معرکہ معیشت 

وقاص عظیم 

Nov 29, 2025 | 17:03:PM
معرکہ معیشت 
سورس: Google
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

حالیہ ہفتے کے دوران پاکستان کی معیشت اور معاشی اصلاحاتی ایجنڈے کے خلاف چار بڑی گواہی آئی ہیں ، پاکستان بزنس کونسل ، ایس آئی ایف سی ، ہارون اختر اور گوہر اعجاز حکومت کے معاشی پلان کے خلاف کھل کر بولے ہیں ۔

ان میں دو گواہیاں حکومت کے اندر سے آئی ہیں اور دو گواہیاں پرائیویٹ سیکٹر نے دی ہیں ، اسپیشل انوسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل اور ہارون اختر نے ایف بی آر کے بھاری ٹیکسز ، شرح سود اور توانائی کی قیمتوں کو معاشی بحالی کی راہ میں بڑی رکاوٹ قرار دیا ہے۔ 

ایک روز قبل ملک بھر کی تاجر برادری نے سابق نگراں وفاقی وزیر گوہر اعجاز کی قیادت میں معرکہ معیشت جیتنے کا اعلان کیا ہے ، گوہر اعجاز نے ملک بھر کی تاجر برادری اور مختلف گروپس کے درمیان اختلافات کو ختم کرا دیا ہے.

پاکستان بزنس گروپ اور یونائیٹیڈ بزنس گروپ کے رہنما ایس ایم تنویر اور میاں انجم نثار نے ایک آواز ہو کر معیشت کو بحال کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ ملک بھر کے 400 چیمبرز آف کامرس ، تاجر ایسوسی ایشنز اور ٹریڈ باڈیز نے اختلافات کو ختم کرکے ملکی معیشت کو چلانے کا اعلان کیا ہے .

سابق وزیر تجارت گوہر اعجاز کا کہنا ہے کہ حکومت جب تک ان کاروباری شخصیات اور رہنماوں سے مشاورت نہیں کرتی ملک معاشی بحران سے نہیں نکل سکتا ۔ یہ وہ لوگ ہیں جو کاروباری اعتماد کو بحال کر سکتے ہیں ، کاروباری اعتماد گراس روٹ لیول سے آئے گا ۔ اگر حکومت سمجھتی ہے کہ چار مراء اور رئیس افراد ایک کمیٹی میں بیٹھ کر معاشی بحران کو ختم کر سکتے ہیں تو یہ ممکن نہیں ہے ۔ حکومت کو معاشی پالیسی بنانے کے لیے ان چار سو تاجر رہنماوں سے مشاورت کرنی چاہیئے ۔ 

اس سے قبل امریکہ کے ایک تھنک ٹینک گلوبل ڈائیلاگ فورم نے لاہور میں ایکنامک پالیسی اینڈ بزنس ڈویلپمنَٹ کے وفد سے ملاقات کی ہے ، چیئرمین ایکنامک پالیسی ڈاکٹر گوہر اعجاز نے سابق سفیر علی جہانگیر صدیقی کی قیادت میں امریکی تھنک ٹینک کو مدعو کیا تھا ، علی جہانگیر صدیقی نے بھی اس موقع پر یہ کہا کہ امریکی وفد پاکستان کے نمایاں کاروباری شخصیات سے مل کر معاشی اصلاحات کا جائزہ لینا چاہتا ہے ، یعنی گلوبل ڈائیلاگ فورم بھی یہ سمجھتا ہے کہ کاروباری شخصیات اور پرائیویٹ سیکٹر ہی ملکی معاشی صورتحال کی درست پکچر پیش کرسکتا ہے۔ 

حکومت کی جانب سے اس وقت معاشی استحکام کا دعوی کیا جا رہا ہے اور حالیہ مہینوں کےدوران وزیر خزانہ نے یہ بھی تواتر سے کہنا شروع کردیا ہے کہ ملکی معیشت کو پرائیویٹ سیکٹر کی قیادت میں چلایا جائے گا ۔ پاکستان بزنس کونسل کے زیر انتظام ہونے والے دو روزہ " معیشت پر مباحثے " میں پرائیویٹ سیکٹر نے ملکی معاشی پالیسیوں کے خلاف ایک چارج شیٹ پیش کی ہے ، پرائیویٹ سیکٹر کا کہنا ہے کہ ملکی معیشت اس وقت سکوت کا شکار ہے ، اس میں کوئی ترقی یا بہتری نہیں دکھائی دے رہی .

ایف بی آر کے بھاری ٹیکسوں کی وجہ س چھوٹے اور بڑے کاروبار پریشان ہیں ، بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے مینوفیکچرنگ شعبہ بند ہو رہا ہے ، صنعتوں کی بندش کی وجہ سے لوگوں کو روزگار نہیں مل رہا ۔ اور غیر ملکی سرمایہ کاری نہیں آ رہی ۔ پرائیویٹ سیکٹر کا یہ کہنا ہے کہ معاشی استحکام کی پالیسی کو بہت دیکھ لیا ہے ۔ اب ملک کو معاشی ترقی کی ضرورت ہے ، یعنی معاشی ترقی کی رفتار بڑھانے کی ضرورت ہے ، معیشت کے ہاتھ پاوں کھولے جائیں ، اسے کھلی فضاء میں سانس لینے اور اسے لمبا بھاگنے کا موقع دیں تاکہ یہ معیشت علاقائی ممالک کے ساتھ مقابلہ کر سکے ۔  معاشی ترقی کی رفتار بڑھانے کے لیے صنعتوں کا پہیہ چلنے دیا جائے ۔ ٹیکسوں کو کم کیا جائے ، شرح سود گھٹائی جائے اور بجلی اور گیس کی قیمتیں کم کی جائیں ۔ 

