پٹرول موٹر سائیکل رکشے کی پروڈکشن پر پابندی لگانے کا فیصلہ

پنجاب میں گھروں کی سطح پر پانی سے گاڑیاں دھونے پر بھی مکمل پابندی عائد کر دی گئی

Nov 27, 2025 | 16:07:PM
 پٹرول موٹر سائیکل رکشے کی پروڈکشن پر پابندی لگانے کا فیصلہ
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(راؤ دلشاد)پنجاب حکومت نے پٹرول موٹر سائیکل رکشے کی پروڈکشن پر پابندی لگانے کا فیصلہ کرلیا۔
صوبے میں پٹرول موٹر سائیکل کی پروڈکشن بھی مرحلہ وار بند کرنے کا اصولی فیصلہ کرلیاگیاہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی زیر صدارت انسداد اسموگ کابینہ کمیٹی کا خصوصی اجلاس ہوا،اجلاس میں فیصلہ کیاگیاکہ سرکاری اداروں کیلئے صرف الیکٹرک، ہائبرڈ گاڑیاں اور الیکٹرک موٹرسائیکلزخریدی جائیں گی۔
 اجلاس میں پنجاب میں گھروں کی سطح پر پانی سے گاڑیاں دھونے پر بھی پابندی عائد کردی گئی۔
وزیراعلی پنجاب نےماحولیاتی بہتری کے اقدامات پر اظہاراطمینان کرتے ہوئے ٹیم کو شاباش دی اور بھٹوں پر بچوں کی مشقت پر مکمل پابندی کے خلاف مہم کی بھی حوصلہ افزائی کی۔
وزیراعلیٰ پنجاب نے چائلڈ لیبرپر زیرو ٹالرنس پالیسی اختیار کرنے کی بھی ہدایت کی اورکہاکہ ٹیکنالوجی کا استعمال جدت کی علامت ہے، پنجاب کو ٹیکنالوجی کی ترقی کی مثال بنانا ہے۔
مریم نوازنے اس موقع پر کہاکہ ڈیڑھ سال میں جو کچھ حاصل کیا آئندہ اسے مزید بہتر بنانا ہے، جس جذبے، محنت ،توجہ سے اداروں اور ٹیم نے کام کیا وہ لائق تحسین ہے،شہریوں کے بھی مشکور ہیں جنہوں نے حکومت اور اداروں سے بھرپور تعاون کیا۔
اجلاس میں جدید دنیا کی طرح پورے پنجاب میں رنگ دار کوڑے دان لگانے کا فیصلہ کرتے ہوئے کہاگیاکہ پلاسٹک اور زہریلا دھواں پیدا کرنے والی اشیاء جلانے پر سخت سزا دی جائے، شہریوں کی صحت اور ماحول کو نقصان پہنچانے پر کوئی رعایت نہ برتی جائے،مقررہ معیار سے زیادہ دھواں دینے والی گاڑیوں کی مستقل بنیادوں پر ٹیسٹنگ کے لئے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت مختلف ورکشاپس مقرر کرنے کی منظوری بھی دی گئی۔
پنجاب کی سینئر وزیر مریم اورنگزیب نے سموگ کے تدارک اور فضائی معیار کی بہتری کے لئے اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی اوربتایاکہ پنجاب کا پہلاسٹیٹ آف دی آرٹ ایئر کوالٹی مانیٹرنگ نیٹ ورک قائم کیا جا چکا ہے،اے کیو آئی فور کاسٹ سسٹم کے ذریعے اب سموگ اور فضائی معیار کی بروقت نشاندہی ممکن ہوگئی ہے،سموگ گنز کے استعمال سے مقامی مقامات میں ماحولیاتی آلودگی میں نمایاں کمی آئی ہے، مختلف علاقوں میں آلودگی کے خاتمے کا جامع آپریشن جاری ہے،لاہور اور مضافات میں فصلیں جلانے کے واقعات میں88 