مقبوضہ فلسطینی علاقے میں غیر قانونی اسرائیلی بستیوں سے درآمدات پر انگلینڈ کی پابندی کا خیرمقدم

Sep 09, 2026 | 22:19:PM
 مقبوضہ فلسطینی علاقے میں غیر قانونی اسرائیلی بستیوں سے درآمدات پر انگلینڈ کی پابندی کا خیرمقدم
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(انور عباس)    پاکستان، ترکیہ، مصر، انڈونیشیا، اردن، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ  نے مقبوضہ فلسطینی علاقے میں غیر قانونی اسرائیلی بستیوں سے درآمدات پر انگلینڈ کی پابندی کا خیرمقدم کیا ہے۔ 

8 ممالک کے وزرا خارجہ کی جانب سے آج  مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ  انگلینڈ کی جانب سے غیر قانونی اسرائیلی بستیوں سے اشیا کی درآمد پر پابندی قابلِ تحسین ہے۔

 مشترکہ اعلامیہ مین  8 ممالک کے وزرا خارجہ نے عالمی برادری سے غیر قانونی اسرائیلی بستیوں کے خلاف ٹھوس اقدامات  کرنےکا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ  آبادکاری کی غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث تنظیموں اور افراد کو جوابدہ بنایا جائے۔

انہوں نے مشترکہ اعلامیہ میں  کینیڈا، انگلینڈ اور یورپی ممالک کی اسرائیلی بستیوں سے تجارت محدود کرنے کی کوششوں کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ  غیر قانونی اسرائیلی بستیوں سے متعلق اقدامات بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ہیں۔ 

یہ بھی پڑھیں:  آسٹریا میں 14 سال سے کم عمر طالبات کے حجاب پر پابندی نافذ 

انہوں نے کہا کہ اسرائیل آبادکاری سے متعلق تمام اقدامات واپس لے، مقبوضہ فلسطینی علاقے کا جغرافیائی و آبادیاتی کردار تبدیل کرنے کی کوششیں روکی جائیں۔ غزہ مقبوضہ فلسطینی علاقے کا لازمی حصہ ہے۔  غزہ تنازعہ ختم کرنے کے لیے صدر ٹرمپ کے جامع منصوبے پر مکمل اور فوری عملدرآمد کیا جائے۔  غزہ میں سکیورٹی، استحکام، انسانی صورتحال اور تعمیر نو یقینی بنائی جائے۔ پائیدار اور جامع امن کا واحد قابلِ عمل راستہ دو ریاستی حل ہے۔ 

مشترکہ اعلامیہ میں کہا گیا کہ آزاد، خودمختار، متصل اور قابلِ عمل فلسطینی ریاست کا قیام ضروری ہے۔ فلسطینی ریاست 4 جون 1967 کی سرحدوں پر قائم اور مشرقی یروشلم اس کا دارالحکومت ہو۔  فلسطین کے مسئلے کا حل بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق ہونا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیئے:  القاعدہ بی ایل اے اور طالبان پاکستان کا نیکسس، اقوام متحدہ کی رپورٹ میں نئے انکشافات سامنے آگئے