اسپیشل انوسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل نے پاکستان بزنس کونسل کے سیمینار میں بظاہر بے بسی کا اظہار کیا ہے ، پرائیویٹ سیکٹر کے تمام خدشات اور تحفظات کو مانا گیا ہے ۔ ایس آئی ایف سی گذشتہ تین سال کے عرصے میں معیشت کی راہ میں حائل بنیادوں رکاوٹیں ختم کرانے میں ناکام رہی ہے ۔ جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایس آئی ایف سی کے پاس بھی کوئی خاص اختیار نہیں ہے بلکہ یہ بھی ایک سفارشی باڈی بن چکی ہے جس طرح کہ باقی کمیٹیاں ملک میں کام کر رہی ہیں ۔ 

وزیر اعظم کے معاون خصوصی ہارون اختر خان نے بھی کھل کر حکومتی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے ، کاص طور پر ایف بی آر کے ٹیکسز پر شدید تنقید کی گئی ہے ، تنخواہ دار طبقہ ، کاروباری گروپس اور کارپوریٹ سیکٹر پر لگائے گئے ٹیکسز خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہیں، ہارون اختر خان بھی یہ تجویز کر رہےہیں کہ حکومت کو چھوٹی ، بڑی صنعتوں کو چلانے کے آسانیاں پیدا کرنا ہوں گی ، ہارون اختر خان نے کہا کہ پاکستان ٹھیک چل رہا ہے لیکن معیشت ٹھیک نہیں چل رہی ۔

اس کی بنیادی وجہ ملک میں غیر دستاویزی یا انفارمل معیشت کا ہونا ہے ۔ ان ڈاکیومینٹد سیکٹر ترقی کر رہا ہے ، اس لیے آپ سڑکوں پر لگژری گاڑیوں کا رش اور شاپنگ مال  میں لاکھوں روپے کی شاپنگ کی ریل پیل ہے حکومت کو فارمل معیشت کو چلانے کے لیے صنعتوں کو چلانا پڑے گا ، تمام ٹیکسز یہاں تک کہ سیلز ٹیکس کو بھی کم کرنا ہوگا ۔ ہارون اختر نے یہ بھی کہا کہ ایف بی آر کو ٹیکس گذاروں کو پکڑ دھکڑ کرنے ، گرفتاریاں اور قید کرنے کی پالیسی کو ترک کرنا ہوگا کیونکہ اس سے پیسہ انفارمل سیکٹر میں چلا جاتا ہے۔ ہارون اختر خان نے یہ بھی کہا کہ مسلم لیگ نون کے سابقہ دور میں ٹیکس ٹو جی ڈی پی ریشو 11.4 فیصد تک پہنچ چکی تھی ، اس وقت بھی ٹیکس چوروں کے خلاف کارروائی ہوتی تھی مگر معیشت کو چلنے دیا جاتا تھا ، کیونکہ معیشت کے چلنے سے ہی ٹیکسز آتے ہیں ۔ 

معرکہ معیشت جیتنے سے قبل پرائیویٹ سیکٹر حکومت کو اپنی تجاویز دے رہا ہے ۔ یہ وہ تجاویز ہیں جو حکومت کے پاس پہنچ رہی ہیں لیکن ان پر کوئی پیش رفت ہوتی ہوئی دکھائی نہیں دے رہی ۔ پاکستان اس وقت آئی ایم ایف کے قرض پرگرام میں ہے ۔ حکومت یہ جواز پیش کر رہی ہے کہ آئی ایم ایف پروگرام میں رہتے ہوئے کوئی ایڈونچر نہیں کرنا چاہتی ، حکومت کو خدشہ ہے کہ اگر معاشی ترقی کی رفتار تھوڑی سی بڑھانے کی کوشش کی تو درآمدات بڑھنا شروع جائیں گی اور معیشت کی سانس پھول جائے گی ، معیشت کا انجن گرم ہوجائے گا اور پھر کرنٹ اکاونٹ خسارہ بڑھنے سے بیرونی ادائیگیوں کا مسئلہ کھڑا ہوجائے ، جس سے ساری محنت پر پانی پھر جائے گا ؟ تو کیا معیشت کو اسی سست رفتاری سے چلنے دیا جائے ؟ 

پاکستان کی معیشت کے فیصلے کون کر رہا ہے ، کیا حکومت کے پاس معاشی پلان ہے یا نہیں ہے ؟ اگر کوئی معاشی پلان ہے تو وہ کیا ہے ؟ معاشی پلان وزارت خزانہ کے کیو بلاک میں بنتا ہے یا نہیں ؟  کیا ٹیکسوں کو کم کرنے کا اختیار ایف بی آر کے پاس ہے ؟ کیا شرح سود کو کم کرنے کا اختیار اسٹیٹ بینک کے پاس اور کیا وزارت توانائی بجلی اور گیس کی قیمتوں کو کم کر سکتی ہے ؟ یہ وہ سوالات ہیں جو پرائیویٹ سیکٹر پوچھ رہا ہے پاکستان کی کاروباری برادری ملکی معیشت کو آئی ایم ایف کے شکنجے سے آزاد کرنے کا اعلان کر رہی ہے اور یہ دعوی کر رہی ہے کہ اگر پرائیویٹ سیکٹر کو ملکی معیشت چالنے کا موقع دیا جائے تو آئی ایم ایف سے نجات مل سکتی ہے ۔