شارک مچھلی کی مدد سے سمندری طوفانوں کی پیش گوئی کی کوشش

Jul 27, 2025 | 17:52:PM
 شارک مچھلی کی مدد سے سمندری طوفانوں کی پیش گوئی کی کوشش
سورس: Google
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24 نیوز)محققین سمندری طوفان کی پیش گوئی کو بہتر بنانے کی کوشش میں ایک غیر متوقع اتحادی یعنی شارک کی مدد لے رہے ہیں،تین شارک مچھلیوں کو سینسر لگا کر بحر اوقیانوس کے گرم پانیوں میں چھوڑا گیا ہے تاکہ وہ بڑے سمندری طوفان کا ڈیٹا جمع کریں۔

یہ طریقہ نیشنل اوشیانک اینڈ ایٹموسفیرک ایڈمنسٹریشن کے عام طور پر فضاؤں میں اڑنے والے ان طیاروں کے مقابلے میں مختلف ہے جو سمندری طوفان کا پتہ لگاتے ہیں۔

 یونیورسٹی آف ڈیلاویئر کے ماہرِ سمندری حیاتیات ایرن کارلائل، جو اس منصوبے کی قیادت کر رہے ہیں، نے اخبار واشنگٹن پوسٹ کو بتایا کہ ’سمندر اتنا وسیع اور بڑا ہوتا ہے کہ زیادہ تر چیزوں تک رسائی ممکن  نہیں۔

 لیکن جب آپ وہاں رہنے والے جانوروں کو آلات سے لیس کر دیتے ہیں تو آپ بنیادی طور پر انہیں ایسے سمندری سینسرز میں بدل دیتے ہیں جو مسلسل ڈیٹا جمع کرتے رہتے ہیں،شارک مچھلیاں پانی کی برقی موصلیت اور درجہ حرارت کے بارے میں معلومات جمع کر رہی ہیں۔

 گزشتہ برسوں میں سطح سمندر کے ریکارڈ درجہ حرارت نے خاص طور پر بڑے اور طاقتور سمندری طوفانوں کو جنم دیا۔ یہ درجہ حرارت گرم ہوتی زمین اور انسانوں کے ہاتھوں ہونے والی موسمیاتی تبدیلی کا نتیجہ ہے۔

یہ واضح نہیں کہ شارک کبھی سمندری طوفانوں کے قریب پہنچیں گی یا نہیں لیکن درجہ حرارت کی نگرانی کر کے سائنس دان بہتر اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ہر سمندری طوفان کے موسم میں امریکہ میں کیا کچھ ہو سکتا ہے۔ مثال کے طور پر یہ کہ طوفان کہاں جائیں گے اور آیا وہ غیر معمولی طور پر طاقتور ہوں گے یا نہیں۔

شارک، جو اہم نوع اور سب سے بڑی شکاری ہیں، ایسی معلومات تک منفرد رسائی رکھتی ہیں جسے حاصل کرنا ہمیشہ مشکل رہا ہے۔

موسم کے بارے میں معلومات فراہم کرنے والے مصنوعی سیارے سمندر کی سطح سے نیچے نہیں دیکھ سکتے اور وہ روبوٹک گلائیڈرز جو سائنس دان براعظمی کنارے تک بھیجتے ہیں، کارآمد تو ہیں مگر سست رفتار اور مہنگے ہوتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں :وزیراعظم شہبازشریف کی زائرین کیلئے خصوصی پروازوں کے انتظامات کی ہدایت