نورِ سحر میں ''ملت کا پاسباں۔۔۔قائد اعظم محمد علی جناح'' کے موضوع پر  بصیرت افروز ،روح پرور نشست

جسٹس (ر) نذیر احمد غازی نے کہا کہ تقسیمِ ہند برصغیر کی تاریخ کا ایک المناک باب ہے، جس میں لاکھوں مسلمانوں نے جان و مال کی عظیم قربانیاں دیں تاکہ ایک آزاد اسلامی ریاست پاکستان قائم ہو سکے

Dec 25, 2025 | 14:51:PM
 نورِ سحر میں ''ملت کا پاسباں۔۔۔قائد اعظم محمد علی جناح'' کے موضوع پر  بصیرت افروز ،روح پرور نشست
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: 24نیوز
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24نیوز)معروف دینی و علمی پروگرام "نورِ سحر"  میں ''ملت کا پاسباں۔۔۔قائد اعظم محمد علی جناح'' کے موضوع پر ایک نہایت مؤثر، بصیرت افروز اور روح پرور نشست کا انعقاد کیا گیا۔ 

پروگرام کے میزبان جسٹس (ر) نذیر احمد غازی نے کہا کہ تقسیمِ ہند برصغیر کی تاریخ کا ایک المناک باب ہے، جس میں لاکھوں مسلمانوں نے جان و مال کی عظیم قربانیاں دیں تاکہ ایک آزاد اسلامی ریاست پاکستان قائم ہو سکے۔

انہوں نے کہا کہ قائدِ اعظم محمد علی جناحؒ نے پاکستان اس لیے قائم کیا کہ یہاں عدل و انصاف، مساوات اور عام آدمی کو باعزت زندگی میسر ہو، مگر افسوس کہ آج غربت میں اضافہ اور انصاف میں کمی نظر آتی ہے،انہوں نے قائدِ اعظمؒ کی سادگی، اصول پسندی اور دین سے وابستگی کو ان کی عظیم شخصیت کا نمایاں پہلو قرار دیا۔

پروفیسر نرید فاطمہ نے کہا کہ پاکستان کا نام آتے ہی ہر محبِ وطن دل میں ایک گہرا دکھ محسوس کرتا ہے، کیونکہ یہ ملک بے مثال قربانیوں کے بعد حاصل ہوا، انہوں نے علامہ اقبالؒ کے پیغام اتحاد، یقین اور نظم و ضبط کو قوم کی بقا کے لیے ناگزیر قرار دیا اور قائدِ اعظمؒ کی سادہ طرزِ زندگی کے واقعات بیان کیے، جن میں ان کی کفایت شعاری اور قانون کی بالادستی پر سختی سے عمل شامل تھا۔

انہوں نے کہا کہ فاطمہ جناحؒ محض بہن نہیں بلکہ قائدِ اعظمؒ کی فکری و سیاسی رفیق تھیں۔

خالد چشتی نے کہا کہ قائدِ اعظمؒ نے قیادت اور دیانت کا جو معیار قائم کیا، آج کی سیاست میں اس کی مثال ملنا مشکل ہے،انہوں نے رشتہ داروں کو رعایت نہ دینے، سرکاری وسائل کے محتاط استعمال اور پروٹوکول سے اجتناب کے واقعات بیان کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان خاندانی سیاست اور ذاتی مفادات کے لیے نہیں بلکہ قومی امانت کے احساس کے لیے بنایا گیا تھا۔

پروفیسر یوسف عرفان نے کہا کہ قائدِ اعظمؒ کا وژن صرف برصغیر تک محدود نہیں تھا بلکہ وہ عالمِ اسلام اور مشرقِ وسطیٰ کے مستقبل کو بھی پیشِ نظر رکھتے تھے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کا قیام دراصل پورے خطے کے دفاع اور امتِ مسلمہ کے وقار کی ضمانت بنا، انہوں نے قائدِ اعظمؒ کی صداقت و امانت کو سیرتِ نبوی ﷺ کے اوصاف سے تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جدوجہد اس بات کی روشن مثال ہے کہ سچی نیت اور پختہ عزم کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی مدد شاملِ حال ہوتی ہے۔