بھارتی ایئرلائنزکے شیئر گر گئے، پروازیں منسوخ
Stay tuned with 24 News HD Android App
( 24 نیوز)24 اپریل کو پاکستان نے صرف بھارتی ایئرلائنز کے لیے اپنے فضائی حدود کو 1 ماہ کے لیے بند کرنے کا اعلان کیا جس کے بعد بھارتی طیاروں اور مسافروں کو شدید مشکلات سامنا ہے۔
رپورٹ کے مطابق پاکستانی فضائی حدود کی بندش کے بعد کئی بھارتی پروازوں کو اپنا راستہ بدلنا پڑا، شروعات میں پروازوں نے ایندھن بھرنے اور فوری طور پر واپس جانے کے لیے قریب ترین ایئرپورٹس پر انحراف کیالیکن وقت گزرنے کے ساتھ یہ معمول بن گیا۔
انڈیگو کی ایک پرواز جو شارجہ سے امرتسر جا رہی تھی، اس نے اپنا راستہ بدلا اور احمد آباد میں رک کر پھر اپنی منزل کی جانب روانہ ہوئی،ایئر انڈیا کی پروازیں لندن اور پیرس سے ابو ظہبی تک تبدیل ہوئیں جبکہ شمالی امریکہ سے آنے والی پروازیں وینا اور کوپن ہیگن کی جانب موڑی گئیں۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان سلامتی کونسل میں بھی بازی لے گیا
میڈیا رپورٹس کے مطابق صورتحال کے واضح ہونے کے بعد ایئرلائنز نے شمالی امریکہ سے آنے اور جانے والی پروازوں کے لیے کوپن ہیگن (Copenhagen) اور ویانا (Vienna) کو ایندھن بھرنے اور دیگر تکنیکی مسائل کے حل کیلئے عارضی اسٹاپ کے طور پر استعمال کرنے کا منصوبہ بنایا ہے، فضائی حدود کی بندش کے فیصلے کے بعد بعض پروازوں میں 3 سے 6 اضافی گھنٹے کی تاخیر ہوئی۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایئر انڈیا نے ابھی تک کسی پرواز کو منسوخ نہیں کیالیکن اسے بعض روٹس پر پروازوں کی تعداد کم کرنی پڑ سکتی ہے کیونکہ اس کے پاس اضافی طیارے نہیں ہیں جو تاخیر اور اس کے اثرات کو سنبھالنے کے لیے بفر کے طور پر استعمال کیے جا سکیں۔
بھارتی ائیرلائن کا منصوبہ متاثر ہو سکتا ہے
بھارتی ائیرلائن انڈیگو کی مالک کمپنی انٹرگلوب ایوی ایشن نے بتایا کہ انہوں نے اپنے شیئرز کی قیمت میں 3.8 فیصد کمی دیکھی حالانکہ مارکیٹ کا عمومی انڈیکس صرف 0.8 فیصد نیچے آیا۔ انڈیگو، جو گزشتہ روز پروازیں منسوخ کرنے والی پہلی ایئرلائن تھی، اس نے 7 مئی 2025 تک الماتی اور تاشقند کے لیے پروازوں کی فروخت روک دی جس سے پہلے سے بک شدہ مسافر متاثر ہو سکتے ہیں۔
علاوہ وزیں دہلی سے استنبول جانے والی پروازوں کو ٹیکنیکل سٹاپ کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ وہ ترک ایئرلائنز سے کرائے پر حاصل کردہ وسیع جسم والے B777 طیاروں سے چلائی جاتی ہیں، لیکن ان پروازوں کا وقت 30 منٹ بڑھ چکا ہے۔ دہلی اور دیگر شمالی ائیرپورٹس سے مشرق وسطیٰ جانے والی پروازیں بھی اضافی پرواز کے وقت کے باعث تاخیر کا شکار ہوئیں۔