مارکو روبیو کے بھارت سے روانگی پر سفارتی پروٹوکول کی کھلی خلاف ورزی
بھارت نے غیر پیشہ ورانہ سفارتکاری کی مثال قائمُ کر دی
Stay tuned with 24 News HD Android App
(احمد منصور)امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے بھارت سے روانگی کے وقت سفارتی پروٹوکول کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے بھارت نے غیر پیشہ ورانہ سفارتکاری کی مثال قائم کر دی۔
سفارتی ماہرین کے مطابق خود کو “قدیم ترین تہذیب” قرار دینے والا بھارت بنیادی سفارتی آداب بھی برقرار نہ رکھ سکا،امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کو الوداع کرنے کوئی وفاقی وزیر یا اعلیٰ حکومتی شخصیت موجود نہ تھی،امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سکیورٹی، انڈو پیسیفک تعاون اور اسٹریٹجک امور پر اہم مذاکرات کیلئے بھارت آئے تھے۔
ماہرین کے مطابق دنیا کی بڑی طاقت کے وزیر خارجہ کو صرف ایک ڈی ایس پی اور پولیس انسپکٹر کے ذریعے رخصت کرنا بھارت کی سفارتی نااہلی اور غیر سنجیدگی کی واضح مثال بن گیا، بھارتی پولیس کا یونیفارم اور ٹرن آوٹ کسی بھی پیشہ ورانہ فورس کے لئے باعث شرمندگی تھا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یورپ سے امریکہ تک مسلسل سفارتی تنازعات اور شرمندگیوں نے مودی حکومت کو مزید تنہا کر دیا ہے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کو بھارت میں غیر معمولی کم پروٹوکول دیے جانے کے پیچھے واشنگٹن اور نئی دہلی کے درمیان بڑھتے اختلافات کارفرما قرار دیے جا رہے ہیں، تجارتی تنازعات، ٹیرف کشیدگی اور امریکہ کے پاکستان کے ساتھ بڑھتے روابط نے بھارت کو سفارتی طور پر بے چین کر رکھا ہےجبکہ ایران اور روس کے معاملات پر اختلافات نے بھی امریکہ اور بھارت کے تعلقات میں خاموش تناؤ پیدا کر دیا ہے،امریکی وزیر خارجہ کو سرد الوداع بھارتی سفارتکاری میں بڑھتی غیر پیشہ ورانہ سوچ، پالیسی کنفیوژن اور کمزور خارجہ سگنلز کی عکاسی کرتا ہے۔
سفارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارتی وزارت خارجہ کی غیر پیشہ ورانہ سوچ، غرور اور ادارہ جاتی کمزوری دنیا کے سامنے نمایاں ہو گئی،واشنگٹن کے ساتھ دوطرفہ تعلقات پر نئی دہلی کی ناراضگی اور بد اعتمادی کا ایسا مظاہرہ سفارتی آداب کی خلاف ورزی ہے،بھارتی میڈیا پاکستان مخالف سوالات میں مصروف رہا،بھارتی میڈیا نے حکومت کی سفارتی شرمندگی اور پروٹوکول کی ناکامی پر خاموشی اختیار کیے رکھی، بھارتی سفارتی بد تہذیبی مسقبل میں اسے مزید تنہا کر دے گی۔
یہ بھی پڑھیں : نوید قمر نے معاشی اصلاحات پر حکومتی کارکردگی تشویشناک قرار دیدی