بنگلہ دیش،یونیورسٹی سٹودنٹس میں تصادم،150 سے زائد طلباء زخمی 

Feb 19, 2025 | 22:48:PM
بنگلہ دیش،یونیورسٹی سٹودنٹس میں تصادم،150 سے زائد طلباء زخمی 
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: google
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک) بنگلہ دیش کے شہر کھلنا کی ایک یونیورسٹی کے کیمپس میں جھڑپوں کے دوران اینٹوں اور تیز دھار ہتھیاروں  کا بے تحاشہ استعمال ہوا جس کے نتیجے میں 150 سے زائد طلباء زخمی ہو گئے ہیں۔ پولیس حکام نے بتایا ہے  کہ اب صورتحال کنٹرول میں ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق منگل کے روز جھڑپیں اس وقت شروع ہوئیں جب بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کے یوتھ ونگ نے کھلنا یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی میں طلباء کی رکنیت سازی کی کوشش کی۔اس کے نتیجے میں طلباء اتحاد سٹوڈنٹس اگینسٹ ڈسکریمینیشن کے ممبران کے ساتھ تصادم شروع ہو گیا۔ یہ وہ احتجاجی گروپ ہے جس نے گزشتہ سال اگست میں سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کو معزول کرنے میں کردار ادا کیا تھا۔دونوں گروپوں نے تشدد شروع کرنے کا الزام ایک دوسرے پر لگایا ہے۔
کھلنا کے پولیس افسر کبیر حسین نے اے ایف پی کو بتایا کہ جھڑپ کے بعد کم از کم 50 افراد کو علاج کے لیے لے جایا گیا اور صورتحال اب قابو میں ہے اور پولیس کی اضافی نفری تعینات کر دی گئی ہے۔ ایک طالب علم زاہد الرحمان نے اے ایف پی کو بتایا کہ ہسپتال داخل ہونے والے افراد کو  اینٹوں اور تیز دھار ہتھیاروں سے زخم آئے ہیں جبکہ 100 کے قریب افراد  کو معمولی چوٹیں آئی ہیں۔بی این پی سٹوڈنٹ ونگ کے سربراہ ناصر الدین ناصر نے اسلامی سیاسی جماعت کے ارکان پر الزام عائد کیا کہ انہوں نے تصادم پر مجبور کرنے کے لیے حالات کو پریشان کُن بنایا۔
یہ بھی پڑھیں:خیبرپختونخوا حکومت نے کرم میں دہشتگردوں کے سروں کی قیمت مقرر کردی