میانمار میں قیدیوں کی سزاؤں میں کمی، انگ سان سوکئی کی کتنی قید باقی رہ گئی؟
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ویب ڈیسک) میانمار میں حکومت کی جانب سے قیدیوں کی سزا میں کمی ن کے احکامات نے سابق وزیراعظم آنگ سان سوکئی کی سزا کو بھی کم کر دیا ہے۔
میانمار کی معزول سیاسی رہنما آنگ سان سوکئی کو اس ماہ دو مرتبہ عام معافی دی گئی ہے، لیکن ان کی بقیہ سزا ابھی تک واضح نہیں کہ کتنی ہے۔
سابق وزیراعظم آنگ سان سوکئی کی قانونی ٹیم کے ایک رکن کے مطابق، میانمار کے صدر من آنگ ہلینگ نے تمام قیدیوں کی سزاؤں میں چھٹے حصے تک کمی کر دی ہے، یہ اقدام ہتمام قیدیوں کے لئے ہے جس سے معزول رہنما آنگ سان سوکئی کی سزا میں بھی از خود مزید کمی ہو گئی ہے۔
صدارتی دفتر کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق جمعرات کا اقدام میانمار کی ایک عام تعطیل کے موقع پر آیا ہے۔ عام طور پر قیدیوں کیلئے ایمنسٹی اس وقت ہوتی ہے جب میانمار جنوری میں یوم آزادی اور اپریل میں اپنا نیا سال مناتا ہے۔
صدر من آنگ ہلینگ، جو سخت پابندی والے انتخابات کے بعد سویلین صدر کے طور پر حلف اٹھانے سے پہلے فوجی سربراہ تھے، اس ماہ کے اوائل میں 4,335 قیدیوں کی سزاؤں میں اسی طرح کی کمی کر چکے ہیں۔
آنگ سان سوکئی 2021 سے قید ہیں، جب ایک فوجی بغاوت نے ان کی حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا۔ وہ 33 سال کی سزا کاٹ رہی ہیں، بعد میں ان کی عمر کم کر کے 27 سال کر دی گئی۔
سوکئی کی قانونی ٹیم کے رکن نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ 80 سالہ بوڑھی خاتون سیاستدان کو اب تقریباً 18 سال قید بھگتنا ہو گی۔
آنگ سان سوکئی اب بھی میانمار میں نمایاں طور پر مقبول ہیں لیکن ان کا خاندان ان کی گرتی ہوئی صحت کے بارے میں پریشان رہتا ہے۔
سوکئی کو 1991 میں امن کا نوبل انعام بھی دیا گیا تھا۔ اس وقت بھی وہ جلاوطنی میں تھیں۔ سوکئی نے اس نوبیل پیس پرائز کو اس خوف سے قبول نہیں کیا تھا کہ انہیں ملک واپس آنے سے روک دیا جائے گا، جہاں وہ عدم تشدد کی علامت بن چکی تھیں۔
بعد میں سوکئی وطن واپس آئیں، میانمار میں جمہوریت بحال ہوئی تو انہوں نے الیکشن لڑا اور اپنی پارٹی کی واضح اکثریت کے ساتھ پرائم منسٹر بنیں۔ بعد میں ایک بار پھر فوجی بغاوت ہوئی اور سوکئی ایک بار پھر قید ہو گئیں۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب میں ٹیچرز کے ای بائیک خریدنے پر 40 فیصد خرچ حکومت برداشت کرےگی
میانمار کی فوج کی حمایت یافتہ سیاسی پارٹی نے حالیہ جنوری میں ہونے والے تین مرحلوں میں ہونے والے عام انتخابات میں بڑی کامیابی حاصل ہونےکا دعویٰ کیا تھا۔ فوجی بغاوت کے چار سال سے زائد عرصے کے بعد، یونین سولیڈیریٹی اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی (یو ایس ڈی پی) نے میانمار کے دو قانون ساز ایوانوں میں بھاری اکثریت کا اعلان کیا۔
آنگ سان سوکئی کی نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی کو درجنوں دیگر جماعتوں کے ساتھ تحلیل کر دیا گیا تھا، اور کچھ دیگر نے انتخابات میں حصہ لینے سے انکار کر دیا تھا، جس پر ناقدین کی طرف سے مذمت کی گئی تھی جو کہتے ہیں کہ یہ عمل فوجی حکمرانی کو قانونی حیثیت دینے کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا۔
اس ماہ کے شروع میں اپنے افتتاحی خطاب میں، موجودہ صدر من آنگ ہلینگ نے اعلان کیا کہ "میانمار جمہوریت کے راستے پر واپس آ گیا ہے اور ایک بہتر مستقبل کی طرف بڑھ رہا ہے"، انہوں نے کہا، ہمیں اعتراف ہے کہ ملک کو اب بھی بہت سے "چیلنجوں پر قابو پانا ہے۔
اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر نے کہا کہ آبادی کے بڑے حصے، بشمول اقلیتیں جیسے کہ مسلم اکثریتی روہنگیا نسلی گروپ، کو ووٹنگ سے محروم رکھا گیا ہے کیونکہ انہیں شہریت دینے سے انکار کیا گیا ہے، اور بہت سے لوگ ملک سے باہر بھی بے گھر ہو گئے ہیں۔
اسسٹنس ایسوسی ایشن فار پولیٹیکل پریزنرز، انسانی حقوق کے گروپ نکا کہنا ہے کہ میانمار میں 2021 کی بغاوت کے بعد سے 30,000 سے زیادہ افراد کو سیاسی الزامات کے تحت قید کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: عراق کی دلدل زندہ ہو گئی:بارشیں دجلہ، فرات کی درمیانی ویٹ لینڈز میں زندگی کو واپس لے آئیں