شراب کے کیس؛عدالت نے فی ملزم 30 سیکنڈ کی رفتارسے سینکڑوں ضمانتیں لے لیں
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24نیوز) انتظامیہ نے شراب پینے میں ملوث سینکڑوں ملزم گھنٹوں محنت کر کے پکڑے، عدالت نے فی ملزم 30 سیکنڈ خرچ کر کے سینکڑوں ضمانتیں لے لیں۔
شراب بند کرنے کے قانون کے تحت حکومتی انتظامیہ نے سینکڑوں لوگوں کو گرفتار کیا، بہار کی پٹنہ ہائی کورٹ نے ایک روز میں ریکارڈ 463 لوگوں کی ضمانت لے لی۔ انتظامیہ کعدالت کے اس طرز عمل پر سخت دکھی ہے۔
پٹنہ ہائی کورٹ کے شرابیوں کی ضمانتوں کے مقدمات کی سماعت کرنے والے جسٹس رودر پرکاش مشرا نے سماعت کے دوران حیرانی کا اظہار کیا کہ شراب کی بہت چھوٹی مقدار برآمد ہونے پر بھی لوگوں کو طویل عرصے تک سلاخوں کے پیچھے رہنا پڑ رہا ہے۔
پٹنہ ہائی کورٹ سے پیر 19 جنوری کو ریکارڈ تعداد میں 463 لوگوں کو ضمانت دی گئی۔ ان سب کو پولیس نے شراب بندی قانون کے تحت گرفتار کیا تھا۔ ان ملزموں کی ضمانت کی درخواستوں کی سماعت کرتے ہوئے عدالت کی جانب سے اتنی بڑی تعداد میں ملزموں کو ضمانت پر رہا کرنے کا فیصلہ کیا گیا کیونکہ جسٹس پرکاش مشرا کی نظر میں ان کا جرم بہت معمولی تھا۔
پیر کو جسٹس رودر پرکاش مشرا کی سنگل بنچ نے شراب سے منسلک 508 مقدمات کی سماعت کی تھی۔ رودر پرکاش مشرا کی بنچ نے قانون کے خراب نفاذ اور قلیل مقدار میں شراب ملنے پر بھی طویل جیل کی مدت کو دیکھتے ہوئے یہ تاریخی فیصلہ سنایا ہے، جس سے عدالتوں پر بوجھ کم ہوا۔ بھارتی میڈیا میں رپورٹ ہوا کہ شراب کے سبب قید لوگوں کی درخواستوں کی ریکارڈ 30 سیکنڈ فی کیس کی رفتار سے سماعت ہوئی۔
یہ بھی پڑھیں : اگر گیٹ بند تھے تو اتنے لوگ کیسے باہر نکلنے میں کامیاب ہوئے، صدر گل پلازہ کا مؤقف
عدالت نے پایا کہ قانون پر صحیح طریقے سے عمل نہیں ہو رہا ہے اور کم مقدار میں شراب ملنے پر بھی ملزمان طویل وقت تک جیل میں رہتے ہیں، جس کی وجہ سے عدالتوں پر بوجھ بڑھ رہا ہے۔ اس سماعت میں تقریباً ہر معاملہ کی سماعت اوسطاً 30 سیکنڈ میں کی گئی، جو ایک بے مثال رفتار ہے۔ اس سے قبل ایک روز میں تقریباً 300 لوگوں کو ضمانت دی جا چکی ہے، لیکن اب 463 کے ساتھ یہ ریکارڈ ٹوٹ گیا ہے۔ جسٹس رودر پرکاش مشرا نے حیرانی کا اظہار کیا کہ شراب کی بہت چھوٹی مقدار برآمد ہونے پر بھی لوگوں کو طویل عرصے تک سلاخوں کے پیچھے رہنا پڑ رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : لاہور میں منکی پاکس کے 4 نئے مریضوں کی تصدیق
سماعت کے دوران عدالت نے اس بات پر خصوصی زور دیا کہ شراب بندی کے معاملوں میں جیل بھیجنے کے پیمانوں کا جائزہ لیا جانا چاہیے۔ عدالت نے کہا کہ معمولی برآمدگی کے باوجود ملزمان کو جیل میں رکھنا تشویش ناک ہے۔ اس ریکارڈ سماعت نے یہ پیغام دیا ہے کہ قانون کا بوجھ عام لوگوں اور عدلیہ پر متوازن ہونا چاہیے، تاکہ بے قصور اور چھوٹے مجرموں کو غیر ضروری پریشانیوں کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اس کے ساتھ ہی اسسٹنٹ پبلک پرازیکیوٹرز کی جانب سے مقدمات کو جلد نمٹانے کی کوششوں کو عدالت نے پسند کیا۔