چین: شرح پیدائش تاریخ کی کم ترین سطح پر آگئی
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24 نیوز)چین میں سال 2025 کے دوران شرحِ پیدائش کم ترین سطح پر آ گئی ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک کی آبادی مسلسل چوتھے سال بھی کم ہوئی، حالانکہ حکومت شادی اور بچوں کی پیدائش بڑھانے کے لیے مختلف اقدامات کر رہی ہے۔
چینی حکام کے مطابق گزشتہ سال ملک بھر میں صرف 79 لاکھ 20 ہزار بچوں کی پیدائش ریکارڈ کی گئی، جو کہ فی ہزار افراد 5.63 کی شرح بنتی ہے۔
نیشنل بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے مطابق یہ شرح 1949 کے بعد سب سے کم ہے، جب چین میں پہلی بار باقاعدہ آبادی کے اعداد و شمار جمع کیے گئے تھے۔
اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ چین میں گزشتہ ایک دہائی کے دوران شرحِ پیدائش میں مسلسل کمی آ رہی ہے۔
مزید پڑھیں:ڈزنی کے معروف اینیمیٹر، ہدایتکار اور کہانی نویس راجر ایلرزچل بسے
اگرچہ ’ون چائلڈ پالیسی‘ کے خاتمے کے بعد حکومت کو بہتری کی امید تھی، تاہم 2024 میں معمولی اضافے کے بعد 2025 میں ایک بار پھر نمایاں کمی دیکھنے میں آئی۔
سرکاری رپورٹ کے مطابق 2023 میں 90 لاکھ 20 ہزار بچوں کی پیدائش ہوئی تھی، جب کہ اس وقت شرحِ پیدائش فی ہزار 6.39 تھی۔ 2024 میں معمولی بہتری آئی، مگر یہ رجحان برقرار نہ رہ سکا۔
حکام کا کہنا ہے کہ نوجوانوں میں شادی کی شرح بھی ریکارڈ حد تک کم ہو چکی ہے۔
مہنگائی، بچوں کی پرورش کے بڑھتے اخراجات اور کیریئر سے متعلق خدشات کے باعث کئی نوجوان جوڑے بچے پیدا کرنے سے گریز کر رہے ہیں۔
دوسری جانب 2025 میں چین میں 1 کروڑ 13 لاکھ 10 ہزار اموات ریکارڈ کی گئیں، جس کے باعث شرحِ اموات فی ہزار 8.04 رہی۔
اس طرح مجموعی طور پر آبادی میں فی ہزار 2.41 کی کمی ہوئی۔