دینے کے لئے ان کے 121 گھروں کو جلا کر راکھ کر دینے کے مقدمے کی ایف آئی آر کو درست کرنے کے لئے دائر کی گئی درخواست کی سندھ ہائی کورٹ کے لاڑکانہ بنچ مین سماعت پیر کے روز ہو سکتی ہے۔
سندھ حکومت نے گوٹھ محمد صدیق ارائیں کے 121 گھروں کو جلائے جانے کے واقعہ کا نوٹس تو لیا لیکن گھروں کی تعمیر کرا کر دینے کا وعدہ تو کر لیا لیکن جن لوگوں نے پورا گاؤں جلا کر سندھ کی تاریخ میں بے مثال دہشت گردی کی ان کو قرار واقعی سزا دلوانے کا کوئی انتظام اب تک نہیں کیا۔
