پودوں میں آواز سننے کی صلاحیت کا انکشاف
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ویب ڈیسک)سائنسدانوں نے پہلی بار یہ ثابت کیا ہے کہ زمین میں دبے ہوئے بیج بارش کے قطروں کی آواز سن سکتے ہیں اور اس آواز کی وجہ سے وہ 30 سے 40 فیصد زیادہ تیزی سے اگنے لگتے ہیں۔
امریکا کےتعلیمی ادارے میساچوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ بیج اپنے ماحول میں موجود آوازوں پر بھی ردعمل ظاہر کر سکتے ہیں اور بارش کی آواز محسوس کر کے تیزی سے اگنے لگیں۔
تحقیق کے مطابق چاول کے بیج جب بارش جیسی آواز کی لہروں کے سامنے رکھے گئے تو ان کے اگنے کی رفتار 30 سے 40 فیصد تک بڑھ گئی، جبکہ خاموش ماحول میں رکھے گئے بیج نسبتاً سست رہے۔
محققین نے چاول کے تقریباً 8,000 بیجوں پر تجربہ کیا، جو مٹی اور کم گہرے پانی دونوں میں اگ سکتے ہیں۔
انہوں نے ان بیجوں کو پانی کے ٹبوں میں رکھا اور ان کے ایک حصے کو بارش کے قطروں جیسی مصنوعی آوازیں سنائیں۔ نتائج نے واضح فرق دکھایا۔
مزید پڑھیں:پاکستان اب بھی AIدوڑ میں پیچھے
نتائج سے معلوم ہوا کہ جن بیجوں نے بارش کی آواز سنی، وہ خاموشی میں رکھے گئے بیجوں کے مقابلے میں بہت جلد کونپلیں نکالنے لگے۔
سائنسدانوں کے مطابق یہ اثر بیج کے اندر موجود انتہائی باریک ذرات ’اسٹیٹو لائٹس‘ کی وجہ سے ہوتا ہے۔
یہ چھوٹے ذرات بالکل ایسے ہوتے ہیں جیسے پانی سے بھرے برتن میں ریت کے ننھے ننھے دانے۔
یہ ذرات کششِ ثقل کو محسوس کرتے ہیں اور بیج کو یہ بتاتے ہیں کہ کس سمت میں بڑھنا ہے۔
جب بارش کا قطرہ زمین یا پانی کی سطح سے ٹکراتا ہے، تو وہ زوردار آواز کی لہریں پیدا کرتا ہے۔
یہ لہریں بیج کے اندر موجود ان ننھے ذرات (اسٹیٹولیتھس) کو ہلا دیتی ہیں، جس سے بیج کو بڑھنے کا اشارہ ملتا ہے۔
یہ ہلچل بیج کے لیے ایک ’سگنل‘ کا کام کرتی ہے کہ اب باہر پانی موجود ہے اور اگنے کا بہترین وقت آ گیا ہے۔
تحقیق کے مطابق، جو بیج مٹی کی سطح کے قریب ہوتے ہیں، وہ ان آوازوں کو زیادہ واضح سنتے اور ردعمل دیتے ہیں۔
وہ پہلے ہی ایسے مقام پر ہوتے ہیں جہاں پانی جذب کرنا اور باہر نکلنا آسان ہوتا ہے۔
یہ قدرت کا ایک بہترین نظام ہے کیونکہ سطح کے قریب بیجوں کے لیے بارش کی آواز کا مطلب یہ ہے کہ اب انہیں نمی مل سکے گی اور وہ آسانی سے زمین سے باہر نکل سکیں گے۔
تحقیق کے مرکزی سائنسدان پروفیسر نکولس میکریس کے مطابق بارش کی آواز میں اتنی توانائی ہوتی ہے کہ وہ بیج کے اندر حیاتیاتی عمل کو تیز کر سکتی ہے اور اسے ’جگانے‘ کا سبب بن سکتی ہے۔
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ دریافت زراعت کے شعبے میں نئی تحقیق کے دروازے کھول سکتی ہے اور مستقبل میں یہ بھی جانچا جائے گا کہ آیا ہوا یا دیگر قدرتی آوازیں بھی پودوں کی نشوونما پر اثر ڈالتی ہیں۔