8فروری کے احتجاج  کی کال واپس نہیں ہوگی: محمد زبیر

Jan 20, 2026 | 23:31:PM
8فروری کے احتجاج  کی کال واپس نہیں ہوگی: محمد زبیر
کیپشن: گونج مسعود رضا کے ساتھ
سورس: 24نیوز
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24نیوز)  رکن تحریک تحفظ آئین پاکستان محمد زبیر  نے کہاہےکہ8 فروری کے احتجاج کی کال واپس نہیں ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاسی میں مذاکرات اور بات چیت چلتی رہتی ہے  جبکہ احتجاج ایک الگ عمل ہے، دونوں کو آپس میں مکس نہیں کرنا چاہیے۔

24 نیوز ایچ ڈی کے پروگرام گونج مسعود رضا کے ساتھ میں گفتگو کرتے ہوئے رکن تحریک تحفظ آئین پاکستان محمد زبیر  نے کہا کہ تحریک انصاف کو 4سال بعد یہ سمجھ آیا ہے کہ سیاست میں سولو فلائٹ کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا،ان کا کہنا تھا کہ ہماری کسی سے ذاتی لڑائی نہیں، البتہ ہماری ایک واضح سیاسی پوزیشن ہے کہ آئین کو اس کی اصل حالت میں بحال کیا جائے۔

محمد زبیر نے انکشاف کیا کہ بانی تحریک انصاف نے محمود خان اچکزئی اورعلامہ راجہ ناصر عباس کو مذاکرات کے اختیارات دے دیے ہیں تو کسی بات کی کنفیوژن نہیں ہونی چاہیے کے کس سے بات کی جائے اور کس سے نہیں جنہیں بانی نے اختیارات دیے ہے ان سے بات کریں تاہم انہوں نے واضح کیا کہ آٹھ فروری کے احتجاج کی کال واپس نہیں ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاسی میں مذاکرات اور بات چیت چلتی رہتی ہے  جبکہ احتجاج ایک الگ عمل ہے، دونوں کو آپس میں مکس نہیں کرنا چاہیے۔

انہوں نے وزیر اعظم پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ معصومانہ بات ہے کہ مذاکرات میں  الیکشن پر گفتگو نہیں ہوگی  جبکہ 2024 کے انتخابات کی تحقیقات انتہائی ضروری ہیں۔

 محمد زبیر کا کہنا تھا کہ ہم حکومت سے لڑ نہیں سکتے، احتجاج ہی ہمارا آئینی اور جمہوری راستہ ہے، انہوں نے یہ بھی کہا کہ محمود خان اچکزئی کئی برس تک میاں نواز شریف کے بہت قریب رہے ہیں، اس لیے بات چیت کے امکانات موجود ہیں۔

پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے رہنما پاکستان مسلم لیگ (ن)خرم دستگیرنے کہا کہ قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈرمحمود خان اچکزئی اور سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ راجہ ناصر عباس  کی تعیناتی ایک خوش آئند عمل ہے اور اب ایک لیڈر کی رہائی کے نعرے کے بجائے عوام کی بھلائی کے لیے پارلیمان میں سنجیدہ گفتگو ہونی چاہیے، ان کا کہنا تھا کہ پارلیمان کو مضبوط کرنے کی ہمیشہ ضرورت رہی ہے۔

خرم دستگیر نے کہا کہ صرف نعرے لگانے اور کاغذ پھاڑنے سے مزاحمت نہیں ہوتی،تحریک انصاف کا2 سال گزرنے کے باوجود الیکشن کی بات کرتے رہنا کوئی تعمیری سیاست نہیں،انہوں نے زور دیا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ سیاست سے بالاتر ہونی چاہیے اور اس معاملے پر تحریک انصاف کی مخالفت انہیں کوئی فائدہ نہیں دے گی۔

انہوں نے کہا کہ آپریشن کی مخالفت سے مسائل حل نہیں ہوں گے اور محمود خان اچکزئی بھی اس حقیقت سے آگاہ ہیں کہ دہشت گردی ایک بڑا قومی مسئلہ ہے،خرم دستگیر کے مطابق قومی مذاکرات کا ایجنڈا بھی قومی ایشوز تک محدود ہونا چاہیے تاکہ ملک کو درپیش سنگین چیلنجز کا حل نکالا جا سکے۔

یہ بھی پڑھیں   ؛ خواجہ آصف ہائبرڈ نظام کے بانی ہیں؛قادر مندوخیل