’’نریندر مودی کا زوال ‘‘

تحریر۔۔۔ محمد صدیق کیانی

May 19, 2025 | 12:31:PM
’’نریندر مودی کا زوال ‘‘
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: 24نیوز
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے ریاست جموں کشمیر کی تحصیل   پہلگام میں 28 سیاحوں کی ہلاکت کی تمام تر  ذمہ داری پاکستان پر ڈال دی۔ حکومت پاکستان نے معصوم انسانی جانوں کے ضیاع پر مذمت کرتے ہوئے  اس واقعہ کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کی تجویز پیش کی تاکہ اصل حقائق سامنے آنے پر ذمہ داروں کے خلاف ایکشن لیا جائے۔

بھارت نے اس تجویز کو ماننے سے انکار کرتے ہوئے  7 ستمبر 2025 رات کی تاریکی میں پاکستان کے مختلف علاقوں میں میزائل داغنے شروع کردئیے جس کے نتیجے میں بہت سے نہتے بے گناہ اور معصوم شہری شہید اور کثیر تعداد میں لوگ  زخمی ہوئے۔ اس حملے میں خواتین، بوڑھے اور معصوم بچوں کونشانہ بنایا گیا۔ پاکستان نے اپنے ملک کی حدود کے اندر سے بھارت کے ایک بہت بڑے ایئر سٹرائیک کے منصوبے کو خاک میں ملایا اور انکے پانچ جنگی جہاز جن میں دنیا کے مہنگے ترین اور جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ تین رافیل طیارے بھی تباہ کردیئے ۔ اسکے بعد بھارت نے  8 سے 10 ستمبر تک مسلح ڈرونز  پنجاب، سندھ اور خیبر پختونخواہ کے حساس مقامات کی جاسوسی اور خوف و ہراس پھیلانے کے لئے اڑائے  تاکہ عام پبلک اور سٹیٹ کے اداروں کو جنگ کے خوف میں مبتلا کرکے مفلوج کردیا جائے۔ ان میں سے  بیشتر ڈرونز پاک فوج کے جانباز شوٹرز نے گرائے۔ اس گھمبیر صورتحال میں  عالمی طاقتوں نے یہ کہ کر جان چھڑائی کہ یہ دونوں ممالک آپس میں اکثر وبیشتر لڑتے رہتے ہیں اور پھر صلح بھی کرلیتے ہیں۔

پہلگام واقعہ کے فورا  بعد دونوں ملکوں میں تجارتی راہداری، ہوائی راستے  سمیت ہرقسم کی معاشی ٹریڈ بند کردی گئی۔ بھارت نے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرکے پانی بند کرنے کی دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ ایک بوند پانی بھی پاکستان کو نہیں دیاجائے گا۔ پاکستان کی عسکری قیادت نے بھارتی جارحیت کا جواب دینے کے لئے تین دن انتظار کیا کہ شائد مودی اور اسکے جھوٹے میڈیا  کو احساس ہو جائے اور بھارت جنگی جنون کی کیفیت سے باھر آکر دونوں ملکوں کی عوام کے لئے سوچے اور پائیدار امن کی کوشش کی طرف مائل ہو لیکن افسوس تین دن مسلسل پاکستان پر حملے کرنے والا بھارت اپنے جھوٹے پراپیگنڈے اور سوشل میڈیا کے ذریعے لاھور ، سیالکوٹ اور کراچی پر قبضہ کر چکا تھا۔ اب صرف سرکاری اعلان اور ناشتہ کرنا باقی تھا۔ جنگ پاکستان ہر مسلط کردی گئی تھی۔ پھر افواج پاکستان نے فیصلہ کیا کہ اب اگر ھندو بنیئے کو سبق نہ سکھایا گیا تو یہ اس ملک کی سالمیت اور آزادی کو پاش پاش کردیں گے۔

