ٹرمپ نے امریکی کابینہ کے خاص اجلاس میں پاکستانی پرچم بردار آئل ٹینکرز کا ذکر کیوں کیا؟ 

Mar 27, 2026 | 00:23:AM
ٹرمپ نے امریکی کابینہ کے خاص اجلاس میں پاکستانی پرچم بردار آئل ٹینکرز کا ذکر کیوں کیا؟ 
کیپشن: امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنی کابینہ کے ارکان کے ساتھ میٹنگ میں پاکستان کے پرچم بردار ٹینکروں کے آبنائے ہرمز سے گزرنے کا ذکر کر رہے ہیں۔ ان کی یہ سکرین شوٹ، سوشل پلیٹ فارم ایکس پر موجود ایک ویڈیو کلپ سے لی گئی۔
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک)  امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی کابینہ کے ساتھیوں کو بتایا  کہ ایران کے ساتھ مزاکرات کے لئے وہ پر امید ہیں اور آبنائے ہرمز سے پاکستانی پرچم بردار جہازوں کا بلا روک توک گزرنے کے متعلق ایران کے نمائندوں نے امریکیوں کو آگاہ کر دیا تھا اور یہ ایک اشارہ ہے کہ ایرانی  جنگ بندی چاہتے ہیں۔ 

"پاکستان  کی پرچم بردار آئل کنٹینرز کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت ملنا"  ایران کی طرف سے ایک گڈ وِل کا اظہار تھا۔ امریکہ کے صدر  ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ تبصرہ آج  26 مارچ 2026 کو کابینہ کے اجلاس کے دوران ایران کے ساتھ جنگ ​​اور مذاکرات پر گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

 صدر ٹرمپ نے اصل میں کیا کہا

اپنی کابینہ کے ایک کروشیل اجلاس میں صدر ٹرمپ نے انکشاف کیا کہ ایران نے تقریباً 8-10 آئل ٹینکرز کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دی تھی، اور انہوں نے اسے "موجودہ" یا جذبہ خیر سگالی کے طور پر بیان کیا۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایرانی مذاکرات کاروں نے انہیں کچھ اس طرح کہا: "ہم آپ کو تیل کی آٹھ کشتیاں ... بڑی کشتیاں دینے جا رہے ہیں۔"

بعد میں اطلاعات کے مطابق یہ تعداد دس ٹینکرز ہو گئی۔

امریکہ کی کابینہ کے اہم اجلاس میں پاکستان کا ذکر کیوں ہوا

میڈیا میں صدر ٹرمپ کا  پاکستانی پرچم بردار آئل ٹینکرز کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی ایران کی جانب سے اجازت ملنے کے حوالے سے انکشاف کے بعد سے یہ سوال  سامنے آ رہا ہے کہ امریکہ کی کابینہ کے اجلاس میں پاکستان کا ذکر کیوں کیا گیا؟

آبنائے ہرمز سے کئی ایسے تیئل بردار جہاز بلا روک ٹوک گزر آئے جن پر  پاکستانی پرچم لہرا رہے تھے۔ ٹرمپ نے جہازوں کے گزرنے میں ایران کی طرف سے کوئی مزاحمت نہ کئے جانے کو "ایران کی طرف سے گفٹ" بیان کیا لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ کوئی تیل پاکستان کو تحفے میں دیا گیا۔ اس کے بجائے ٹرمپ یہ بتا رہے تھے کہ یہ آئل ٹینکر  پاکستان کے جھنڈے والے آئل ٹینکرز تھے۔
انہیں آبنائے ہرمز سے بحفاظت گزرنے دیا گیا۔
ٹرمپ نے اس کی تشریح ایک اشارہ کے طور پر کی ہے کہ ایران مذاکرات کے لیے مائل ہو سکتا ہے۔

شپنگ میں، ٹینکرز اکثر رجسٹریشن کی وجہ سے کسی ملک کا جھنڈا ل آویزاں رکھتے ہیں، اس لیے ضروری نہیں کہ پاکستان کے جھنڈے والا جہاز پاکستان کا  ہی ہو یا  یہ سب جہاز تیل پاکستان لے جا رہے ہوں۔

کابینہ کے اجلاس مین صدر ٹرمپ کا یہ بیان  آبنائے ہرمز کے ارد گرد کی کشیدہ صورتحال  سے نمٹنے کی اپنی کوششوں سے متعلق ہے۔ آبنائے ہرمز  تیل کی کئی خلیجی ملکوں سے ان کے گاہک ممالک کو ترسیل  کا ایک اہم عالمی راستہ ہے۔ اور اس حوالے سے تیل کی انترنیشنل مارکیٹ بہت حساس ہے۔ پٹرولیم کی قیمتیں بڑھنے کی وجہ اس راستے سے تیل کے ٹینکر گزرنے یا نہ گزرنے ک متعلق خدشات ہیں۔

موجودہ تنازعہ کے دوران ایران نے آبنائے میں جہاز رانی کو محدود یا دھمکی دی تھی اور پھر اس پر عمل بھی کیا۔
لیکن گزشتہ روز کچھ پاکستانی پرچم بردار  ٹینکرز کو گزرنے کی اجازت دینا ڈی ایسکلیشن (کشیدگی میں کمی) یا گفت و شنید کا اشارہ دے سکتا ہے۔
ٹرمپ نے اس کو یہ دلیل دینے کے لیے استعمال کیا کہ ایران مذاکرات یا ڈیل چاہتا ہے۔


ٹرمپ کے اس بیان کی مِس رپورٹِنگ بھی ہوئی

کچھ  میڈیا آؤٹ لیٹس کی ہیڈ لائنز   یا سوشل میڈیا پوسٹس نے اس منعاملہ کو حقیقت سے زیادہ آسان بنایا اور اسے اس طرح بتایا: ’ایران نے پاکستان کو تیل کی کشتیاں تحفے میں دیں" یا "ٹرمپ پاکستان کو تیل کی کشتیاں دے رہا ہے"

لیکن حقیقت یہ ہے کہ:

 ایران نے آبنائے پاکستان کے جھنڈے والے آئل ٹینکرز کو جانے کی اجازت دی۔
 ٹرمپ نے اسے سفارت کاری میں "تحفہ" یا خیر سگالی کا اشارہ قرار دیا۔
پاکستان کو تیل کا کوئی جہاز تحفے میں نہیں دیا گیا۔