’’مذاکرات کے دروازے کھلے ہیں‘‘ افغان طالبان کا پاکستان سے مصالحت کا اشارہ
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24 نیوز)افغانستان کی عبوری طالبان حکومت کے وزیر داخلہ سراج الدین حقانی نے کہا ہے کہ افغانستان کسی بھی ریاست کے لیے خطرہ نہیں اور موجودہ غلط فہمیوں کو دور کرنے کے لیے بات چیت کا راستہ کھلا ہے، ان کا کہنا تھا کہ مسائل کا حل تصادم میں نہیں بلکہ مذاکرات میں ہے اور افغان حکومت اس حوالے سے سنجیدہ کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔
کابل پولیس اکیڈمی کی گریجویشن تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سراج الدین حقانی نے کہا کہ افغان طالبان دوحہ معاہدے کے تحت کیے گئے وعدوں پر قائم ہیں اور اس بات کو یقینی بنایا جا رہا ہے کہ افغانستان کی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہ ہو۔
An important speech by Khalifa Sirajuddin Haqqani on Afghanistan’s security and engagement with the international community.#Afghanistan
— Siriajuddin Haqqani سراج الدین حقاني مینوال (@SirajHaqqaniFan) December 25, 2025
#Security #SirajuddinHaqqani pic.twitter.com/JimhGa1OgA
افغان طالبان کے سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق انہوں نے عالمی برادری کو یہ یقین دہانی بھی کرائی کہ افغانستان خطے میں عدم استحکام کا سبب بننے کا ارادہ نہیں رکھتا۔
تاہم زمینی حقائق یہ ہیں کہ ماضی میں دی جانے والی یقین دہانیوں کے باوجود پاکستان میں سرحد پار سے دراندازی اور حملوں کے واقعات سامنے آتے رہے ہیں، جس پر اسلام آباد مسلسل تشویش کا اظہار کرتا رہا ہے۔
اگرچہ سراج الدین حقانی نے اپنے خطاب میں پاکستان کا نام نہیں لیا، لیکن ان کے بیان کو پاکستان کے اس دیرینہ مؤقف کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے جس میں کابل سے کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے خلاف مؤثر کارروائی کا مطالبہ کیا جاتا رہا ہے۔