پاکستان سپورٹس بورڈ کے پینشنرز کی ڈی جی سے ملاقات، مسائل حل ہونے کی یقین دہانی مل گئی

May 20, 2026 | 18:42:PM
پاکستان سپورٹس بورڈ کے پینشنرز کی ڈی جی سے ملاقات، مسائل حل ہونے کی یقین دہانی مل گئی
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24نیوز)  پاکستان سپورٹس بورڈ کے پنشنرز کی ڈائریکٹر جنرل PSB سے ملاقات میں ڈائریکٹر جنرل نے پینشنرز کے مسائل کو حل کرنے کی یقین دہانی کروا دی۔ پینشنرز اور بیواؤں نے دیگر مسائل کے حل کے ساتھ پاریل مئی کی پینشن عید الاضحیٰ سے پہلے ادا کرنے کا مطالبہ کیا۔

اسلام آباد میں پاکستان سپورٹس بورڈ کے ریٹائرڈ ملازمین اور بیواؤں کے وفد نے ڈائریکٹر جنرل PSB محی الدین احمد وانی سے ملاقات کی اور انہیں پنشن کی بروقت ادائیگی سے متعلق درپیش مسائل سے آگاہ کیا۔

 وفد نے  بتایا کہ پنشن کا موجودہ نظام نیشنل اسپورٹس ٹرسٹ (NST) کے 1980 میں پاکستان سپورٹس بورڈ میں انضمام کے بعد مختلف سرکاری فیصلوں، وفاقی محتسب کی ہدایات اور متعلقہ وزارتوں کے احکامات کی روشنی میں قائم ہوا، جس کے تحت پاکستان سپورٹس بورڈ کو ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن کی ادائیگی کا اختیار دیا گیا۔ مزید بتایا گیا کہ 1984 میں PSB کی جنرل باڈی اور ایگزیکٹو کمیٹی نے پنشن اسکییم اور ریگولیشنز کی منظوری دی جبکہ 2008 میں وزارتِ کھیل نے اس اسکییم کو گزٹ نوٹیفکیشن کے ذریعے باقاعدہ نافذ کیا۔ اس کے تحت PSB 2006 سے اپنے محدود وسائل سے پنشن کی ادائیگی کر رہا ہے اور اس وقت 250 سے زائد ریٹائرڈ ملازمین اور 42 فیملی پنشنرز اس سے مستفید ہو رہے ہیں۔

وفد نے یہ بھی واضح کیا کہ موجودہ انتظامی ڈھانچے میں کنٹریبیوٹری پروویڈنٹ فنڈ (CPF) کا اطلاق ممکن نہیں رہا کیونکہ مارچ 2006 کے بعد اس کی کٹوتیاں بند ہو چکی ہیں، لہٰذا کسی متبادل نظام کا فوری اطلاق عملی طور پر مشکلات کا باعث بن رہا ہے۔ مزید بتایا گیا کہ موجودہ PSB بورڈ نے 2025 میں کنٹریبیوٹری پنشن فنڈ کے قیام کی منظوری دی ہے تاکہ پنشن نظام کو زیادہ پائیدار بنایا جا سکے، جس کے تحت جولائی 2025 سے ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن سے 10 فیصد، 72 سال سے زائد عمر کے پنشنرز سے 20 فیصد جبکہ ریگولر ملازمین سے 10 فیصد کٹوتی کی جا رہی ہے۔

وفد نے  نشاندہی کی کہ ادارے میں ڈپوٹیشن پر تعینات افسران کی ایک بڑی تعداد خدمات انجام دے رہی ہے، جو مبینہ طور پر بنیادی تنخواہ کے ساتھ تقریباً 150 فیصد تک سپورٹس الاؤنس بھی حاصل کر رہے ہیں، جبکہ سرکاری پالیسی کے مطابق کفایت شعاری اور اخراجات میں کمی کی ہدایات پر بھی عملدرآمد جاری ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی مؤقف اختیار کیا گیا کہ ان افسران کو سرکاری گاڑیوں اور پیٹرول کی سہولت بھی حاصل ہے، جس کے باعث ادارے کے مجموعی مالی دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے۔

ان اخراجات اور سہولیات کے تناظر میں پنشن کی بروقت ادائیگی کو یقینی بنانا ناگزیر ہے۔ وفد نے درخواست کی کہ اپریل اور مئی 2026 کی پنشن فوری طور پر جاری کی جائے، خصوصاً عیدالاضحیٰ کے پیش نظر تاکہ ریٹائرڈ ملازمین اور ان کے اہل خانہ کو مالی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اس ضمن میں پینشنرز اور بیوہ گان کی جانب سے دستخط شدہ خط جو کہ ڈائریکٹر جنرل پاکستان سپورٹس بورڈ کو لکھا گیا ہمراہ منسلک ہے 

ڈائریکٹر جنرل پاکستان سپورٹس بورڈ نے وفد کی گزارشات توجہ سے سنیں اور یقین دہانی کرائی کہ پنشنرز کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر دیکھا جا رہا ہے اور اس ضمن میں مثبت پیش رفت جلد سامنے لائی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں: 24 گھنٹوں میں ملک کے مختلف اضلاع میں بارش، ژالہ باری کا الرٹ جاری