باڈی سپرے نے14 سالہ بچی کی جان لے لی

Jan 27, 2023 | 17:57:PM
فائل فوٹو
کیپشن: باڈی سپرے نے14 سالہ بچی کی جان لے لی
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک )برطانیہ کے شہر ڈربی سے تعلق رکھنے والی 14 سالہ جیورجیا گرین کی موت دل کی دھڑکن بند ہو جانے سےہوگئی۔ موت سے پہلے بچی نے اپنے کمرے میں ڈیوڈرینٹ سپرے کیا تھا۔اپنی بیٹی کی موت کے بعد اُن کے والدین کو معلوم ہوا کہ ان کی بیٹی کی موت سے قبل بھی ڈیوڈرینٹ کے ذرات جسم میں داخل ہونے سے کئی بچوں کی موت ہو چکی ہے۔
برٹش ایروسول مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کا  کہنا ہے کہ ڈیوڈرینٹس پر ’واضح وارننگ‘ ہوتی ہے کہ ’بچوں کی پہنچ سے دور رکھیں‘۔ جورجیا کے والدین کا کہنا ہے کہ یہ سپرے پر بہت چھوٹا لکھا ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بہت سے والدین وارننگ نوٹس کیے بغیر ہی اپنے بچوں کے لیے ڈیوڈرینٹ خرید لیتے ہیں۔’لوگ نہیں جانتے کہ ان ٹِنز میں موجود مواد کتنا خطرناک ہو سکتا ہے۔‘
وارننگ کے واضح ہونے سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ ’میں چاہوں گا کہ ایسا ہو تاکہ ملک، بلکہ دنیا میں کسی کو اس صدمے سے نہ گزرنا پڑے جس سے ہم گزر رہے ہیں۔ ہم نہیں چاہتے کہ ہماری بیٹی کی موت رائیگاں جائے۔‘ 

جیورجیا آٹسٹک تھیں اور اس کے والد کا کہنا ہے کہ اسے بستر اور چادروں پر ڈیوڈرینٹ سپرے کرنا پسند تھا کیوںکہ اس کی خوشبو سے اسے راحت محسوس ہوتی تھی۔

’اس کی خوشبو سے اسے ایک قسم کا سکون کا احساس ہوتا تھااگر وہ بےچین ہوتی تھی تو اسے سپرے کرنے سے اسے آرام ملتا تھا ۔11 مئی 2022 کو جیورجیا کے بھائی کو وہ بیہوش حالت میں ملی تھیں۔
‘سپرے کیے گئے ڈیوڈرینٹ کی ’اصل مقدار واضح نہیں لیکن یہ عام طور پر کیے گئے سپرے سے زیادہ ہو گی کسی موقع پر سانس کے ساتھ اسے اندر کھینچ لینے سے اُن کا دل کام کرنا چھوڑ گیا۔‘
جیورجیا کی موت کی تحقیق کے نتیجے میں اسے ’حادثاتی موت‘ قرار دیا گیا

موت کی میڈیکل وجہ کے بارے میں یقینی طور پر کچھ نہیں کہا گیا تاہم یہ کہا گیا کہ جن حالات میں موت ہوئی ویسا ایروسول سے خارج ہونے والے ذرات سانس کے ساتھ جسم میں داخل ہونے کی وجہ سے ہو سکتا ہے۔  
برطانیہ کے آفس آف نیشنل سٹیٹسٹکس (ادارہ شماریات) کے مطابق 2001 سے 2020 کے درمیان موت کے 11 سرٹیفیکیٹس پر ’ڈیوڈرینٹ‘ درج تھا۔
جیورجیا کے ڈیتھ سرٹیفیکیٹ پر ’ڈیوڈرینٹ‘ کی جگہ ’سانس کے ذریعے ایروسول جسم میں داخل ہونا‘ درج ہے۔جیورجیا نے جو ڈیوڈرینٹ استعمال کیا اس کا اہم جُز بُوٹین تھا جو 2001 سے 2020 کے درمیان 324 اموات کی وجوہات میں شامل تھا۔
ادارہ شماریات کا کہنا ہے کہ یہ مواد کئی اموات سے جڑا ہے اور یہ کہ ’بُوٹین اور پروپین گیس سانس کے ساتھ جسم میں جانے سے دل کا دورہ پڑ سکتا ہے۔
حادثات کی روک تھام کے ادارے رائل سوسائٹی فور دا پریوینشن آف ایکسیڈینٹس (آر او ایس پی اے)  کا کہنا ہے کہ ڈیوڈرینٹ کی ضرورت سے زیادہ سپرے سے اموات واقع ہوئی ہیں۔

ایروسول ڈیوڈرینٹس پر کون سی وارننگز دی گئی ہوتی ہیں؟

قانون یہ ہے کہ ایروسول ڈیوڈرینٹس پر یہ وارننگ پرنٹ ہونی چاہیے کہ ’بچوں کی پہنچ سے دور رکھیں‘۔بعض ایروسول ڈیوڈرینٹس پر یہ وارننگ بھی ہوتی ہے کہ ’غلط استعمال فوری موت کا باعث ہو سکتا ہے‘۔
ایروسول ڈیوڈرینٹس پر صحیح استعمال سے متعلق بھی ہدایات ہونی چاہییں جیسا کہ ’ایک مرتبہ میں کم سپرے کریں اور صرف ہوا دار جگہ میں ہوتے ہوئے کریں۔‘اگر ایروسول ڈیوڈرینٹ کی وجہ سے آگ بھڑک سکتی ہے تو اس سے متعلق وارننگ بھی دی جانی چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں:فلم ’پٹھان‘ کا2روزمیں ریکارڈ بزنس ،لیکن جعلی ریویوزکا بازار گرم
برٹش ایروسول مینوفیکچررز نے ایک بیان میں کہا ہے کہ’بطور ایک انڈسٹری ایسوسی ایشن ہم مینوفیکچررز کے ساتھ مل کر اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ ایروسول تحفظ کے بہترین سٹینڈرڈ کے مطابق ہوں، ان پر واضح وارننگز اور استعمال سے متعلق ہدایات ہوں۔ اور تلقین کرتے ہیں کہ جو بھی ایروسول استعمال کرے وہ مینوفیکچرر کی ہدایات کے مطابق کرے۔ ‘