پنجاب بھر میں دفعہ 144 نافذ، اجتماعات اور جلوسوں پر پابندی

Sep 23, 2026 | 14:41:PM
پنجاب بھر میں دفعہ 144 نافذ، اجتماعات اور جلوسوں پر پابندی
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24نیوز) پنجاب حکومت نے صوبے بھر میں عوامی امن و امان اور شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کے پیش نظر دفعہ 144 نافذ کر دی ہے، پابندی کا اطلاق 23 ستمبر سے 5 اکتوبر تک ہوگا۔

محکمہ داخلہ پنجاب کے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق عوامی مقامات، شاہراہوں اور کھلی جگہوں پر پانچ یا اس سے زائد افراد کے اجتماع، جلوس اور دیگر اجتماعات پر پابندی عائد کی گئی ہے، عوامی مقامات پر ہر قسم کے ہتھیار لے جانے اور ان کی نمائش پر بھی پابندی ہوگی۔

نوٹیفکیشن کے مطابق غیر قانونی اجتماعات میں شرکت کے لیے لوگوں کو اکسانے یا ترغیب دینے پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے۔

تاہم پابندی کا اطلاق شادی کی تقریبات، نمازِ جنازہ، تدفین، مساجد اور دیگر عبادت گاہوں پر نہیں ہوگا، عدالتیں، سرکاری ادارے اور باضابطہ اجازت سے منعقد ہونے والی تقریبات بھی پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی۔

ڈیوٹی پر تعینات قانون نافذ کرنے والے اداروں، انٹیلیجنس ایجنسیوں اور سکیورٹی اہلکاروں کو بھی اس پابندی سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔

محکمہ داخلہ کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں اور انٹیلیجنس ایجنسیوں کی جانب سے فوری نوعیت کے خطرات سے متعلق اطلاعات موصول ہوئی ہیں، ان اطلاعات کے مطابق دہشت گرد تنظیمیں عوامی اجتماعات کو ممکنہ طور پر نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کر رہی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:پنجاب:سرکاری سکولوں میں طلبہ کیلئے روزانہ 10 منٹ کا کوئیک ٹیسٹ لازمی قرار 

محکمہ داخلہ کے مطابق اجتماعات، ریلیاں، جلسے، دھرنے، جلوس اور مظاہرے دہشت گرد حملوں کے لیے ممکنہ آسان ہدف بن سکتے ہیں، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ممکنہ خطرات سے نمٹنے کے لیے فوری حفاظتی اقدامات میں معاونت کی درخواست کی تھی۔

نوٹیفکیشن کے مطابق سیکرٹری داخلہ پنجاب نے ضابطہ فوجداری 1898 کی دفعہ 144(6) کے تحت عوامی اجتماعات پر فوری پابندی عائد کی ہے۔

ترجمان محکمہ داخلہ پنجاب کے مطابق عوام کے جان و مال کا تحفظ حکومت پنجاب کی اولین ترجیح ہے۔