غزہ: اسرائیلی حملوں میں بچوں سمیت 24 فلسطینی شہید، حماس کی ثالثوں سے مداخلت کی اپیل
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24نیوز)اسرائیل نے گذشتہ روز غزہ کے مختلف علاقوں پر ایک بار پھر فضائی حملے کیے، جن میں بچوں سمیت کم از کم 24 فلسطینی شہید اور 87 زخمی ہو گئے جس کے بعد حماس نے جنگ بندی کے ثالثوں سے مداخلت کی اپیل کردی ہے۔
مقامی حکام کے مطابق پہلا حملہ غزہ شہر کے شمالی علاقے میں ایک کار پر کیا گیا، جس کے بعد دیر البلح اور نصیراٹ پناہ گزین کیمپ میں مزید حملے کیے گئے۔
غزہ شہر کے رمال محلے میں ڈرون حملے میں 11 افراد شہید اور 20 زخمی ہوئے، جس کی الشفا اسپتال کے منیجنگ ڈائریکٹر رامی مہنا نے تصدیق کی جبکہ دیر البلح میں ایک گھر پر ہونے والے حملے میں ایک خاتون سمیت 3 شہری جاں بحق ہوئے، نصیراٹ کیمپ میں بھی ایک رہائشی عمارت کو نشانہ بنایا گیا۔
غزہ کی سرکاری میڈیا آفس کے مطابق 10 اکتوبر سے نافذ امریکی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی کی اسرائیل کی جانب سے کم از کم 497 خلاف ورزیاں ریکارڈ کی گئی ہیں۔
ان حملوں میں 342 فلسطینی شہری شہید ہو چکے ہیں، جن میں بڑی تعداد بچوں، خواتین اور بزرگوں کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:صدر جمعیت علمائے ہند مولانا ارشد مدنی کے دعوے نے بھارت میں سیاسی ہلچل مچا دی
اسرائیلی وزیراعظم آفس نے دعویٰ کیا کہ حملے اس وقت کیے گئے جب ایک حماس کارکن نے اسرائیلی کنٹرول والے علاقے میں فوجیوں پر حملہ کیا، اسرائیلی بیان کے مطابق کارروائی میں حماس کے پانچ اہم جنگجو مارے گئے،حماس کی جانب سے ان جنگجوؤں کے بارے میں فوری ردعمل سامنے نہیں آیا۔
حملوں کے دوران حماس نے اسرائیل پر جعلی بہانوں کے تحت جنگ بندی توڑنے کا الزام لگایا اور ثالثی کرنے والے ممالک امریکا، مصر اور قطر سے فوری مداخلت کی اپیل کی۔