اے آئی اِن، ہیومن آؤٹ؛ میٹا نے 7 ہزار ملازموں کو میمو بھیج دیا
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ویب ڈیسک) اے آئی نے ٹیکنالوجی کمپنی میٹا مین مزید کام سنبھال لئے، اس کے نتیجہ میں میٹا نے مزید ہزاروں ملازموں کو نوکری سے فارغ کرنے کا اشارہ دے دیا۔ بتایا جا رہا ہے کہ میٹا نے 7 ہزار ملازموں کو میمو بھیج دیا ہے۔
میٹا کی تشکیل نو کا عمل تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ جو کام پہلے انسان کر رہے تھے، وہ اب آرٹیفیشل انٹیلیجنس بوٹ کر رہے ہیں اور ہزاروں ملازم فالتو ہو گئے ہیں۔ فیس بل، انسٹا گرام اور وٹس ایپ کے مالک ادارہ میٹا سے ہزاروں ملازمین کی برطرفی سے متعلق اچانک آئی خبر سے دنیا بھر کے "ٹیکنالوجی سیکٹر " میں کام کرنے والے نوجوانوں میں کھلبلی مچ گئی ہے۔
ٹیکنالوجی کمپنی میٹا سے جڑی یہ خبر پریشان کن تو ہے لیکن حیران کن نہیں کیونکہ کئی سال سے یہ بتایا جا رہا تھا کہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس کا کام ہی انسانوں سے لی جانے والی مشقت کا بوجھ خود اٹھانا ہے، جب آرٹیفیشل انٹیلیجنس نے میٹا مین بہت سے کام سینبھال لئے اور انسناوں سے بھی کچھ بہتر اور تیز رفتار کے ساتھ کرنا شروع کر دیا تو بہت سے ملازموں کو گھر جانا ہی تھا۔ اب جب یہ خبر سامنے آ رہی ہے کہ میٹا نے اپنے مختلف محکموں میں بڑے پیمانے پر ملازمین کو نکالنا شروع کر دیا ہے تو بعض لوگ پریشانی کا اظہار کر رہے ہیں۔
بتایا جا رہا ہے کہ تقریباً 8,000 ملازمین پر برطرفی کا قہر ٹوٹنے والا ہے۔ برطرفی کی شروعات میٹا کے سنگا پور ہب سے ہوئی ہے۔ میٹا کے باخبر ذرائع کہہ رہے ہیں کہ میٹا کے دنیا بھر میں تقریباً 10 فیصد ملازمین تشکیل نو کے سبب نوکری سے ہاتھ دھویں گے۔ ایک رپورٹ میں بتایا گیاہے کہ ایک انٹرنل میمو میں میٹا کی تشکیل نو کے دوران تقریباً 7 ہزار ملازمین کے کام کو اے آئی کے نئے کردار میں منتقل کرنے کے منصوبے کا ذکر کیا گیا ہے۔
اس بہت متوقع خبر سے امریکہ اور برطانیہ سمیت دنیا بھر کے ٹیک سیکٹر میں کام کرنے والے کم صلاحیت کے مالک ملازموں میں کھلبلی مچ گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : ڈبے پر پھلوں کی تصویریں، اندر شراب؛ پڑوسی ملک میں شراب فروشی کا نیا ڈھنگ سپریم کورٹ میں چیلنج
فیس بک، انسٹاگرام اور وٹس ایپ کی مالک میٹا کمپنی نے اس بار ملازمین کو نوکری سے نکالنے کے لیے ایک بے حد خاموش راستہ اپنایا۔ امریکہ اور برطانیہ میں ملازمین کو سب سے پہلے ایک سیدھا اور معمولی پیغام بھیجا گیا جس میں ان سے کہا گیا کہ آج کوئی بھی دفتر نہ آئے اور سب گھر سے ہی کام (ورک فرام ہوم) کریں۔ اس کے کچھ دیر بعد ہی ملازمین کے ’ان باکس‘ میں نوکری سے نکالے جانے کے ای میل مل گئے۔ بلومبرگ کی ایک رپورٹ کے مطابق سنگا پور میں متاثرہ ملازمین کو مقامی وقت کے مطابق صبح 4 بجے (ہندوستانی وقت کے مطابق رات 1.30 بجے) ہی نوکری سے فارغ کئے جانے کے ای میل موصول ہوگئے تھے۔
رپورٹ کے مطابق شمالی امریکہ کے ملازمین کو بھی فارغ کئے جانے والے دن "گھر سے کام کرنے" کے لئے کہا گیا تھا۔ برطرف کرنے کے اس طریقہ پر میٹا نے سابقہ برطرفیوں کے دوران بھی عمل کیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں : صنم جاوید کی 9 مئی کے مقدمے سزا معطلی اور رہائی کی درخواست پر اہم پیش رفت
ان برطرفیوں سے پہلے میٹا میں تقریباً 78 ہزار ملازمین کام کررہے تھے۔ اب ہزاروں لوگوں کو باہر کا راستہ دکھا دیا گیا ہے تو وہیں ہزاروں ملازمین کا کام تبدیل کیا جارہا ہے۔ کمپنی کے اندر بھیجے گئے ایک میمو میں چیف پیپل آفیسر جینیل گیل نے بتایا کہ تقریباً 7 ہزارملازمین کو نئی ٹیکنیکل ٹیموں میں بھیجا جائے گا۔ کمپنی نے تقریباً 6,000 خالی عہدوں کو ہمیشہ کے لیے ختم کردیا ہے۔ اس بار برطرفی کی بجلی منیجر کی حہیثیت سے کام کرنے والے درجنوں ملازموں پر بھی گری ہے۔
ملازموں کے لئے تو یہ سال آغاز سے ہی خڑاب رہا ہے۔ نئے سال کے پہلے دوہفوں میں 46 ٹیک کمپنیوں نے 7500 سے زیادہ ملازمین کو فارغ کر دیا تھا۔ تب سے برطرفیوں کا سلسلہ تھمنے میں نہیں آ رہا۔
اب میٹا کی تشکیل نو کے حوالے سے کمپنی کے چیف پیپل آفیسر گیل نے کہا، بدلاو پر کام کرتے ہوئے نئی ٹیموں نے اے آئی پر مرکوز ڈیزائن اصولوں کو اپنے نئے ادارہ جاتی ڈھانچوں میں شامل کیا ہے۔
یہ تشکیل نو ایسے وقت میں ہورہی ہے جب میٹا اے آئی بنیادی ڈھانچے پرخرچ میں کافی اضافہ کررہا ہے۔ اس کے علاوہ کمپنی نے 2026 کے لئے 15 ارب ڈالر سے 145 ارب ڈالر کے درمیان سرمایہ اخراجات کا اندازہ لگایا ہے جو خاص طور سے اے آئی ڈیٹا سینٹروں، کسٹم چپس اور ماڈل ٹریننگ پر مرکوز ہے۔