نیتن یاہو کو معافی دینےکی درخواست؛ اسرائیلی صدر کے معاون نے جسٹس ڈیپارٹمنٹ سے وضاحتیں مانگ لیں

Mar 29, 2026 | 20:03:PM
 نیتن یاہو کو معافی دینےکی درخواست؛ اسرائیلی صدر کے معاون نے جسٹس ڈیپارٹمنٹ سے وضاحتیں مانگ لیں
کیپشن: دو سال پہلے 26 اپریل 2023 کو یروشلم میں  ایوانِ صدر میں اسرائیل کے 75 ویں یوم آزادی کی تقریبات کے دوران غیر معمولی فوجیوں کے لیے ایک تقریب میں وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو (L) اور صدر اسحاق ہرزوگ۔ (فوٹو: Yonatan Sindel/ Flash90/ فائل)
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک) جنگ اپنی جگہ، قانون کی بالادستی اپنی جگہ؛ اسرائیل کے صدر اسحاق ہرزوگ کے قانونی معاونین نے پرائم منسٹر نیتن یاہو کو کرپشن کے مقدمات میں عام معافی دے دینے  کی درخواست پر اسرائیل کے جسٹس ڈیپارٹمنٹ سے کہا ہے کہ وہ بتائے کہ آیا کبھی کسی کو "مقدمات زیر سماعت ہونے کے دوران معافی دینے" کی کوئی پہلے مثال موجود ہے یا نہیں۔ صدر ہرزوگ کے قانونی معاونین نے کچھ مزید بھی وضاحتیں مانگ لیں۔

 ٹائمز آف اسرائیل نے آج ایک رپورٹ میں بتایا کہ صدر اسحاق ہرزوگ کے دفتر نے نیتن یاہو کو  مقدمات میں معافی کی درخواست وزارتِ قانون کو بھیج دی ہے اور وزارتِ قانون سے اس پر وضاحتین مانگ لی ہیں۔

صدر ہرزوگ کے دفتر کے ایک بیان کے مطابق، صدر اسحاق ہرزوگ کے قانونی مشیر،  مائیکل زوک Michal Tzuk نے، وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کی بدعنوانی کے مقدمے میں معافی کی درخواست کی صدر کی جانب سے جانچ کے دوران وزارت انصاف کے محکمہ معافی سے "اضافی مواد" کی درخواست کی ہے۔

اسرائیلی ایوانِ صدر کے بیان میں کہا گیا ہے کہ "صدر کی رہائش گاہ نے مجرمانہ کارروائی کے اختتام سے قبل معافی کے اختیار کے استعمال کی نظیروں کے بارے میں جسٹس ڈیپارٹمنٹ سے اضافی مواد کی درخواست کی ہے، انہوں نے   سفارتی اشاروں یا یرغمالیوں کی رہائی کی ڈیل کے معاملات میں بھی وضاحتیں مانگی ہیں۔ 

  ایوانِ صدر کے بیان میں واضح کیا گیا کہ صدر کا دفتر  صدر ہرزوگ کی خدمت میں پیش کرنے کے لئے کوئی سفارش مرتب کرنے سے پہلے  پیشہ ورانہ جائزہ کو مکمل کرنے کے حصے کے طور پر جسٹس ڈیپارٹمنٹ سے درکار مواد مانگنے کی کارروائی کر رہا ہے اور اس عمل کو کسی خاص پوزیشن کی سمت جانے کا اشارہ تصور نہیں کیا جانا چاہئے۔"مقدمات کے درمیان واضح اختلافات کے باوجود، درخواست کردہ اضافی معلومات کا تعلق ایک "جاری قانونی عمل کے دوران معافی کے اختیار کے استعمال" سے ہے۔"

صدر ہرزوگ کے دفتر نے مزید کہا کہ "درخواست کردہ جوابات کی وصولی کے بعد، درخواست کی ہینڈلنگ قائم شدہ طریقہ کار کے مطابق جاری رہے گی۔"

