اَمن کا وقت آ چکا ,جنگ بندی کی خلاف ورزی سے اجتناب ضروری

تحریر:سید عبدلطیف شاہ

Jun 27, 2025 | 23:50:PM
 اَمن کا وقت آ چکا ,جنگ بندی کی خلاف ورزی سے اجتناب ضروری
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

 امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران اسرائیل جنگ بندی کا اعلان کیا اور اس کی اطلاع اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ”ٹرتھ ٹریکر“ پر پوسٹ کے ذریعے دی‘جس میں اُنہوں نے کہا کہ ایران اور اسرائیل نے جنگ بندی پر اتفاق کر لیا ہے, اِس جنگ کے باضابطہ اختتام کو دنیا سلام کرے گی،اب اَمن کا وقت آ چکا ہے، جنگ بندی نافذ العمل ہے، اِس کی خلاف ورزی کرنے سے اجتناب کیا جائے یہ ایسی جنگ تھی جو نہ صرف سالوں تک جاری رہ سکتی تھی بلکہ پورے مشرق وسطیٰ کو تباہ بھی کر سکتی تھی لیکن ایسا ہوا نہ کبھی ہو گا‘ اس جنگ کے بارے  سلیم بخاری نے بہت درست تجزیہ کیا  ہے.

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کو فون کیا اور کہا کہ بس بہت ہوگیا‘  اس اعلان کے بعدایران کے سرکاری ٹیلیویژن نے بھی جنگ بندی نافذ العمل ہونے کا پیغام جاری کیا جس کے بعد تہران کی سڑکوں پر لوگوں نے خوشیاں منائیں۔ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ”ایکس“ پر کہا کہ اسرائیلی جارحیت کے خلاف ایران کی مسلح افواج کی جوابی کارروائیاں آخری وقت تک جاری رہیں، وطن کے دفاع میں کسی بھی لمحے نرمی نہیں دکھائی گئی ایران نے دشمن کے ہر حملے کا منہ توڑ جواب دیا اور جنگ بندی سے قبل ہر ممکن مزاحمت کی امریکی صدر نے اسرائیل کو آئندہ حملے نہ کرنے کی تنبیہ کی جس کے بعد اسرائیلی وزیراعظم نے ایران پر حملے نہ کرنے کی یقین دہانی کرائی ایرانی جوہری تنصیبات پر حملوں کے بعد پوری دنیا کو یہی لگ رہا تھا کہ مشرقِ وسطیٰ جنگ کے شعلوں کی لپیٹ میں آ چکا ہے.

ایران کی طرف سے جوابی حملوں کے بعد جنگ مزید پھیلنے کی قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں،اس نے قطر میں قائم امریکی اڈے پر حملہ بھی کیا، جس سے ہلچل مچ گئی، پھر اچانک امریکی صدر کی طرف سے جنگ بندی کا اعلان سامنے آ گیا ،امریکی صدر نے یہ بھی کہا کہ تہران نے جو کچھ کرنا تھا وہ کرلیا ہے، اُمید ہے مزید نفرت نہیں ہوگی،اب شاید ایران خطے میں اَمن اور ہم آہنگی کی طرف بڑھ سکتا ہے ایران اسرائیل جنگ کا آغاز 13 جون 2025ء کو ہوا،اسرائیل نے ایران پر الزام لگایا کہ وہ جوہری پروگرام کو وسعت دے رہا ہے اور ایٹم بم بنانے کے بہت نزدیک ہے،اِسی کو بنیاد بنا کر اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا اور اس کی فوجی قیادت کے علاوہ درجن بھر سے زائد سینئر ترین جوہری سائنسدانوں کو نشانہ بنایا۔

 جواب میں ایران نے ”آپریشن وعدہ صادق سوم“ کا آغاز کیا، بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونوں کے ذریعے اسرائیل کے فوجی اور انٹیلی جنس مراکز کو نشانہ بنایا۔اسرائیل اور ایران کے درمیان یہ عداوت اسرائیل کے قیام ہی سے جاری ہے جو کہ فلسطین پر اسرائیل کے ناجائز تسلط اور وحشیانہ جبر کی وجہ سے مزید بڑھ گئی۔ اسرائیل کے نزدیک ایران نے اُس کے خلاف خطے کے دیگر ممالک میں مختلف پراکسیز بنا رکھی ہیں جن کے ذریعے وہ اسرائیل پر حملہ آور ہوتا رہتا ہے،اِس کے علاوہ اسے ایران کا جوہری پروگرام شروع سے ہی کھٹکتا ہے اور وہ بضد ہے کہ اُسے جوہری ہتھیار نہیں بنانے دے گا.

