سرحد پار دہشتگردی کیلئے برداشت کی آخری حدآگئی، دہشتگردی کے پلانردسترس سے باہر نہیں رہیں گے: صدرآصف زرداری

Feb 22, 2026 | 23:38:PM
سرحد پار دہشتگردی کیلئے برداشت کی آخری حدآگئی، دہشتگردی کے پلانردسترس سے باہر نہیں رہیں گے: صدرآصف زرداری
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24نیوز) صدر آسف عرل یزرداری نے کہا ہے کہ سرحد پار دہشتگردی کیلئے ہماری برداشت کی آخری حدآگئی ہے، دہشتگردی کے پلانر کہیں بھی ہوں، وہ ہماری دسترس سے باہر نہیں رہیں گے۔  پاکستان اپنے  دفاع کے فطری حق کے تحت اقدامات کررہا ہے۔
 افغانستان سے پاکستان کے اندر دہشتگردوں کے گروہوں کو بھیجنے کے لامتناہی سلسلہ کے جواب مین پاکستان کی حالیہ کاؤنٹر ٹیررزم کارروائیوں کے متعلق اپنے بیان مین صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا  افغانستان میں طالبان رجیم نے نائن الیون سے پہلے جیسی یا اس سے بھی بدترصورتحال پیدا کردی ہے۔

انہوں نے کہا،  افغانستان میں حالات پچھلے دور سے بھی زیادہ تشویشناک اورغیریقینی ہوچکے ہیں۔ 
 صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہ،  سرحد پار دہشتگردی کیلئے ہماری  برداشت اپنی حد کو پہنچ چکی۔ دہشتگردی اور  تشدد کے منصوبہ ساز کہیں بھی ہوں، وہ ہماری دسترس سے باہر نہیں رہیں گے۔

آج ایوانِ صدر سے ریلیز کئے گئے بیان میں صدر مملکت نے واضح کیا کہ سرحد پار دہشت گردی کیلئے برداشت اپنی حد کو پہنچ چکی ہے، پاکستان دفاع کے فطری حق کے تحت اقدامات کررہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی انتباہات کے باوجود دہشت گرد گروہوں کو مسلسل جگہ ملتی رہی، افغانستان میں حالات پچھلے دور سے بھی زیادہ تشویشناک اورغیریقینی ہوچکے ہیں اور دوحہ معاہدے کے وعدوں کے برعکس دہشت گرد عناصر کو کھلی چھٹی ملی ہوئی ہے۔

ان کا کہنا تھاکہ اقوام متحدہ کی تازہ رپورٹ نے متعدد گروہوں کی افغانستان میں سرگرم موجودگی کی تصدیق کی، رپورٹ کے مطابق داعش خراسان اور کالعدم ٹی ٹی پی سمیت کئی تنظیمیں افغان سرزمین استعمال کررہی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  پاکستان نےافغانستان میں دہشتگردوں کے سات مرکز تباہ کئے، اسی دہشتگرد  جہنم رسید کئے 
یہ بھی پڑھیئے: افغانستان میں ہماری کارروائیوں میں 70  دہشتگرد مارے گئے: طلال چوہدری کا انکشاف 

 صدرمملکت نے کہا، افسوس ہے کہ افغان حکام نے انتباہات کے باوجود کوئی قابلِ اعتبار اقدام نہیں کیا، پاکستان نے طویل عرصہ تحمل دکھایا اور کارروائیاں محدود علاقوں تک رکھیں، تشدد کے منصوبہ ساز کہیں بھی ہوں دسترس سے باہر نہیں رہیں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان خطے میں پائیدار امن،استحکام اور تعاون پر مبنی تعلقات چاہتا ہے، امن صرف تب ممکن ہے جب دہشت گردی کےخلاف عملی اورسنجیدہ اقدامات ہوں، پاکستانی جانوں کا تحفظ اولین ترجیح ہے، اس حوالے سے کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، 

صدر آسف علی زرداری نے مزید کہا،   افغانستان میں طالبان رجیم نے نائن الیون سے پہلے جیسی یا اس سے بھی بدترصورتحال پیدا کردی ہے، داعش خراسان، ٹی ٹی پی،القاعدہ، ایسٹرن ترکستان اسلامک موومنٹ افغانستان سے آپریٹ کررہی ہیں، جماعت انصاراللہ، اتحاد المجاہدین پاکستان اور دیگر گروہ افغانستان میں موجود ہیں۔

 گزشتہ شب پاکستان نے افغانستان میں دہشت گردوں کے کم از کم سات اڈے تباہ کئے۔ تین صوبوں مین دہشتگرد گروہوں کے بڑے نیٹ ورک کے  تربیتی مراکز اور تیار دہشتگردوں کی کمین گاہوں پر بمباری کی۔

ننگرہار، پکتیکا اورخوست میں فتنہ الخوارج اور کالعدم ٹی ٹی پی  کو نشانہ بنایا۔ وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہاکہ اطلاعات کے مطابق 70 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا گیا، زیادہ تر ہلاک دہشت گرد پاکستانی تھے۔