پاکستان کے میزائل امریکہ کے لئے خطرہ؛ انٹیلی جنس چیف نے امریکی سینیٹ میں دھماکہ کر دیا

Mar 19, 2026 | 11:40:AM
پاکستان کے میزائل امریکہ کے لئے خطرہ؛ انٹیلی جنس چیف نے امریکی سینیٹ میں دھماکہ کر دیا
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک)امریکہ کی ڈائریکٹر آف نیشنل انٹیلی جنس تلسی گیبرڈ امریکہ کی سینیٹ میں بتایا ہے کہ پاکستان کے میزائل ممکنہ طور پر امریکہ تک پہنچنے کے قابل ہو سکتے ہیں اور پاکستان بھی امریکہ کی سلامتی کے لئے خطرہ بن سکتا ہے۔ 

تلسی گیبارڈ نے یہ بات  امریکہ کی نیشنل انٹیلی جنس کی ڈائریکٹر تلسی گیبارڈ نے اپنے ادارہ کی مرتب کردہ  خطروں کی جائزہ رپورٹ 2026  سینیٹ میں پیش کرنے کے ساتھ اپنے  بیان میں کہی۔ اس رپورٹ میں  پاکستان کے میزائل پروگرام اور  پالیسیوں کو امریکی سلامتی کے لیے ممکنہ خطرہ قرار دے دیا گیا۔

اس حساس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی جانب سے ایٹمی ہتھیاروں، بین البراعظمی میزائلوں،  ڈرونز اور پراکسی جنگ کے ذریعے امریکہ کو ممکنہ خطرہ ہے۔

امریکہ کی نیشنل انٹیلی جنس کی اس سالانہ رپورٹ کے مطابق پاکستان مسلسل ایسی جدید میزائل ٹیکنالوجی تیار کر رہا ہے جو اس کی فوج کو جنوبی ایشیا سے باہر کے اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھنے والے میزائل نظام تیار کرنے کے ذرائع فراہم کرتی ہے، اور اگر یہ رجحانات جاری رہے تو ایسے بین البراعظمی بیلسٹک میزائل تیار ہو سکتے ہیں جو امریکہ کے لیے خطرہ بنیں گے۔

یہ رپورٹ ایک ایسے وقت پر منظر عام پر آئی ہے جب پاکستان اور امریکہ کے تعلقات غیر معمولی گرم جوشی کے دور سے گزر رہے ہیں اور امریکی صدر متعدد بار پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شہباز اور آرمی چیف فیلڈ مارشل آصف منیر کی تعریفیں کر چکے ہیں اور انہیں اپنا دوست قرار دیتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:آیت اللّٰہ خامنہ ای کے قریبی ساتھی علی لاریجانی کا سراغ کیسے لگایا گیا؟

چونتیس صفحات کی اس رپورٹ کے ایک اور حصے میں امریکہ کو درپیش ایٹمی حملے کے خطرات کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ چین، روس، شمالی کوریا، ایران اور پاکستان جوہری اور روایتی پے لوڈز کے ساتھ ایسے نت نئے، جدید یا روایتی میزائل ڈیلیوری سسٹمز کی ایک وسیع رینج پر تحقیق اور انہیں تیار کر رہے ہیں، جو امریکی سرزمین کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق امریکہ کو اس وقت تین ہزار بین الابراعظمی میزائلوں کا خطرہ ہے، جب کہ یہ تعداد 2035 میں بڑھ کر 16 ہزار ہو سکتی ہے۔

رپورٹ میں ڈرونز کا بھی ذکر ہے اور خبردار کیا گیا ہے کہ ایک طرف جہاں ڈرونز کا پھیلاؤ بڑھ رہا ہے، وہیں چین، ایران، شمالی کوریا، پاکستان اور روس ان جدید میزائلوں کی تیاری کو ترجیح دینا جاری رکھیں گے جو امریکہ کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔

رپورٹ میں جنوبی ایشیا کو امریکہ کے لیے ایک مستقل سکیورٹی چیلنج قرار دیتے ہوئے اس بات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ ماضی کے تنازعات کے پیشِ نظر پاکستان بھارت تعلقات میں کشیدگی کی وجہ سے ایٹمی تصادم کا خطرہ بدستور موجود ہے۔

یہ بھی پڑھیں:وزیرپیٹرولیم نے خوشخبری سنا دی

 عسکری اور علاقائی تنازعات کے تناظر میں بھی پاکستان پر تنقید کی گئی ہے، رپورٹ کے مطابق پاکستان مصر، اسرائیل، ترکی اور متحدہ عرب امارات سمیت ان ممالک میں شامل ہے جو اپنے حریفوں کو اکسانے یا کمزور کرنے، یا قریبی تنازعات کا رخ اپنے حق میں موڑنے کے لیے مہلک امداد، پراکسی فورسز، یا اپنے فوجی اثاثوں کا ملا جلا استعمال کر رہے ہیں۔

ماضی میں بھی امریکہ پاکستان کی میزائل پروگرام پر اعتراض اٹھاتا رہا ہے، 2024 میں امریکی محکمہ تجارت کے بیورو آف انڈسٹری اینڈ سکیورٹی (بی آئی ایس) نے مبینہ طور پر پاکستان کے بیلسٹک میزائل پروگرام میں معاونت کرنے والی 16 کمپنیوں کو بلیک لسٹ میں شامل کر دیا تھا، بی آئی ایس کی ویب سائٹ پر جاری ایک رپورٹ کے مطابق یہ اقدام چین، مصر، پاکستان اور متحدہ عرب امارات کی 26 کمپنیوں پر پابندیاں لگانے والی ایک وسیع کارروائی کا حصہ ہے۔

مزید پڑھیں:افغان سرزمین سے پاکستان کیخلاف دہشتگردی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی:فیلڈ مارشل عاصم منیر

ان کمپنیوں پر برآمدی قوانین کی خلاف ورزیوں، ہتھیاروں کے پروگراموں میں ملوث ہونے، اور ان پابندیوں سے بچنے کی کوشش کا الزام تھا، جو روس اور ایران پر امریکہ کی جانب سے عائد ہیں۔

اس کے جواب میں پاکستان نے کہا تھا کہ وہ اپنے بیلسٹک میزائل کے حوالے سے امریکی پابندیوں کو جانبدارانہ اور سیاسی مقاصد پر مبنی سمجھتا ہے۔