ہم امریکی تجاویز کا جواب دینے والے تھے، امریکہ نے حملہ کر دیا، ایرانی حکام کا اسرائیلی حملوں کےبعد احتجاج
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ویب ڈیسک ) ایران کے وزیرخارجہ عباس عراقچی نے جمعہ کے روز ایران پر ہونے والے اسرائیلی حملوں کے بعد ان حملوں میں امریکہ کو بھی ملوث قرار دے دیا اور کہا کہ یہ حملے ٹرمپ کے دس روز تک سفارت کاری کے لئے دی گئی مہلت کی نفی ہیں۔
الجزیرہ نیوز نے رپورٹ کیا کہ ایران کا کہنا ہے کہ مذاکرات کا مطالبہ کرتے ہوئے امریکی حملے ’ناقابل برداشت‘، جواب غیر طے شدہ ہے۔
الجزیرہ کے مطابق ایک سینئر ایرانی اہلکار کا کہنا ہے کہ ایران پر" امریکی حملے " ایک ہی وقت میں مذاکرات کا مطالبہ کرتے ہوئے "ناقابل برداشت" ہیں، اس اہلکار نے مزید کہا کہ تہران نے ابھی یہ فیصلہ نہیں کیا ہے کہ آیا صنعتی اور جوہری انفراسٹرکچر پر حملوں کی وجہ سے امریکی تجویز کا جواب دینا ہے یا نہیں۔
اہلکار نے مزید کہا کہ امریکی تجاویز پر ایران کا ردعمل اصل میں آج یا کل پیش کیے جانے کی توقع تھی۔
اسرائیل نے جمعہ کے روز کیا کیا تھا
اسرائیل کی ائیر فورس نے جمعہ کے روز صبح ہونے سے پہلے ایران کے کئی علاقوں میں متنوع ٹارگٹس پر بمباری کی جن میں دو نیوکلئیر پلانٹس کے ساتھ کم از کم ایک بجلی گھر بھی تھا اور ایک سٹیل فیکٹری۔ جس بجلی گھر پر ائیر سٹرائیکس ہوئین اس کی پیداوار صلاحیت مبینہ طور پر ڈھائی سو میگا واٹ تھی اور اس بجلی گھر کی مالک سرکاری کمپنی نے کہا ہے کہ یہ کارخانہ بری طرح ڈیمیج ہوا ہے۔
یہ بھی پڑھیئے: اسرائیل پر میزائلوں کی بارش؛ ایران پر حملے شدید کرنے کی دھمکی
یہ بھی پڑھیئے: ایران کے اسرائیل، عرب ملکوں پر میزائل حملے، کویت کی بندرگاہیں نشانہ بنیں
ایرانی وزیرخارجہ عباس عراغچی کو امریکہ نے سفارت کاری میں کردار ادا کرنے کے لئے اپنی ہٹ لسٹ سے عارضی طور پر نکال رکھا ہے۔ امریکہ کے صدر ٹرمپ نے حال ہی میں اعلان کیا کہ وہ ایران کے بجلی گھروں پر حملوں کے اپنے منسوبے کو مزید دس روز کے لئے مؤخر کر رہے ہیں۔ اس اعلان کے بعد جمعہ کے روز اسرائیل نے ایران کے کم از م ایک بجلی گھر کو تباہ کر ڈالا۔
ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ کارروائی امریکہ کے ساتھ مکمل ہم آہنگی کے ساتھ کی گئی ہے۔
ایرانی حکام کہہ رہے ہیں کہ ان حملوں نے امریکی صدر کی جانب سے سفارت کاری کے لیے دی گئی اضافی مہلت کی نفی کر دی ہے۔
ایران نے خبردار کیا ہے کہ وہ "اسرائیلی جرائم" کی بھاری قیمت وصول کرے گا۔
اس سے پہلےایران اسرائیل میں سب سے بڑے بجلی گھر پر میزائل حملہ کر چکا ہے جس سے اس پلانٹ کا کوئی نقصان نہیں ہوا تھا کیونکہ میزائل بجلی گھر سے کچھ فاصلے پر گرا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: ایران بار بار مذاکرات کی درخواست مسترد کررہا ہے : اسٹیو وٹکوف