غزہ معصوم جانوں اور عالمی قوانین دونوں کا قبرستان بن چکا ہے،اسحاق ڈار
نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی ایران، سعودی ، صومالیہ ، ملائیشیا اور بنگلہ دیشی وزرائے خارجہ سے ملاقات
Stay tuned with 24 News HD Android App
(انور عباس) نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے او آئی سی کے وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ غزہ معصوم جانوں اور عالمی قوانین دونوں کا قبرستان بن چکا ہے،مسلم اُمہ کے انتہائی نہایت نازک موقع پر یہ اہم اجلاس طلب کرنے پر ترکیے, ایران اور فلسطین کے مشکور ہیں۔پاکستان عرب - اسلامی وزارتی کمیٹی کے ساتھ مل کر اسرائیلی عزائم کو ناجائز اور ناقابل قبول قرار دیتا ہے۔ نائب وزیر خارجہ نے او آئی سی وزرائے خارجہ اجلاس کی سائیڈ لائنز میں سعودی وزیر خارجہ ،ایرانی وزیر خارجہ ، بنگلہ دیش کے مشیر برائے خارجہ،صومالیہ اور ملائیشیا کے وزیر خارجہ سے ملاقات کیں اور غزہ کی تشویشناک صورتحال پر بات چیت کی۔
شفقت علی خان ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق او آئی سی کےاکیسویں غیر معمولی اجلاس میں وزرائے خارجہ کونسل سے خطاب کرتے ہوئے نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے کہا کہ ہم اس وقت مل رہے ہیں جب غزہ لہو لہان ہے،اسرائیل کی طرف سے عالمی قوانین، بین الاقوامی انسانی قوانین، سلامتی کونسل کی قراردادوں اور عالمی عدالتِ انصاف کے فیصلوں کی سنگین خلاف ورزی کھلے عام جاری ہے،مسلم اُمہ کے انتہائی نہایت نازک موقع پر یہ اہم اجلاس طلب کرنے پر ترکیے, ایران اور فلسطین کے مشکور ہیں,غزہ معصوم جانوں اور عالمی قوانین دونوں کا قبرستان بن چکا ہے,60 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہوئے، جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے,ہسپتالوں، سکولوں، اقوام متحدہ کی تنصیبات، امدادی قافلوں اور مہاجر کیمپوں کو نشانہ بنانا اجتماعی سزا کے بھیانک اقدامات ہیں,2 سال سے غزہ کو اندھا دھند بمباری، ناکہ بندی، قحط اور بھوک کا سامنا ہے،مغربی کنارے اور القدس میں بھی ظلم و جبر بڑھ رہا ہے,اسرائیل کا بنایا ہوا "انسانی ہمدردی کا نظام" محض دھوکہ ہے, قحط عام ہے اور شہری کھانے کے حصول پر گولیوں کا نشانہ بن رہے ہیں, اسرائیلی کابینہ کے حالیہ بیانات، جن میں غزہ پر مکمل فوجی قبضے اور "گریٹر اسرائیل" کے منصوبے کا ذکر شامل ہے،یہ سب اسرائیل کی غاصبانہ ذہنیت ظاہر کرتے ہیں, اسحاق ڈار نے مزید کہا کہ پاکستان ان خطرناک بیانات کی شدید مذمت کرتا ہے,پاکستان عرب - اسلامی وزارتی کمیٹی کے ساتھ مل کر اسرائیلی عزائم کو ناجائز اور ناقابل قبول قرار دیتا ہے,پاکستان نے 31 عرب و اسلامی ممالک اور او آئی سی، عرب لیگ و خلیجی تعاون کونسل کے سیکرٹری جنرلز کے مشترکہ بیان کی بھی تائید کی, اس بیان میں "گریٹر اسرائیل" کے تصور کو عرب سلامتی اور علاقائی امن کے لیے براہِ راست خطرہ قرار دیا گیا۔
