کامسٹیک کے کوآرڈینیٹر جنرل کی غزہ کی جامعات کے سربراہان سے اہم ملاقات

   جنگ سے تباہ حال اعلیٰ تعلیمی شعبے کی بحالی کیلئے مربوط حکمت عملی اور انسانی و علمی معاونت پر غور کیا گیا

Jul 20, 2025 | 15:23:PM
 کامسٹیک کے کوآرڈینیٹر جنرل کی غزہ کی جامعات کے سربراہان سے اہم ملاقات
کیپشن: کامسٹیک کے کوآرڈینیٹر جنرل غزہ کی جامعات کے سربراہان کے ساتھ ورچوئل اجلاس میں شریک ہیں
سورس: 24 News
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک)  او آئی سی کے ذیلی ادارےکامسٹیک کے کوآرڈینیٹر جنرل نے غزہ کی جامعات کے سربراہان سے اہم ملاقات کی جس میں تعلیم کی بحالی کے لیے انسانی و علمی تعاون پر تبادلہ خیال کیاگیا۔
 او آئی سی کے ذیلی ادارےکامسٹیک کے کوآرڈینیٹر جنرل پروفیسر ڈاکٹر محمد اقبال چوہدری نے غزہ کی معروف جامعات کے وائس چانسلرز سے ایک اعلیٰ سطحی ورچوئل اجلاس میں ملاقات کی جس میں غزہ میں جاری جنگ سے تباہ حال اعلیٰ تعلیمی شعبے کی بحالی کے لیے مربوط حکمت عملی اور انسانی و علمی معاونت پر تفصیلی غور کیا گیا۔
ڈاکٹر اقبال چوہدری نے فلسطینی قوم بالخصوص اساتذہ، طلبہ اور محققین کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ غزہ کے عوام کی تکالیف ناقابل بیان ہیں لیکن ان کا حوصلہ قابلِ رشک ہے۔
 انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ کامسٹیک اس کڑے وقت میں فلسطینی علمی اداروں کے ساتھ ہر ممکن تعاون جاری رکھے گا،اجلاس کے دوران ڈاکٹراقبال چوہدری نے ان جامعات کے سربراہان کو، جو اس وقت غزہ سے باہر موجود ہیں، اسلام آباد کے دورے کی دعوت دی تاکہ وہ پاکستانی اداروں اور پالیسی سازوں سے براہِ راست ملاقاتیں کر سکیں اور تعلیمی تسلسل کی راہیں تلاش کی جا سکیں۔
ڈاکٹر چوہدری نے کامسٹیک کی فلسطینی طلبہ و محققین کے لیے جاری کاوشوں سے بھی آگاہ کیااور بتایا کہ کامسٹیک کے اردن میں قائم نمائندہ دفتر کے ذریعے 5,000 وظائف اور ریسرچ فیلوشپس کی فراہمی کا عمل جاری ہے، جس سے غزہ کے نوجوانوں کو تعلیم جاری رکھنے میں مدد ملے گی۔
اس موقع پر الجامعۃ الازہر غزہ کے صدر پروفیسر عمر میلاد نے کامسٹیک کی کوششوں کو ’’غزہ کے علمی مستقبل کے لیے ایک امید کی کرن‘‘قرار دیااور پانچ ہزاراسکالرشپس کے اعلان کو تعلیمی بحالی کا ایک تاریخی قدم قرار دیا۔

یہ بھی پڑھیں:پنجاب میں’’ سکول آن ویل’’ اور’’موبائل لائبریری ‘‘شروع کرنے کا فیصلہ
اجلاس میں غزہ کی جامعات کے نمائندوں نے ایک جامع پریزنٹیشن بھی پیش کی، جس میں جنگ زدہ تعلیمی اداروں کو درپیش فوری مسائل اجاگر کیے گئے، ان میں بے گھر طلبہ کے لیے طبی تعلیم کے مواقع، صحت کے شعبے میں صلاحیت سازی، سائنسی اشاعت تک رسائی، جنگ کے نفسیاتی اثرات (خصوصاً بچوں پر) پر تحقیق، آن لائن تعلیم اور ورچوئل لیبز کا قیام جیسے نکات شامل تھے۔کامسٹیک کے اعلیٰ حکام بھی اجلاس میں شریک ہوئے اور غزہ میں تعلیمی نظام کی بحالی کے لیے اپنی غیر متزلزل وابستگی کا اعادہ کیا۔
یہ ملاقات نہ صرف فلسطینی جامعات کے لیے امید کا پیغام ہے بلکہ امت مسلمہ کے درمیان علمی و انسانی یکجہتی کی ایک اعلیٰ مثال بھی۔