تلسی گیبارڈ کی رپورٹ کو  بس "برا تجزیہ" ہی کہا جا سکتاہے، سینئیر موسٹ ڈپلومیٹ کا تبصرہ

Mar 19, 2026 | 17:28:PM
 تلسی گیبارڈ کی رپورٹ کو  بس
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24نیوز) پاکستان کے سینئیر ڈپلومیٹ، سابق سیکرٹری خارجہ جلیل عباس جیلانی نے کہا ہے کہ امریکہ کی انٹیلی جنس چیف تلسی گیبارڈ کا یہ کہنا کہ امریکہ پاکستان کے ایٹمی میزائلوں کی رینج میں ہے حقیقت نہیں ہے۔

امریکہ کی نیشنل انٹیلیجنس کی ڈائریکٹر تلسی گیبارڈ کے امریکہ کی سینیٹ میں دیئے باضابطہ بیان میں پاکستان کے میزائل پروگرام میں ممکنہ توسیع اور پاکستان کے  انٹرکانٹینینٹل بیلسٹک میزائلوں کی ڈیویلپمنٹ تک پہنچنے کے متعلق اپنی اسیسمنٹ بتاتے ہوئے اسے امریکہ کے لئے ممکنہ خطرہ بتایا گیا تھا

  جلیل عباس جیلانی  نے تلسی گیبارڈ کی امریکی سینیٹ میں پیش کردہ سالانہ  رپورٹ کے مندرجات پر کومنٹ کرتے ہوئے کہا  کہ پاکستان کی نیوکلئیر ڈوکٹرائن ( ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال کے متعلق نظریہ)  بھارت کے لیے مخصوص ہے۔ اس کا مقصد بھارت کے خلاف مدافعت ہے، دنیا بھر میں طاقت کا اظہار نہیں ہے۔

برا تجزیہ!

جلیل عباس جیلانی امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر  رہ چکے ہیں اور پاکستان کے فارن آفس میں سیکرٹری خارجہ کی سینئیر ترین پوسٹ پر کام کر چکے ہیں۔ امریکہ کی نیشنل انٹیلی جنس کی ڈائریکٹر تلسی کی اس رپورٹ  میں پاکستان کے متعلق مندرجات کے متعلق جلیل عباس نے کہا، یہ اپنی مرضی سے کسی کو خطرہ قرار دینے کی مثال ہے یا  اسے صرف ایک "برا تجزیہ"  کہا جا سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیئے: پاکستان کے میزائل امریکہ کے لئے خطرہ؛ انٹیلی جنس چیف نے امریکی سینیٹ میں دھماکہ کر دیا
 یہ بھی پڑھیئے:  ایران نے گزشتہ جنگ کے بعد یورینیم افزودہ نہیں کی، امریکی انٹیلی جنس چیف کا اعتراف

تلسی گیبارڈ کے مفروضے پر ترکیہ کے اینالسٹ کا تبصرہ
 تلسی گیبارڈ کی مرتب ردہ رپورٹ اور سینیٹ میں بیان کے متعلق ترکیے کے تجزیہ کارشائق الدین نے کہا  کہ پاکستان کے بین البراعظمی بیلسٹک میزائل جو  "ہیں ہی نہیں" وہ تو  امریکہ کے لیے خطرہ ہیں لیکن بھارت کے بین البراعظمی میزائلوں کا ذخیرہ جو روس کی مدد سے مسلسل بڑھ رہا ہے، کیا وہ امریکہ کے لیے خطرہ نہیں۔