کم عمر لڑکے اور لڑکی کا نکاح پڑھانے والے نکاح خواں کو قید کی سزا

Jan 20, 2026 | 21:04:PM
 کم عمر لڑکے اور لڑکی کا نکاح پڑھانے والے نکاح خواں کو قید کی سزا
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک) برطانیہ میں کم عمر لڑکے اور لڑکی کا نکاح پڑھانے والے نکاح خواں کو قید کی سزا سنا دی گئی۔
 کم عمر جوڑے کا نکاح پڑھانے والے نکاح خواں کو قید کی سزا سنا ئے جانے کے واقعہ میں دولہا اور دلہن دونوں کی عمر  صرف 16 سال تھی۔

لندن کے میڈیا کے مطابق  انگلینڈ کی  نارتھمٹن کراؤن کورٹ نے ایک مذہبی رہنما اشرف عثمانی کو ساڑھے تین ماہ قید کی سزا سنائی ہے کیونکہ اس نے دو بچوں کا نکاح کر دیا تھا۔ نومبر 2023 میں ہونے والے اس نکاح کے وقتدولہا کی عمر 16 سال تھی اور دلہن کی عمر بھی  16 برس ہی تھی۔  برٹش قانون کے مطابق 16 سال عمر کے افراد کو بچہ تصور کیا جاتا ہے اور بچوں کو شادی کرنے کی اجازت نہیں۔

 میڈیا رپورٹس کے مطابق 52 سال عمر کے  پیش امام اشرف عثمانی نے کم عمر افراد کا نکاح پڑھانے کے دو الزامات تسلیم کرلیے تھے۔  اس نےعدالت میں یہ دعویٰ کیا کہ 9 ماہ پہلے شادی کی کم از کم عمر 18 برس کیے جانے کا پتہ نہیں تھا۔

 اس کیس کی سماعت کے دوران  پراسیکیوٹرز نےعدالت کو بتایا کہ اشرف عثمانی نے کم عمر بچوں کی شادی کے سرٹیفکیٹ جاری کرنے کی 50 پاؤنڈ فیس وصول کی تھی۔  جج نے یہ نوٹ کیا  کہ یہ نکاح پڑھانے کے حوالے سے کوئی تشدد یا جبر سامنے نہیں آیا  اور یہ جوڑا اپنی مرضی سے نکاح کرنے کیلئے آیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں ؛ بورڈ آف پیس میں آؤ ورنہ دو سو فیصد ٹیرف بھگتو؛ صدر ٹرمپ کی فرانس کو دھمکی

پراسیکیوشن نے عدالت کو یہ بھی بتایا کہ یہ کم عمر جوڑا پہلے ایک مسجد گیا تھا جہاں ان کا نکاح پڑھانے سے انکار کردیا گیا تھا کیونکہ ان کی عمر نکاح کرنے کے لئے درکار عمر سے تھوڑی تھی۔۔

عدالت کو بتایا گیا کہ اس نکاح کے بعد جشن بھی منایا گیا تھا۔ اشرف عثمانی کے  وکیل نے عدالت کے روبرو یہ مؤقف اختیار کیا  کہ نکاح پڑھانے کا  20 سالہ تجربہ ک رکھنے کے دوران امام اشرف عثمانی سے یہ پہلی مرتبہ غلطی ہوئی۔ وکیل نے اپنے مؤکل اشرف عثمانی کی طرف سے یہ دعویٰ کیا کہ دراصل اسے  شادی کی عمر کے  قانون میں تبدیلی کا علم نہین تھا۔ اسے علم ہوتا تو وہ یہ نکاح نہ پڑھاتا۔  مجرم کے اس عذر کے سبب عدالت نے اسے قید کی تھوڑی سزا سنائی۔  اس جرم کی قانون میں سزا سات سال تک ہے۔ 

 اشرف عثمانی ایک مسجد مین پیش امام ہے۔ اس نے سزا سننے کے بعد عدالت سے جاتے ہوئے کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

انگلینڈ میں کم عمر بچوں کی شادی کا قانون پہلے کیا تھا 
انگلینڈ  اور ویلز   میں 18 سال سے کم عمر کی شادی یا نکاح کو 27 فروری 2023 سے ایک مجرمانہ فعل قرار دیا گیا ہے۔ برطانوی میڈیا اور سرکاری ذرائع کے مطابق اس قانون کے اہم پہلو درج ذیل ہیں: 
قانون میں تبدیلی "میرج اینڈ سول پارٹنرشپ (منیمم ایج) ایکٹ 2022" کے تحت کی گئی ہے، جس نے 16 اور 17 سال عمر کے بچوں کے لیے" والدین کی رضامندی سے شادی"  کا پرانا راستہ ختم کر دیا ہے۔

غیر رجسٹرڈ نکاح بھی جرم

 فروری 2023 مین نافذ ہونے والا یہ قانون نہ صرف رجسٹرڈ شادیوں پر لاگو ہوتا ہے بلکہ غیر قانونی یا غیر رجسٹرڈ مذہبی اور روایتی ایجاب و قبول، جیسے کہ اسلامی نکاح، کو بھی جرم قرار دیتا ہے۔
اگر کوئی بالغ شخص کسی بچے کی شادی یا نکاح کا انتظام کرے یا اس میں سہولت فراہم کرے، تو اسے 7 سال تک قید کی سزا ہو سکتی ہے۔

یہ بھی دیکھیئے: امریکہ پاکستان کی آزادی سے شروع ہونےوالی شراکت داری کو بڑھا رہا ہے، ناظم الامور نیٹلی بیکر