امریکا میں وہ ہو گیا، جو تاریخ میں کبھی نہیں ہوا!

Dec 20, 2025 | 08:44:AM
امریکا میں وہ ہو گیا، جو تاریخ میں کبھی نہیں ہوا!
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک)امریکا دنیا کی واحد سپر پاور ہے اور وہاں کچھ ایسا ہو گیا ہے جو اس کی 250 سالہ تاریخ میں کبھی نہیں ہوا۔

امریکا دنیا کی واحد سپر پاور اور سب سے مضبوط معاشی ملک ہے  تاہم  صدر ٹرمپ کے دوسری بار اقتدار سنبھالنے کے بعد جہاں ان کے فیصلے متنازع بن رہے ہیں، وہیں ایک فیصلے نے متعدد غریب افراد کو کروڑ پتی بنانا شروع کر دیا ہے۔

امریکی خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق صدر ٹرمپ کی جانب سے ڈھائی سو سال سے جاری امریکی کرنسی کے سب سے کم مالیت کے سکے "پینی” (ایک سینٹ) بنانے پر پابندی عائد ہونے کے بعد پینی رکھنے والے امریکیوں کے وارے نیارے ہو گئے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ایک نیلامی میں ایک سینٹ کے سکوں کے سیٹ کروڑوں ڈالر میں فروخت ہوئے ہیں، اسٹاکس باؤرز گیلریز کے زیرِ انتظام ہونے والی نیلامی میں 3 سینٹس کے 232 سیٹ ایک کروڑ 67 لاکھ ڈالر (پاکستانی 4 ارب 67 کروڑ روپے سے زائد) میں نیلام ہوئے۔

اس کے علاوہ امریکی ٹکسال کی جانب سے بنائے گئے آخری تین سکے 8 لاکھ ڈالر (پاکستانی 2 کروڑ 20 لاکھ سے زائد) میں نیلام ہوئے، جبکہ بولی جیتنے والے کو ان سکوں کی ڈائز بھی ملیں گی۔

یہ بھی پڑھیں:امریکی فوجیوں کی ہلاکت کا بدلہ، امریکا کے شام میں داعش کے ٹھکانوں پرشدید فضائی حملے

اسٹاکس باؤرز کے سربراہ جان کریلجیوچ کا کہنا ہے کہ "میں 40 برس سے سکوں کی نیلامی کرتا آ رہا ہوں اور میں نے اس سے قبل ایسا کچھ نہیں دیکھا کیونکہ ایسا کبھی ہوا ہی نہیں تھا”، اسٹاکس باؤرز کے صدر برائن کینڈریلا اس فروخت کو ادارے کے لیے اعزاز قرار دیتے ہیں۔

واضح رہے کہ ایک سینٹ کا سکہ پینی پہلی بار سال 1793 میں ڈھالا گیا تھا، اس وقت اس سکے سے بسکٹ کا ایک پیکٹ یا پھر کینڈی خریدی جا سکتی تھی۔

کیا آپ اس متن کو کسی ویب سائٹ کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں یا کسی اور مقصد کے لیے؟