پی آئی اے کو سب سے زیادہ نقصان پی ٹی آئی دور میں پہنچا:مرزا اشتیاق بیگ
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24 نیوز)معروف بزنس مین مرزا اشتیاق بیگ نے کہا کہ تحریک انصاف کے دور میں وفاقی وزیر ہوا بازی نے جو بیان پی آئی اے کے لیے دیا تھا اس سے پی آئی اے کو سب سے زیادہ نقصان پہنچا تھا۔
پروگرام ’’گونج مسعود رضا کے ساتھ ‘‘میں گفتگو کرتے ہوئے معروف بزنس مین مرزا اشتیاق بیگ نے کہا کہ پاکستان کی ایئر لائن فروخت کے بعد بھی پاکستان کے پاس ہی ہے اگر یہ اثاثہ کسی غیر ملک کے پاس چلا جاتا تو افسوس ہوتا، عارف حبیب صاحب سے میری بات ہوئی ہے وہ بہت پر اُمید ہیں کہ پی آئی اے کی نجکاری پاکستان کی جیت ہے اور انشاءاللہ پی آئی اے کو دوبارہ اسی مقام پر لے جانے کے لیے محنت کریں گے جہاں وہ پہلے تھی۔
مرزا اشتیاق بیگ نے مزید کہا کہ یہ پاکستان کی تاریخ کی سب سے بڑی نجکاری ہوئی ہے جس کے لیے حکومت اور مشیر نجکاری کمیشن کو بھی مبارک بعد دیتا ہوں کہ انہوں نے اس نجکاری کا انعقاد بہت شفاف طریقے سے کیا ہے۔ یہ وہ ایئر لائن تھی جس نے ایمیریٹس کو ہی نہیں مالٹا ، سری لنکن اور مراکش ایئر لائن کو اسٹارٹ کیا تھا۔
انھوں نے بتایا کہ میں اس بات سے اتفاق کرتا ہوں کہ سیاسی مداخلت سے قومی ادارے تباہی کی طرف چلے جاتے ہیں جیسے ماضی میں اتنی سیاسی بھرتیاں کی گئیں کہ جس جہاز میں 100 لوگوں کی ضرورت ہوتی تھی تو 300 لوگ رکھے جاتے تھے جس کی وجہ سے پی آئی اے کو 40 ارب ڈالر کانقصان سالانہ کا ہو رہا تھا لیکن یہ نجکاری خوش آئند ہے کہ جو پودا ہم نے 10 ملین روپے سے لگایا تھا وہ 135 ارب میں فروخت ہوا ہے ۔
پروگرام میں شریک پاکستان تحریک انصاف کے رہنما سید علی بخاری نے کہا کہ مجھے حیرت ہے کہ پاکستان کے ہاتھ سے اتنا بڑا اثاثہ نکل گیا چاہے جس نے بھی خریدا ہو وہ اب قومی اثاثہ تو نہیں رہا،اور پی آئی اے کو اس حالت میں پہنچانے کا ذمہ دار کون ہے جو 70 کی دہائی سے اس ملک میں برسر اقتدار ہیں پاکستان تحریک انصاف کے دور میں پی آئی اے نقصان میں نہیں تھا اور یہ بات اس وقت کے چیئرمین نے کہی تھی اور یہ قومی ادارہ بیچ کر بہت خوشیاں منا رہے ہیں۔
پروگرام میں شامل پاکستان مسلم لیگ ن کے اہم رہنما اور وفاقی وزیر قیصر احمد شیخ نے کہا کہ آج جو نجکاری ہوئی وہ بہت کامیاب اور شفاف طریقے سے ہوئی جو اس سے پہلے ایک خواب تھی پی آئی اے کے 25 فیصد حصص ابھی بھی پاکستان حکومت کے پاس ہیں ۔ایک اچھے گروپ کے پاس اس کی مینیجمنٹ ہوگی تو پی آئی اے واپس اپنا مقام حاصل کر لے گی۔یہ اس حکومت کا کارنامہ ہے حالانکہ پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف اس نجکاری کی مخالفت کر رہے تھے ۔
یہ بھی پڑھیں :انڈونیشیا کے باولر نے ٹی20 انٹرنیشنل میں نئی تاریخ رقم کر دی