اسحاق ڈار نے مزید کہا کہ وزیرِاعظم پاکستان کے نے بھی کہا ہے کہ اس المیہ کی جڑ اسرائیل کا غیرقانونی قبضہ ہے, وزیر اعظم نے کہا ہے کہ جب تک یہ قبضہ ختم نہیں ہوتا، امن قائم نہیں ہو سکتا, پاکستان برادر عرب ممالک کے ساتھ ان کی خودمختاری اور آزادی کے دفاع میں کھڑا ہے,پاکستان اُن ممالک اور اداروں کی کوششوں کو سراہتا ہے جو غزہ میں امن و انصاف کے لیے کردار ادا کر رہے ہیں, پاکستان فلسطین کی ریاستی حیثیت اور اقوامِ متحدہ کی مکمل رکنیت کے حق میں بڑھتی عالمی حمایت کا خیرمقدم کرتا ہے,ہم ان ممالک پر زور دیتے ہیں جنہوں نے اب تک فلسطین کو تسلیم نہیں کیا کہ فوری طور پر ایسا کریں,دو ریاستی حل پر بین الاقوامی کانفرنس (28 جولائی، سعودی عرب و فرانس کی میزبانی میں) مثبت پیش رفت تھی, مگر اب مزید عملی اقدامات ضروری ہیں, یہ لمحہ مسلم اُمہ کے لیے فیصلہ کن ہے, تاریخ ہمیں الفاظ سے نہیں، عمل سے پرکھے گی,فلسطینی صرف ہمدردی کے بیانات نہیں بلکہ عملی اقدامات چاہتے ہیں,او آئی سی کو اتحاد اور عزم کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا،فلسطینی مسئلہ نام نہاد "قواعد پر مبنی عالمی نظام" کے لیے ایک کسوٹی ہے,پاکستان سات فوری اقدامات تجویز کرتا ہے,ان میں فوری، مستقل اور غیر مشروط جنگ بندی, بلارکاوٹ اور محفوظ انسانی امداد کی فراہمی, UNRWA کے لیے نئی حمایت شامل ہے, ان میں جبری بے دخلی اور غیرقانونی بستیوں کا خاتمہ, غزہ کی تعمیرِ نو کا عرب-او آئی سی منصوبہ اور دو ریاستی حل کے لیے بامقصد سیاسی عمل بھی شامل ہے, اسرائیل کے جنگی جرائم پر احتساب بھی ان اقدامات میں شامل ہے,مسجد اقصیٰ کی کسی بھی بے حرمتی کو پاکستان ناقابلِ برداشت اشتعال انگیزی سمجھتا ہے, ناسرائیلی اہلکاروں کی القدس میں دراندازی عالمی قوانین کی خلاف ورزی اور مسلم اُمہ کے لیے کھلا چیلنج ہے, سلامتی کونسل پر زور دیتے ہیں کہ وہ بین الاقوامی حفاظتی فورس کی تعیناتی سمیت اسرائیل کے خلاف عملی اقدامات کرے،فلسطین پاکستان کی اولین ترجیح ہے, بطور غیر مستقل رکن سلامتی کونسل، پاکستان فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت، انصاف اور امن کے لیے عرب و اسلامی ممالک کے ساتھ جدوجہد جاری رکھے گا,او آئی سی کو اب تماشائی نہیں بلکہ متحرک کردار ادا کرنا ہوگا, اسرائیلی قبضے کے خاتمے کے لیے عملی اقدامات ناگزیر ہیں, یہی وقت ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں دیرپا امن کے لیے ٹھوس قدم اٹھائے جائیں۔
نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے او آئی سی وزرائے خارجہ اجلاس کی سائیڈ لائنز میں سعودی وزیر خارجہ سے ملاقات کی۔ اس موقع پر انہوں ںے کہا کہ اپنے بھائی سعودی عرب کے وزیر خارجہ فیصل بن فرحان سے مل کر بے حد خوشی ہوئی۔
ہم نے ملاقات میں غزہ کی تشویشناک صورتحال پر بات چیت کی۔ غزہ میں امن کے لیے مستقل جنگ بندی اور انسانی امداد کی فوری رسائی پر اتفاق کیا گیا۔ ملاقات میں دونوں جانب سے پاک سعودیہ دو طرفہ تعلقات کا بھی جائزہ لیا ، اور باہمی دلچسپی کے امور اور علاقائی و عالمی معملات بھی زیر غور ائے۔

ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے او آئی سی کے فلسطین پر ہنگامی اجلاس کے موقع پر ایرانی ہم منصب سید عباس عراقچی سے بھی ملاقات کی،غزہ کی سنگین صورتحال پر تفصیلی گفتگو، ہوئی ، اسرائیلی جارحیت اور نسل کشی کی مذمت کی گئی، انسانی امداد کی بلا رکاوٹ فراہمی اور دیرپا جنگ بندی پر زور دیا گیا، دونوں وزرائے خارجہ نے قحط اور انسانی بحران پر گہری تشویش کا اظہار کیا، ایران کے صدر کے حالیہ دورۂ پاکستان کو یاد کرتے ہوئے قریبی تعلقات کی توثیق، پاکستان اور ایران نے برادرانہ تعلقات مزید مستحکم کرنے کے عزم کا اعادہ کیا،دونوں رہنماؤں نے خطے اور اس سے باہر امن و سلامتی کے معاملات پر تبادلہ خیال کیا۔

نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے او آئی سی کے فلسطین پر ہنگامی اجلاس کے موقع پر آج دوبارہ اپنے بھائی بنگلہ دیش کے مشیر برائے خارجہ محمد توحید حسین سے ملاقات کی ، اس موقع پر انکا کہنا تھا کہ بنگلہ دیش بھائی سے ملاقات کرنا باعث مسرت رہا, گذشتہ ہفتے کے اختتام پر بنگلہ دیش کے دورے کے دوران ان سے تفصیلی بات چیت کی تھی,ہم نے فلسطین کے جائز مؤقف کے ساتھ اپنی بھرپور یکجہتی کا اظہار کیا,ہم نے زور دیا کہ فوری اور بلا رکاوٹ انسانی امداد کی فراہمی، مستقل جنگ بندی اور دو ریاستی حل کے ذریعے پائیدار امن ضروری ہے, ہم نے پاکستان اور بنگلہ دیش کے تعلقات میں نئی پیش رفت کو دہرایا,ہم نے اس تعاون کے مثبت نتائج کے منتظر ہونے پر اتفاق کیا جو مختلف شعبوں میں سامنے آئیں گے, دونوں فریقوں نے قریبی تعاون پر آمادگی ظاہر کی تاکہ دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم کیا جا سکے, اور خطے میں مشترکہ خوشحالی کے لیے تعاون کو آگے بڑھایا جا سکے۔

نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ملائیشیا کے وزیر خارجہ محمد حاجی حسن سے بھی ملاقات کی، جس میں پاکستان اور ملائیشیا کا فلسطین کے ساتھ بھرپور یکجہتی کا اظہار کیا گیا،اور غزہ کی صورتحال پر دونوں وزرائے خارجہ نے گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئےبلا رکاوٹ انسانی امداد اور مستقل جنگ بندی پر زور دیا ،امن کے قیام کے لیے فوری عالمی اقدامات پر اتفاق کیا گیا،اسحاق ڈار نے جولائی میں کوالالمپور میں اے آر ایف اجلاس کی کامیاب میزبانی کو سراہا اورملائیشیا کی قیادت سے خوشگوار ملاقاتوں کا ذکر کیا گیا۔اس موقع پر پاکستان اور ملائیشیا نے قریبی برادرانہ تعلقات مزید مستحکم کرنے کا عزم دہرایا،تجارت، اقتصادی تعلقات اور عوامی روابط کے فروغ پر زور دیا گیا۔

نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ملائیشیا کے وزیر خارجہ سے بھی ملاقات کی ، اس موقع پر انہوں نے کہا اپنے بھائی صومالیہ کے وزیر خارجہ عبدالسلام عبدی علی سے آج ملاقات پر مسرت ہوئی, ملاقات میں غزہ کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا, اسرائیلی جارحیت اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے قحط اور انسانی المیے کی شدید مذمت کی گئی, فوری اور بلا رکاوٹ انسانی امداد کی فراہمی کی فوری ضرورت پر زور دیا گیا, تجارتی، اقتصادی تعلقات اور عوامی سطح پر رابطوں کو مزید مستحکم کرنے کی اہمیت اجاگر کی گئی,پاکستان میں حالیہ سیلاب کے دوران صومالیہ کی یکجہتی پر شکریہ ادا کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں:محسن نقوی کا فیڈرل کانسٹیبلری ہیڈکوارٹر کا دورہ، 3 شہدا کی نماز جنازہ میں شرکت