 سلیم بخاری جیسے تجزیہ کار اور دفاعی ماہرین کے نزدیک حالیہ جنگ میں اسرائیل نے ایران کو ناقابل ِ تلافی نقصان پہنچایا تاہم ایران نے بھی اسرائیل کو جواب دیا، اسرائیل کی خواہش کے مطابق ایرانی حکومت کی تبدیلی ممکن نہیں ہو سکی،بلکہ اس کے برعکس ایران میں مخالف قوتیں بھی موجودہ ایرانی حکومت کے ساتھ آ کھڑی ہوئیں۔ پاکستان، ترکیہ اور عرب ممالک کے علاوہ بھی دنیا کے زیادہ تر ممالک نے سفارتی سطح پر ایران کا ساتھ دیا اور آخر کار امریکی صدر نے بھی یہ کہہ دیا کہ وہ ایران میں حکومت کی تبدیلی میں کسی قسم کی کوئی دلچسپی نہیں رکھتے، اِس سے افراتفری بڑھتی ہے جو وہ نہیں دیکھنا چاہتے، وہ سب کچھ پُرسکون دیکھنا چاہتے ہیں یہ ضروری ہوگیا ہے کہ جس طرح جنگ بندی فیصلے کے اطلاق کے مقررہ وقت کو فوجی فوائد کے حصول کیلئے بے دریغ بمباری جیسے ہتھکنڈوں کو امریکی صدر نے ذاتی نگرانی اور پائلٹس واپس بلوانے کے پیغامات کی صورت میں نئے مخمصوں سے بچانے کی تدابیر پر توجہ دی جائے اور زمین پر فتنہ و فساد کی نئی صورتوں سے بچنے کی کوششیں کی جائیں .

اسرائیل ایران جنگ کی صورت میں ایک بڑی تباہی بہت قریب سے ہوکر گزر گئی ہے،اس نوع کے مزید خطرات سے بچنے کیلئے عالمی طاقتوں کو محتاط رہنا چاہئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگ کے آخری روز اپنے پیغام میں سیز فائر کا اعلان کرتے ہوئے جہاں اس امر کی نشاندہی کی کہ تل ابیب اور تہران دونوں نے ایک ہی وقت میں جنگ بندی کی خواہش کے ساتھ ان سے رابطہ کیا تھا، وہاں جنگ بندی اعلان کو دنیا اور مشرق وسطیٰ کی فتح قرار دیا۔

 اس دوران کیا مراحل سامنے آئے، جنگ بندی کے ابتدائی گھنٹوں کے دوران کیا کچھ ہوا، صدر ٹرمپ کا اس دوران کیا کردار رہا، دوسرے رہنماؤں کی امن کاوشیں کس کس انداز میں جاری رہیں، ان سوالات کی اپنی اہمیت ہے جبکہ مستقبل میں سامنے آنے والے بعض سوالات بھی اہم ہونگے، قطری وزیراعظم محمد بن عبدالرحمٰن،لبنانی وزیراعظم کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں جب یہ کہتے نظر آرہے ہیں کہ اگلے دو دنوں میں حماس اور اسرائیل کے درمیان بالواسطہ مذاکرات ہوسکتے ہیں تو یہ ایک اور اچھی خبر ہے۔

واضح رہے کہ قطر اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ کا بھی ثالث ہے۔ قطری وزیراعظم نے امریکی فوجی اڈے کو جواز بنا کر کی گئی کارروائی کو قطری عوام کے لئے ایک جھٹکا قرار دیاہ حملے دونوں ممالک کے تعلقات پر اثر ڈالیں گے۔ ایرانی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ حملہ العدیدیہ کے امریکی بیس پر کیا گیا تھا ہمارے برادر، دوست ہمسایہ ملک قطر سے ہرگز متعلق نہیں تھا۔ غزہ وہ مقام ہے جو اسرائیلی نسل پرستی کے ہاتھوں ایک بڑی قتل گاہ بن چکا ہے جہاں بچوں اور خواتین سمیت لوگوں کو گولیوں اوردھماکوں کا ہی نہیں، بھوک اور پیاس جیسی اذیتوں کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔

قطری وزیراعظم اس ضمن میں دیگر ممالک کیساتھ اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں مگر عالمی برادری کا فعال کردار سامنے آنے کی ضرورت اب بھی باقی ہے۔ پاکستان ایک طرف غزہ میں بہیمیت رکوانے کیلئے سرگرم ہے، دوسری جانب مشرق وسطیٰ سمیت عالمی امن کی کوششوں میں موثر کردار ادا کر رہا ہے وزیراعظم شہباز شریف نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اور ایران کے صدر پیزیشکیان سے رابطے میں رہے اور ہیں‘ حالیہ کشیدگی کے دوران خطے میں امن اور سعودی عرب کی خودمختاری و سالمیت کیلئے پاکستان عزم کا اعادہ بھی کیا گیا۔ وزیراعظم نے چین، سعودی عرب اور قطر کے سفیروں سے الگ الگ ملاقاتوں میں بھی بھرپور یکجہتی کا اظہار کیا۔ اسلام آباد خطے اور کرہ? ارض کے امن کیلئے ہمیشہ کوشاں رہا ہے اور انشاء اللہ آئندہ بھی سرگرم کردار ادا کرتارہے گا.