تابکاری اثرات سے بچانے والے دنیا اور پاکستان کے محفوظ مقامات
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24 نیوز)ایران امریکا کشیدگی بڑھتی ہے تو جوہری جنگ چھڑنے کا خطرہ پیدا ہوسکتا ہے، ایسی صورت میں دنیا میں چند ہی مقامات ہیں جو محفوظ رہ سکیں گے،جنوبی امریکہ کے ممالک میں چلی، یوروگوئے اور ارجنٹائن کے ساتھ پاکستان میں بھی متعدد علاقے محفوظ رکھ سکتے ہیں۔
پاکستان میں ممکنہ محفوظ مقامات
شمالی علاقہ جات (گلگت بلتستان، چترال، سوات کے دور دراز علاقے)
یہ علاقے پہاڑوں سے گھرے ہوئے ہیں اور بڑے شہروں سے کافی فاصلے پر ہیں۔ یہاں کم آبادی کی وجہ سے تابکاری اثرات کم ہو سکتے ہیں۔ جنگی حکمتِ عملی کے تحت بھی یہ علاقے کم اہم سمجھے جاتے ہیں، اس لیے نشانہ بننے کا امکان کم ہے جبکہ پہاڑ نیوکلئیر دھماکے کے جھٹکوں اور تابکاری کے اثرات کو کسی حد تک روک سکتے ہیں۔
بلوچستان کے ویران اور پہاڑی علاقے (مثلاً خاران، کوہِ سلیمان، چاغی کے دور دراز علاقے)
بلوچستان میں بہت سے ایسے علاقے ہیں جو ویران اور آبادی سے خالی ہیں۔ یہ علاقے فوجی اور صنعتی مراکز سے کافی فاصلے پر ہیں، اس لیے ہدف بننے کے امکانات کم ہیں۔ بلوچستان میں زیرِ زمین غاریں اور پہاڑ ہیں جو نیوکلئیر حملے کے اثرات سے بچنے میں مددگار ہو سکتے ہیں۔
کشمیر کے بلند و بالا پہاڑی علاقے (وادی نیلم، استور، دیوسائی)
نیوکلئیر حملے کی صورت میں تابکاری زیادہ تر میدانوں میں پھیلتی ہے، جبکہ بلند پہاڑی علاقے کچھ حد تک محفوظ رہ سکتے ہیں۔ ان علاقوں میں قدرتی پانی کے ذخائر موجود ہیں جو نیوکلئیر اثرات کے بعد بھی زندگی کو برقرار رکھنے میں مدد دے سکتے ہیں۔
صحرائی علاقے (تھر، چولستان، بلوچستان کے ریگستانی علاقے)
اگرچہ صحرا میں پانی اور خوراک کے مسائل ہوں گے، لیکن یہ علاقے بڑے شہروں اور فوجی تنصیبات سے دور ہیں، جس کی وجہ سے براہ راست حملے کا امکان کم ہے۔ تابکاری کے بادل عام طور پر نمی والے علاقوں میں زیادہ اثر انداز ہوتے ہیں، جبکہ خشک اور کم آبادی والے علاقوں میں یہ خطرہ کچھ کم ہو سکتا ہے۔