فیصد کمی آئی،فصلیں جلانے کے واقعات کے تدارک کے لئے ڈرون سے نگرانی کی جا رہی ہے،سٹیلائٹ ٹریکنگ سرویلنس سے بروقت نشاندہی کی وجہ فصلیں جلانے کے واقعات میں نمایاں کمی آئی، فصلیں جلانے کے واقعات پر فوری کارروائی کے لیے کوئیک رسپارنس سنٹر اور فورس قائم کی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: چالان جمع نہ کروانے والی گاڑیوں کیخلاف کریک ڈاؤن،سرکاری گاڑیاں پکڑی گئیں
مریم اورنگزیب نےاجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایاکہ ملک کا پہلا ایکو چیٹ بوٹ قائم کیا جا چکا ہے، موبائل ایپلی کیشن اور پبلک ڈیش بورڈ بھی پوری طرح فعال کر دیا گیا ہے،18 اضلاع میں 41 ایئر کوالٹی مانیٹرنگ کام کر رہے ہیں،تمام اضلاع کے لئے مزید 100ایئر کوالٹی مانٹیرنگ سینسرز نصب کرنے کے لئے اگلے سال کی ڈیڈ لائن مقرر کی گئی ہے،پنجاب کے پہلے ایمیشن ٹیسٹنگ سسٹم کے ذریعے 3 لاکھ گاڑیوں کی ٹیسٹنگ مکمل ہو چکی ہے،مستقل انوائرمنٹ مانیٹرنگ کے لئے پنجاب سیف سٹی اتھارٹی میں سموگ وار روم قائم کر دیا گیا ہے،8500 سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد سے انڈسٹری، کار واش اسٹیشن اور ڈسٹ ہاٹ سپاٹ کی ڈیجیٹل نگرانی ہو رہی ہے۔
مریم اورنگزیب نےاجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایاکہ ماحولیاتی آلودگی کا سبب بننے والے 450 سے زائد انڈسٹریل یونٹ مسمار کئے گئے، 23 کروڑ روپے جرمانہ بھی عائد کیا گیا،انڈسٹری انوائرمنٹ کنٹرول کے لئے سی سی ٹی وی کیمرے نصب، نائٹ مانیٹرنگ سسٹم فعال ہو چکا ہے، سپیشل نائٹ سکواڈ بھی متحرک ہیں، نائٹ سکواڈ نے ماحولیاتی آلودگی پھیلانے والے 100 سے زائد یونٹ مسمار کئے،2200 بھٹے مسمار،2336 سیل کر دیئے گئے،پلاسٹ بیگ کے خاتمے کے لیے پنجاب کی تاریخ سب سے بڑی مہم شروع کی گئی،26ہزار کاروباریوں نے مضر صحت پلاسٹک استعمال نہ کرنے کا عہد کیا، صوبے بھر میں ٹائر، بیٹری جلانے اور چربی پگھلانے کے کارخانوں کے خلاف  بھی کریک ڈاؤن جاری ہے،ڈیجیٹل انفورسمنٹ ایکو سسٹم کے تحت گرین پنجاب ایپ، 373ہیلپ لائن اور ایکو واچ ایپ کے ذریعے عوام شکایات کر سکتے ہیں، سکولوں، کالجز اور یونیورسٹیوں میں ماحولیاتی آلودگی سے آگاہی کے لئے خصوصی آگاہی مہم بھی جاری ہے،پہلی مرتبہ پنجاب گرین سکول سرٹیفکیشن پروگرام شروع کیا گیا ہے، لاہور کے ارد گرد 112 کلومیٹر کے علاقے میں 21 لاکھ درختوں کا حصار بنایا گیا، شجرکاری کا یہ سلسلہ تیزی سے جاری ہے،رنگ روڈ پر 2 لاکھ، لنگز آف لاہور کے تحت 4 لاکھ، ہڈیارہ میں 15 ہزار درخت لگائے جا چکے ہیں،30 پارکوں کے علاوہ ریلوے کے 40 کلومیٹر ٹریک کے اطراف بھی شجر کاری ہوئی ہے اور یہ سلسلہ جاری ہے۔