دوران جنگ ٹرمپ کو ایران سے دوبارہ مذاکرات پر کس نے مجبور کیا؟ بڑی خبر آ گئی
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ویب ڈیسک ) ایران سے جنگ کے 24 ویں روز اچانک ٹرمپ نے کس کے دباؤ میں آ کر ایران سے دوبارہ مذاکرات کی بات کی ہے۔
ایران کی اسرائیل اور امریکا سے جنگ 25 ویں روز میں داخل ہو چکی ہے۔ اس دوران کئی بار ایران کو تباہ کرنے اور جنگ جیتنے کے دعوے کرنے والے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگ کے 24 ویں بڑا یو ٹرن لے لیا۔
ٹرمپ جنہوں نے ایران کو آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے 48 گھنٹے کی مہلت اور مہلت گزرنے کے بعد ایران کے تمام بجلی گھروں کو تباہ کرننے کی دھمکی دی تھی۔
تاہم گزشتہ روز اچانک انہوں نے یہ دھمکی واپس لیتے ہوئے حملہ پانچ دن موخر کرنے اور ایران سے دوبارہ مذاکرات کی بات کی۔
یہ بھی پڑھیں:امریکی صدر کا یو ٹرن؟ایران تنازعہ سے خود کو الگ کر لیا
ہر وقت جنگ پر آمادہ اور ایران کو صفحہ ہستی سے مٹانے کے خواہشمند امریکی صدر ٹرمپ کے رویے میں اچانک یہ تبدیلی کیسے آئی۔ امریکی ادارے بلوم برگ نے اس سے پردہ اٹھا دیا۔
بلوم برگ نے دعویٰ کیا ہے کہ صدرٹرمپ نے اتحادیوں کی وارننگ کے بعد مذاکرات کا آغاز کیا۔ وہ خلیجی ملکوں کی وارننگ کے بعد ٹرمپ ایرانی انفرا اسٹرکچرکو تباہ کرنے سے پیچھے ہٹے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ خلیجی ممالک نے خبردار کیا تھا کہ اس اقدام کے تباہ کُن نتائج ہو سکتے ہیں۔