سوات، خوازہ خیلہ چالیار میں14 سالہ طالبعلم کا قتل،مرکزی ملزمان کو گرفتار
Stay tuned with 24 News HD Android App
(حیدر علی جان)سوات کے علاقے خوازہ خیلہ چالیار میں 14 سالہ طالبعلم فرحان ایاز کے قتل کیس میں پولیس نےبڑی کامیابی حاصل کرتے ہوئے مرکزی ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔
ڈی پی او سوات محمد عمر خان کے مطابق واقعے میں ملوث مرکزی ملزم قاری عمر اور اس کا بیٹا احسان اللہ کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ایس پی اپر سوات شوکت علی خان کا کہنا ہے کہ فرحان ایاز قتل کیس میں ملوث مرکزی ملزم قاری عمر اور اس کا بیٹا احسان اللہ گرفت میں آ گئے، دونوں ملزمان نے معصوم بچے پر بہیمانہ تشدد کیا، جس کے نتیجے میں وہ جاں بحق ہو گیا،واقعے کے بعد پولیس نے موقع پر ہی 10 افراد کو گرفتار کیا تھا، تاہم مرکزی ملزمان فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے تھے،پولیس نے انتھک کوششوں کے بعد دونوں مرکزی ملزمان کو گرفتار کر لیا، سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی کئی خبریں بے بنیاد تھیں،نہ تو کسی نے ملزمان کو مارا تھا اور نہ ہی انہوں نے بھیس بدلنے کی کوشش کی۔
یاد رہے کہ یہ افسوسناک واقعہ 21 جولائی کو پیش آیا تھا، جس میں مدرسے کے اندر ایک بچے کو مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنا کر قتل کیا گیا تھا۔ ابتدائی کارروائی کے دوران پولیس نے 10 ملزمان کو موقع پر گرفتار کیا تھا، تاہم مرکزی ملزمان فرار ہو گئے تھے، جنہیں اب انتھک کوششوں کے بعد گرفتار کر لیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:شکارپور ،تیز رفتار کار بے قابو ہوکر الٹ گئی ، 2 خواتین جاں بحق