10 ستمبر نماز فجر کے بعد ملٹری آپریشن "بنیان المرصوص" کے تحت بھارت کے حساس اداروں جہاں سے میزائل اور ڈرونز بھیجے گئے ، ملٹری انسٹالیشنز، میزائل ایئر ڈیفنس سسٹم، دھشت گردوں کے ٹھکانوں، انڈین ایئر بیسز اور اسلحہ ذخیرہ کرنے والے سٹورز پر پاکستان ایئر فورس نے جاندار حملے شروع کئےاور ساتھ ہی ساتھ حساس علاقوں کی فوٹیجز کے لئے  نئی دہلی تک  جدید ترین ڈرونز بھیجے گئے۔ یہ تمام آپریشن پانچ گھنٹے تک جاری رھا پھر دنیا نے دیکھا  انڈیا کا سارا نظام مفلوج ھوکر رہ گیا، انٹرنیٹ، ٹیلی کمیونیکیشن، بجلی، اور دنیا کا جدید ترین  میزائل ایئر ڈیفنس سسٹم S-400 سب کچھ نیست و نابود ہوگیا۔ اکھنڈ بھارت کے روح رواں مودی نے امریکہ اور سعودی عرب کے پاؤں پکڑ کر سیز فائر کروایا۔ اگر یہ جنگ بندی نہ ہوتی تو پاکستان کی ایئر فورس دوسرے حملے میں پورے بھارت کی اینٹ سے اینٹ بجادیتی اور ان کے اطلاعات رسانی کے پورے نظام کو بالکل ناکارہ بنادیتے۔ یہ بھی پلاننگ تھی کہ اسلحے ، میزائل اور جنگی جہازوں کے تمام ٹھکانوں کو تباہ کر دیاجائے  تاکہ اگلے 10سال تک بھارت اسلحے کے زور پر لڑنے  کے قابل ہی نہ رہے۔

 پاکستان نے شہری آبادی اور عام پبلک پر اٹیک نہیں کیا۔ مودی کے جنگی جنون نے بھارتی معیشت کا بیڑہ غرق کردیا۔ اربوں ڈالر کی مالیت کے  مہنگے ترین رافیل طیاروں کی تباہی کے ساتھ ساتھ پاکستان کی ہوائی حدود سے ایئر انڈیا کی تمام  کمرشل پروازوں پر پابندی اور بائی روڈ تجارت پر پابندی سے بھارت تلملا اٹھا۔ اس بھاری نقصان کی تلافی کسی صورت ممکن نہیں۔ تین ماہ تک اگر یہ  پابندی جاری رہی تو بھارت کی معیشت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا اور انڈیا میں مہنگائی کا سونامی اسے معاشی کسادبازاری کا شکار کردے گا۔ انڈیا کا سوشل میڈیا اور اس پر اظہار خیال کرنے والے سارے نام نہاد  ریٹائرڈ میجر اور کرنل  حکومت کے نمائندے اور جھوٹ بول کر اپنی عوام کو بے وقوفی بناتے رہے ۔ دنیا کے تمام فارن میڈیا نے پاکستان کے اصولی موقف کی تائید کی اور فارن میڈیا نے ہی اس بات کو برملا تسلیم کیا کہ یہ فضائی جنگ پاکستان نے جیتی اور پاکستانی پائلٹ فضاؤں کے بادشاہ قرار پائے۔ فرانس نے انڈیا پر پابندی عائد کردی کہ وہ انکے طیارے رافیل کو پاکستان کے خلاف جنگ میں استعمال نہ کرے کیونکہ پاکستانی شاہین دنیا کے بہترین پائلٹ ہیں اور انہوں نے چینی ساختہ طیاروں کے ساتھ دنیا کے مہنگے اور ہر لحاظ سے سیف طیارے رافیل کے جدید سسٹم کو لاک کرکے  باآسانی  شکار کیا۔  مودی نے بھارتی عوام کے بھرم کو جسطرح چکنا چور  اور  اعتماد کو متزلزل کیا ماضی میں  اسکی مثال نہیں ملتی۔ اسوقت پورا بھارت سکتے کی حالت میں ہے ۔یہ شکست کسی طور پر بھی بھارتی عوام  کو ہضم نہیں ہوگی۔ اس شکست کے بعد انتہا پسند سیاسی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (BJP) کے لئے  کسی بھی آنیوالے الیکشن میں کامیابی حاصل کرنا ناممکن ہوگا۔ مودی کو اسلام دشمنی اور جھوٹ بولنے کی سزا ملی۔ اسوقت نریندر مودی کا سیاسی کیرئر داؤ پر لگا ہے اور  مودی کی بجائے کسی اور انتہا پسند ھندو  کو جماعت کا سربراہ بنانے کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے۔

