طالبان وفدکاجواب انتہائی احمقانہ ہے،وہ کہتےہیں ٹی ٹی پی ہمارا مسلہ نہیں ہے؛سلیم بخاری
Stay tuned with 24 News HD Android App
(فرخ احمد)سینئر صحافی و تجزیہ کار سلیم بخاری نے کہا ہے کہ ٹی ٹی پی پاکستان میں دہشتگردی کر رہا ہے اس کی سہولت کاری افغانستا ن سے ہو رہی ہے جبکہ طالبان وفد کا جواب انتہائی احمقانہ ہے وہ یہ کہتے ہیں کہ ٹی ٹی پی ہمارا مسلہ نہیں ہے۔
24نیوز کے پروگرام ’سلیم بخاری شو‘ میں تجزیہ کرتے ہوئے سینئر صحافی نے پاک افغان مذاکرات کی آخری کوشش، افغان وفد کے مؤقف میں بار بار تبدیلی پر اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ آج مذاکرات کے چوتھے دور کا آغاز ہوچکا ہے ان مذاکرات کا کیا نتیجہ نکلتا ہے، ابھی ا س کے متعلق پیشگوئی کرنا مشکل ہے۔
انہوں نے پاکستان کی ڈیمانڈ کے متعلق بتایا کہ پاکستان کا بنیادی ایشو یہ ہے کہ جو ٹی ٹی پی پاکستان میں دہشتگردی کر رہا ہے اس کی سہولت کاری افغانستا ن سے ہو رہی ہے جہاں سے اس کو اسلحہ اور سرمایہ فراہم کیا جارہا ہے اور ان کو آزادی سے گھومنے پھرنے کی اجازت دی جارہی ہے تاہم اس کے جواب میں طالبان وفد کا جواب انتہائی احمقانہ ہے وہ یہ کہتے ہیں کہ ٹی ٹی پی ہمارا مسلہ نہیں ہے،یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ جو سرزمین ٹی ٹی پی والے استعمال کر رہے ہیں جہاں سے ان کو اسلحہ مل رہا ہے جہاں ان کو ٹریننگ مل رہی سرمایہ مل رہے، وہ افغان سرزمین ہے وہ یہ کیسے کہ سکتے ہیں کہ یہ ان کا مسئلہ نہیں ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نےان کو بار بار یہ باور کرایا ہے،طالبان کی پوسٹوں پر قبضہ کر کے بھی بتایا ہے کہ یہ وہ جگہیں ہیں جہاں سے طالبان اپریٹ کر رہے ہیں اور پاکستان کے اندر دہشت گردی کر رہے ہیں۔
سلیم بخاری کا کہنا تھا کہ جب پاکستان کے موقف کو ساری دنیا نے مانا ہے کہ یہ درست ہے تو افغانستان کو پھر یہ تسلیم کرنے میں کیا مسئلہ ہے،طالبان رجیم کسی اور کے ایجنڈے کے تحت ایسا کر رہی ہے،یہ ایجنڈا ان کا اپنا نہیں ہے،یہ ایجنڈا ہے بھارت کا،انٹیلی جنس رپورٹ کے مطابق افغان وفد اور ان کی حکومت مسلسل بھارت کے ساتھ رابطےمیں ہیں اور جو ہدایات ان کو وہاں سے مل رہی ہیں اس پر عمل کر رہے ہیں۔
جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی آرمی چیف کا حماس کیخلاف جنگ جاری رکھنےکا اعلان
اسرائیلی فوج کے سربراہ کے بیان پر’’جنگ بندی معاہدے کے باوجود اسرائیل جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی، ہمیں اپنے مشن کو مکمل کرنا ہے، مغویوں کی واپسی اور حماس کے خلاف مہم جاری رکھنی ہے‘‘پرسلیم بخاری نےکہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جو دعویٰ کر تے ہیں کہ انہوں نے جنگیں رکوائی ہیں اور انہوں نے غزہ کی جنگ بندی کا بھی کریڈٹ لیا ہے لیکن غزہ میں تو جنگ بندی ہوئی ہی نہیں،جب سے جنگ بندی ہوئی ہے غزہ میں فلسطینیوں کا قتل عام جاری ہےاور اب تک100سے زیادہ شہادتیں ہو چکی ہیں اور سونے پرسہاگہ اسرائیلی فوج کے سربراہ کا یہ بیان کہ جنگ بندی معاہدے کے باوجود اسرائیل کو یہ اختیار ہے کہ کہیں بھی فلسطنیوں پر حملہ آور ہو سکتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ کے سوچنے کا مقام ہے کہ ان کے دعوے اور حقیقت میں بہت فرق ہے۔
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی جارحانہ حکمت عملی، پارٹی میں اختلافات کا شکار
سلیم بخاری نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے اندر اختلافات،سینئر رہنماؤں کےخیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور پارٹی کے صوبائی صدر جنید اکبر کے حالیہ جارحانہ بیانات پر سخت تحفظات کے حوالے سےکہاکہ ایک بات جو تحریک انصاف والوں کو سمجھ نہیں آرہی وہ یہ ہے کہ جو اکاائیاں ہوتی ہیں وہ مرکز کے تعاون کے بغیر کچھ نہیں ہوتیں اور وفاق کے بغیر کوئی اکائی اپنا کاروبار چلا نہیں سکتی۔
اگر کوئی صوبہ وفاق کو ہی چیلنج کرنا شروع کردے تو جو تناو کی کیفییت پیدا ہوگی کیا وہ کسی بھی مملکت کے لیے زہر قاتل ثابت ہوگی،انہوں نے کہا کہ جنید اکبر اور سہیل آفریدی دونوں رہنماؤں کی جانب سے اختیار کیے جانے والے لب و لہجے کی وجہ سے پی ٹی آئی کی اہم شخصیات بھی پریشان ہوگئی ہیں اور انہیں خدشہ ہے کہ ایسا جارحانہ رویہ خیبر پختونخوا میں پارٹی کی حکومت کو خطرے میں ڈال سکتا ہے،جن لوگوں نے تحفظات کا اظہار کیا ہے اُن میں پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان، سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور، سینیٹر شبلی فراز، شیخ وقاص اکرم اور دیگر شامل ہیں۔
سلیم بخاری کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے اندر یہ تشویش بڑھتی جا رہی ہے کہ ملٹری اسٹیبلشمنٹ کو ہدف بنانے کیلئے کھل کر اشتعال انگیز بیانات دینے سے عدم استحکام پیدا ہو سکتا ہے اور ممکنہ طور پر 9 مئی جیسی صورتحال دوبارہ پیدا ہو سکتی ہے جس سے پارٹی قیادت یقیناً بچنا چاہتی ہے تو اب نو منتخب وزیر اعلیٰ کو بھی اپنے رویے کو جمہوری انداز کے مطابق ڈھالنا ہوگا اور اپنے صوبے کے عوام کی خدمت کرنا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں : کرپشن معاملات، ڈی جی این سی سی آئی اے وقار الدین سید تبدیل