پیرڈن ڈیپارٹمنٹ کی سخت ترین سفارش

اسرائیل کے پیرڈن ڈیپارٹمنٹ (محکمہ معافی)  نے اس ماہ کے شروع میں نیتن یاہو کی معافی کی درخواست پر ایک"لیگل پوزیشن پیپر "مکمل کیا۔ پیرڈن ڈیپارٹمنٹ نے اپنے لیگل پوزیشن پیپر میں اس بات کا واضح تعین کر دیا کہ وزیر اعظم کے جاری مقدمے، سزا کی کمی، اور جرم یا پچھتاوے کے اعتراف کی عدم موجودگی کے پیش نظر  ، یہ (معافی کی درخواست) انتہائی مشکل اور  ایسی درخواست ہے جس کی ماضی میں کوئی مثال موجود نہیں۔

Caption اسرائیل کے پرائم منسٹر نیتن یاہو گزشتہ سال  تل ابیب کی دسٹرکٹ عدالت میں بیٹھے اپنے خلاف طوئل عرصہ سے زیر سماعت مقدمات میں اپنی گواہی ریکارڈ کروا رہے ہیں۔ یہ ان مقدمات کے آخری مرحلہ کا تقریباً آگاز ہے لیکن پہلے حماس کے ساتھ جنگ اور اب ایران کے ساتھ جنگ کی وجہ سے یہ عدالتی عمل از حد سست روی کا شکار ہے۔

پیرڈن ڈیپارٹمنٹ نے مزید کہا کہ نیتن یاہو کے لئے درخواست سفارت کاری اور سلامتی سے متعلق مفاد عامہ کے دلائل پر بہت زیادہ انحصار کرتی ہے جلیکن اس درخواست میں یہ اندازہ لگانے کے لیے کوئی مواد نہیں ہے کہ یہ کس طرح مفاد عامہ اور سلامتی کے لئے ضروری ہے کہ نیتن یاہو کو زیر سماعت مقدمات میں معافی دے دی جائے۔

پیرڈن  ڈیپارٹمنٹ نے یہ بھی انتباہ دیا ہے کہ اس طرح کی معافی دینے سے قانون کے سامنے مساوات کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

ابھی یہ درخواست ایوان صدر مین صدر ہرزوگ کے معاونین کے زیر غور ہے اور انہوں نے قانون کے محکمہ سے سوالات کے جواب مانگ لئے ہیں، اس کے بعد صدر کے قانونی معاون اپنی سفارشات کے ساتھ یہ درخواست رسمی طور پر صدر ہرزوگ کے سامنے پیش کریں گے جو کسی مجرم کو معافی دینے کا اختیار رکھتے تو ہیں لیکن بظاہر وہ نیتن یاہو کو زیر سماعت مقدمات میں معافی دینے میں ہرگز دلچسپی نہیں رکھتے۔

صٓدر ہرزوگ گزشتہ ہفتے امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے خود پر نیتن یاہو کو معافی دے دینے کے لئے بے ڈھنگے دباؤ کو سختی سے رد کر کے اسے اسرائیل کی ساورینٹی پر حملہ قرار دے چکے ہیں۔  صدر نے اس معاملہ مین اب تک محض اتنا بتایا ہے کہ جب معافی کی کوئی درخواست ان کے سامنے آئے گی تو وہ غیر جانبداری کے ساتھ اس کو دیکھیں گے۔

یہ بھی پڑھیں: اسرائیل کے صدر نے ٹرمپ کے بیان کو اسرائیل کی سلامتی پر حملہ قرار دے دیا

یہ بھی پڑھیئے:  نیتن یاہوکومعافی نہیں مل سکتی،اسرائیلی وزارتِ انصاف

یہ بھی پڑھیئے: اسرائیلی صدر نے ٹرمپ کی نیتن یاہو کو معاف کرنے کی درخواست مسترد کردی 

صدر اسحاق ہرزوگ اب تک نیتن یاہو کی حکومت کے کئی اقدامات کو آئین اور قانون کے خلاف تصور کرتے ہوئے ان کا راستہ روک چکے ہیں، ان میں عدالتی نظام میں بہت بنیادی تبدیلیاں لا کر ججوں کی آزادی کو مھدود کرنے کے اقدامات اور انڈیپینڈنٹ اٹارنی جنرل سے جان چھڑانے کی نیتن یاہو کی کوششوں  کی مزاحمت سمیت  اقدامات کی ایک طویل فہرست ہے۔