وزیر آبی وسائل سے برطانوی ہائی کمیشن کی سیاسی قونصلرکی ملاقات،آبی تعاون پر تبادلہ خیال
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24نیوز)وفاقی دارالحکومت میں وزارت آبی وسائل میں ایک اہم ملاقات کے دوران برطانوی ہائی کمیشن کی سیاسی قونصلر محترمہ زو ویئر نے وفاقی وزیر برائے آبی وسائل میاں محمد معین وٹو سے ملاقات کی جس میں سندھ طاس معاہدے اور علاقائی آبی تعاون کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
وفاقی وزیر نے ملاقات میں پانی کی انسانی و معاشی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان ہمیشہ سے بین الاقوامی معاہدوں، بالخصوص سندھ طاس معاہدے، کی پاسداری کرتا آیا ہے، انہوں نے بھارت کے یکطرفہ اقدامات پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ایک "بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ معاہدے کی صریح خلاف ورزی" قرار دیا۔
وزیر آبی وسائل کا کہنا تھا کہسندھ طاس معاہدہ محض ایک دو طرفہ سمجھوتہ نہیں بلکہ ایک جامع معاہدہ ہے جو فریقین کے درمیان کسی بھی تنازعے کے حل کے لیے واضح طریقہ کار فراہم کرتا ہے۔ بھارت اس معاہدے کو یکطرفہ طور پر ختم یا نظرانداز نہیں کر سکتا،انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان نے ہمیشہ قانونی اور سفارتی ذرائع کا انتخاب کیا ہے اور بات چیت کے دروازے ہر وقت کھلے رکھے ہیں۔
زو ویئر نے پاکستان کے اصولی مؤقف اور بین الاقوامی معاہدوں سے وابستگی کو سراہا انہوں نے کہاکہ برطانیہ کو امید ہے کہ بھارت بھی پرامن حل کی راہ اختیار کرے گا،ہم پاکستان کے تعمیری کردار کو تسلیم کرتے ہیں اور جہاں ممکن ہوا، مثبت کردار ادا کرنے کو تیار ہیں۔
واٹر ریسورس اکاؤنٹیبلٹی پروگرام (WRAP) پر بریفنگ؛
ملاقات کے دوران برطانوی وفد نے "واٹر ریسورس اکاؤنٹیبلٹی پروگرام (WRAP)" پر بھی بریفنگ دی جو برطانوی حکومت کے FCDO کے تحت پاکستان میں پانی کی حکمرانی کو بہتر بنانے اور قدرتی وسائل پر مبنی حل (Nature-Based Solutions) میں اصلاحات پر مرکوز ہے۔
وفاقی وزیر نے اس پروگرام میں گہری دلچسپی ظاہر کرتے ہوئے کہاکہ ہماری خواہش ہے کہ WRAP کے تحت تعاون کو وسعت دے کر عوام اور ماحول دونوں کے لیے دیرپا فوائد حاصل کیے جا سکیں۔ پاکستان اس شراکت داری کو شفاف، مؤثر اور منظم بنیادوں پر فروغ دینے کے لیے پُرعزم ہے۔
ملاقات میں دونوں فریقین نے علاقائی امن، پانی کے مسائل پر تعاون اور بین الاقوامی معاہدوں کی پاسداری کے لیے مل کر کام کرنے کے عزم کا اعادہ کیا، زو ویئر نے پاکستان کی سنجیدہ اور قانونی حکمت عملی کو "بالغ نظری اور ذمہ داری کا مظہر قرار دیا۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم آزادکشمیر کا آرمی چیف کو فیلڈ مارشل بننے پر مبارکباد، بھارت پر کڑی تنقید