خیبرپختونخوا:سکولوں کے بعد کالجز کی بھی نجکاری

Aug 26, 2025 | 14:16:PM
خیبرپختونخوا:سکولوں کے بعد کالجز کی بھی نجکاری
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24نیوز)خیبرپختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف کا تیسرا دور حکومت جاری ہے جہاں روز اول سے شعبہ تعلیم میں تعلیمی ایمرجنسی نافذ ہے۔

رواں سال خیبرپختونخوا میں محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم کے 1500 اسکولوں کو پرائیویٹ کرنے کے بعد اب کالجز صوبے کے 55 کالجوں کو بھی نجی شعبے کے حوالے کرنے کی تیاری مکمل کرلی ہے۔

ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ خیبرپختونخوا نے نجکاری میں شامل کالجوں کی لسٹ جاری کردی ہے، جس کے مطابق صوبے میں سب سے زیادہ کالجز وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور اور گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کے آبائی ضلع ڈیرہ اسماعیل خان سے شامل ہیں، جن کی تعداد سات ہے۔

اسی طرح صوبائی وزیر تعلیم فیصل ترکئی کے آبائی ضلع صوابی کے چھ کالجز، جنوبی وزیرستان اور کرک کے پانچ کالجز، بنوں کے چار ضلع بٹگرام اور اورکزئی کے تین، تین کالجوں کو پرائیویٹ سیکٹر کے حوالے کیا جارہا ہے۔

خیبرپختونخوا کے ضلع ایبٹ آباد، ہری پور، مانسہرہ، نوشہرہ، کرم، شانگلہ اور کوہستان کے دو، دو کالجز جب کہ پشاور، ہنگو، دیر لوئر، مالاکنڈ، شمالی وزیرستان اور ایف آر ٹانک کا ایک ایک کالج نجکاری کے زمرے میں آیا۔