اسوقت خطے میں بھارت تنہا ہوتا جارہا ہے۔ چین، پاکستان، بنگلہ دیش، ترکی، آذربائیجان اور ایران ایک خطرناک  الائنس بن رہا ہے۔ اسی الائنس نے بھارت کو حالیہ جنگ میں شکست سے دوچارکیا۔ بنگلہ دیش اپنے ملک میں معاشی انقلاب کے لئے چین اور پاکستان کے ساتھ ملکر کر بھارتی سرحد کے قریب ایک  بہت بڑی تجارتی ایئر بیس بنارھا ہے۔ جس پر انڈیا کو بہت سے اعتراضات ہیں۔ بھارت کا دعویٰ ہے کہ اس کی تکمیل کے بعد بھارتی "چکن نیک" کا علاقہ فضائی ایئر سٹرائیک سے منقطہ کرکے بھارت کی سات ریاستیں آزاد کرنے کی راہ ھموار کی جارہی ہے ۔ بھارت کا یہ بھی اعتراض ہے کہ  چین، پاکستان اور  بنگلہ دیش کی طرف سے اس ایئر بیس کو بھارت کے خلاف استعمال کرے گا۔ کوئی بھی ایئربیس اور راھداری بنانا ایک آزاد  ملک کا قانونی حق ہے جسے دوسرا ملک نہ تو روک سکتا ہے اور نہ ہی اعتراض کرسکتا ہے۔ انڈیا کا یہی مسئلہ رہا ہے کہ وہ دوسرے ملکوں میں معاشی ترقی کے منصوبوں کو سبوتاژ کرنے کی کوشش ضرور کرتا ہے۔ سی-ہیک پر بھی بھارت نے کہرام مچایا تھا اور اسے روکنے کی ہرممکن کوشش کی۔ جنگی جنون میں مبتلا مودی پاکستان سے مارکھانے کے بعد بھی باز نہیں آرھا اور مقبوضہ کشمیر میں نہتے لوگوں پر ظلم و ستم کا بازار گرم کر رکھا ہے۔ چین بھی بھارت کے ساتھ ھماچل پردیش کے علاقوں کے نام تبدیل کرکے مودی کو تکلیف پہنچارہا ہے۔ یہ سلسلہ اب تھمنے والا نہیں کیونکہ مودی پاکستان پر دوبارہ حملہ کرنے کی پلاننگ میں ہے جبکہ پاکستانی شاہین اس بار پہلے سے بھی زیادہ بہتر اور زوردار اٹیک کرنا چاہتے ہیں۔ مودی کو اپنے  جنگی عزائم ختم کرکے پاکستان کے ساتھ مذاکرات کرنے کی مثبت کوشش کرنی چاہئے  اور کشمیر سمیت تمام معاملات باہمی گفت و شنید سے حل کرکے خطے میں دیرپا اور  پائیدار امن قائم  کے لئے   بات چیت کے عمل کو آگے بڑھائے۔ پاکستان اور بھارت کے عوام جنگ نہیں چاہتے۔ اکھنڈ بھارت کے لیڈر اپنی خواھشات پر امن کو برباد نہ کریں۔ دونوں دیش ایٹمی طاقت رکھتے ہیں لیکن  اگر کسی کو دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی تو یہ پرامن خطہ ایٹمی جنگ سے نیست و نابود ہو جائے گا۔

آنیوالی نسلوں کے بہتر مستقبل اور ترقی کے لئے مودی سرکار کو اپنی انا کے خول سے  باہر نکل کر عوامی اور ملکی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے کشمیر کاز کے پرامن حل کی طرف جانا ہوگا  ۔ کیا گجرات میں نہتے مسلمانوں کو شہید کرکے اور مقبوضہ کشمیر میں کالے قانون کے نفاذ سے ھزاروں بے گناہ شہریوں کا قتل عام کرکے بھی مودی حکومت کو چین نہیں ملا۔  خطے کےامن کو مزید آگ کے شعلوں میں نہ دھکیلیں۔ صرف نریندر مودی بے گناہ مسلمانوں کا قاتل اور   پاک بھارت تنازعے کی وجہ ہے۔ کہیں ایسا نہ ہوکہ کسی مظلوم کی آہ اس قصائی کو لگ جائے اور اسے چتا کے لئے شمشان گھاٹ بھی نہ ملے۔ بھارتی حکومت کو تمام معاملات باہمی گفت و شنید سے حل کرنے چاہئے اور دیرینہ تصفیہ طلب مسئلہ کشمیر یہاں کی عوام کی خواہشات کے مطابق حل کریں۔ جنگ سے ترقی کا عمل رک جاتا ہے ۔

 دنیا جنگوں سے آگے سوچ رہی ہے لیکن ہم جنگ وجدل میں اپنے مستقبل کو تباہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ دونوں ملکوں کی عوام جنگ نہیں چاہتی۔ یہ باہمی  پیار اور محبت کے ساتھ جینا چاہتی ہے۔ نفرت کسی مسئلے کا حل نہیں۔  دونوں دیش پیار  اور امن چاہتے ہیں ۔ مستقبل کے معماروں کو جینے کا حق دو۔ بھارتی عوام کو بھی چاہئے کہ جنگی جنون پیدا کرکے الیکشن جیتنے والے مکار، جھوٹے سیاستدانوں  اور امن کے دشمنوں کو ہرگز  ووٹ نہ دیں کیونکہ یہ لوگ اس پورے خطے میں امن نہیں چاہتے۔

نوٹ:بلاگر کے ذاتی خیالات سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ایڈیٹر