پاکستان نےافغانستان میں دہشتگردوں کے سات مرکز تباہ کئے، اسی دہشتگرد جہنم رسید کئے
Stay tuned with 24 News HD Android App
(احمد منصور) پاکستان نے مسلسل دراندازیوں اور دہشتگردی کی سنگین کارروائیوں کے بعد کل رات دہشتگردوں کے گڑھ افغانستان میں انٹیلی جنس بیس ائیراسٹرائیکس میں الخوارج کے 7 مراکز کو تباہ و برباد کر دیا۔ اسی سے زیادہ دہشتگرد ان سٹرائیکس مین واصلِ جہنم ہو گئے۔ یہ سات مرکز افغانستان کے پاکستان سے ملحق تین صوبوں میں کام کر رہے تھے۔
سیکیورٹی ذرائع نے آج تصدیق کی ہے کہ گزشتہ رات پاکستان نے افغانستان میں انٹیلی جنس بیسڈ ائیراسٹرائیکس کیں۔ تین صوبوں ننگرہار، پکتیکا اورخوست میں فتنہ الخوارج اور کالعدم ٹی ٹی پی کے 7 مراکز کو تباہ کیا گیا اور کارروائی میں80 سے زائد خوارج ہلاک ہوگئے۔
کل رات پاکستان کی جانب سے انٹیلیجنس بیس ائر سٹرائیک میں تین صوبوں ننگر ہار، پکتیکا اور خوست میں موجود فتنہ الخوارج ٹی ٹی پی کے سات مراکز کو تباہ کیا گیا جس میں اسی سے زائد خوارجی کے جہنم واصل ہونے کی اطلاع کنفرم ہو چکی ہے جبکہ مزید کی امید ہے۔ تباہ کیے گئے مراکز کے نام مندرجہ ذیل ہیں
????نیا مرکز نمبر ۱، ننگرہار
????نیا مرکر نمبر ۲، ننگرہار
????خارجی مولوی عباس مرکز، خوست
????خارجی اسلام مرکز، ننگرہار
????خارجی ابراہیم مرکز، ننگرہار
????خارجی ملا رہبر ، پکتیکا
????خارجی مخلص یار، پکتیکا
سکیورٹی ذرائع نے بتایاکہ تباہ کیے گئے مراکز میں نیا مرکز نمبر ایک ننگرہار، نیا مرکز نمبردو ننگرہار خارجی مولوی عباس مرکزخوست، خارجی اسلام مرکز ننگرہار، خارجی ابراہیم مرکزننگرہار،خارجی ملارہبرمرکزپکتیکا اور خارجی مخلص یارمرکز پکتیکا عرصہ دراز سے پاکستان کے خلاف سازشوں اور دہشتگردی کے منصوبے بنا کر دہشتگردوں کی تشکیلین پاکستان بھیجنے میں ملوث ہیں۔
ذرائع کے مطابق افغانستان کے صوبہ پکتیا ،پکتیکا، ننگر ہار او رخوست میں جیٹ طیاروں نے بمباری کی جس دوران دہشتگردوں کو بھاری نقصانات کی اطلاعات ہیں ، دہشتگردوں کے متعدد ٹھکانے ملیا میٹ کر دیئے گئے ہیں ۔
وزارت اطلاعات و نشریات نے بتایا کہ پاکستان میں حالیہ خودکش حملوں میں افغانستان میں موجود دہشتگرد قیادت اور ان کے سہولت کار ملوث ہیں۔ دہشتگردوں نے حال ہی میں اسلام آباد کی امام بارگاہ، باجوڑ اور بنوں میں کارروائیاں کیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ان حملوں کی ذمہ داری افغانستان میں موجود پاکستانی طالبان، فتنہ الخوارج اور اس کے اتحادیوں نے قبول کی ہے۔ پاکستان کے پاس اس بات کے ٹھوس شواہد موجود ہیں کہ یہ دہشتگرد کارروائیاں افغانستان میں موجود قیادت کی ہدایات پر کی گئیں۔