طالبان رجیم کے زیرِ سایہ پنپتی دہشت گردی یورپ کیلئے سنگین خطرہ،یورپی یونین کی خفیہ رپورٹ میں ہوشربا انکشافات

May 18, 2026 | 09:16:AM
طالبان رجیم کے زیرِ سایہ پنپتی دہشت گردی یورپ کیلئے سنگین خطرہ،یورپی یونین کی خفیہ رپورٹ میں ہوشربا انکشافات
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24نیوز)طالبان رجیم کے زیرِ سایہ پنپتی دہشت گردی یورپ کے لیے سنگین خطرہ بن گئی، یورپی یونین کی خفیہ رپورٹ میں ہوشربا انکشافات سامنے آگئے۔

افغان طالبان رجیم کی سرپرستی میں پروان چڑھتی شدت پسندی اور دہشت گردی اب صرف خطے تک محدود نہیں رہی بلکہ اس کے سکیورٹی خطرات یورپ تک پہنچ گئے ہیں۔

طالبان رجیم کے زیرِ تسلط افغانستان یورپ کی سکیورٹی کیلئے سنگین چیلنج بن گیا ہے۔ یورپی یونین کی لیک شدہ تھریٹ اسیسمنٹ رپورٹ میں اس حوالے سے اہم انکشافات سامنے آئے ہیں۔

23 صفحات پر مشتمل یورپی یونین کی تھریٹ اسیسمنٹ رپورٹ کے مطابق افغانستان سے ابھرتے سکیورٹی خطرات کے باعث یورپی یونین کو پُرتشدد انتہا پسندی اور دہشت گردی کے سنگین مسائل کا سامنا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افغانستان میں سرگرم دہشت گرد تنظیم “داعش خراسان” اس وقت پورے یورپ کیلئے سنگین ترین بیرونی خطرہ بن چکی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:طبی تاریخ کا حیران کن واقعہ:خاتون نے 5 دن میں 4 بچوں کو جنم دے دیا

رپورٹ کے مطابق افغانستان میں موجود دہشت گرد گروہ انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کے ذریعے نوجوانوں کو گمراہ کرنے کیلئے بڑے پیمانے پر پروپیگنڈا پھیلا رہے ہیں۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ افغانستان میں سرگرم دہشت گرد گروہ ٹیلیگرام اور ٹک ٹاک جیسے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو بارہ سال تک کے کم عمر بچوں کی بھرتی اور برین واشنگ کیلئے استعمال کر رہے ہیں۔

عالمی ماہرین کے مطابق یورپی یونین کی لیک شدہ خفیہ دستاویزات پاکستان کے اس مؤقف کی تائید کرتی ہیں کہ منشیات اور دہشت گردوں کی سرپرستی کرنے والی افغان رجیم دنیا میں انتہا پسندی پھیلانے کی بڑی وجہ بن چکی ہے۔

عالمی ماہرین کا کہنا ہے کہ افغان طالبان رجیم کے زیرِ قبضہ افغانستان شدت پسند نیٹ ورکس، ڈیجیٹل ریڈیکلائزیشن اور سرحد پار دہشت گرد خطرات کا مرکز بن چکا ہے۔