کیوبا اگلا ہدف؟ ٹرمپ کے بیان نے عالمی سطح پر نئی بحث چھیڑ دی
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ویب ڈیسک)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایک حالیہ بیان نے عالمی سطح پر نئی بحث چھیڑ دی ہے، انہوں نے میامی میں ایک سرمایہ کاری فورم کے دوران کہا ہے کہ کیوبا اگلا ہدف ہے۔
اپنی تقریر میں ٹرمپ نے کہا کہ میں نے ایک طاقتور فوج بنائی، لیکن کبھی کبھی اسے استعمال کرنا پڑتا ہے اور ویسے، کیوبا اگلا ہے مگر یہ بات بھول جائیں۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا پہلے ہی ایران اور وینزویلا میں اپنی کارروائیوں کو کامیاب قرار دے رہا ہے، تاہم صدر ٹرمپ نے یہ واضح نہیں کیا کہ کیوبا کے حوالے سے ان کا اگلا قدم کیا ہو گا، جس سے صورتِحال مزید غیر یقینی ہو گئی ہے۔
Over the past 27 days, the U.S. armed forces, most powerful in the world, have been annihilating Iran's military capacity with force, precision, skill like the world has never seen. pic.twitter.com/2vk2McGBBP
— The White House (@WhiteHouse) March 27, 2026
رپورٹس کے مطابق ٹرمپ کا ماننا ہے کہ کیوبا کی حکومت شدید معاشی بحران کے باعث کمزور ہو چکی ہے اور جلد گر سکتی ہے، اسی دوران امریکا اور کیوبا کے درمیان پسِ پردہ مذاکرات بھی جاری ہیں تاکہ ممکنہ تصادم سے بچا جا سکے۔
دوسری جانب کیوبا کے صدر نے تصدیق کی ہے کہ امریکا کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، جن کا مقصد ممکنہ فوجی کشیدگی کو روکنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ایران کیخلاف جنگ بڑھی تو براہِ راست فوجی مداخلت کریں گے: حوثیوں کی وارننگ
معاشی ماہرین کے مطابق کیوبا اس وقت شدید بحران کا شکار ہے، خاص طور پر وینزویلا سے تیل کی فراہمی بند ہونے کے بعد ملک میں ایندھن، بجلی اور ٹرانسپورٹ کے مسائل بڑھ گئے ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کے اس بیان سے ناصرف لاطینی امریکا بلکہ عالمی سطح پر بھی بے چینی میں اضافہ ہوا ہے، کیونکہ یہ اشارہ ممکنہ فوجی یا سیاسی مداخلت کی طرف جا سکتا ہے۔