سینٹ ،فوجداری قوانین میں ترمیم کا بل کثرت رائے سے منظور 

خاتون کو سرعام برہنہ کرنے اور ہائی جیکر کو پناہ دینے پر سزائے موت ختم کرنے کی تجویز

Jul 18, 2025 | 19:32:PM
سینٹ ،فوجداری قوانین میں ترمیم کا بل کثرت رائے سے منظور 
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24 نیوز) سینٹ نے فوجداری قوانین میں ترمیم کا بل کثرت رائے سے منظور کر لیا- خاتون کو سرعام برہنہ کرنے اور ہائی جیکر کو پناہ دینے پر سزائے موت ختم کرنے کی تجویز کی گئی ہے۔
وزیر مملکت داخلہ طلال چودہدی نے فوجداری قوانین میں ترمیم کا بل منظوری کے لیے پیش کیا- بل میں خاتون پر مجرمانہ حملہ کرنے یا سر عام اس کو برہنہ کرنے پر سزائے موت ختم کرنا تجویز کیا ہے- بل میں کہا گیا ہے کہ خاتون پر مجرمانہ حملہ کرنی یا اسے سرعام برہنہ کرنے پر ملزم کو بلاوارنٹ گرفتار کیا جا سکے گا، ابتدائی طور پر وارنٹ جاری کیا جائے گا،جرم ناقابل ضمانت اور ناقابل مصالحت ہوگا- جبکہ خاتون پر مجرمانہ حملہ کرنی یا اسے سرعام برہنہ کرنے پر مجرم کو عمر قید ، جائیداد کی ضبطگی اور جرمانہ ہو گا-ہائی جیک کرنے والے کو پناہ دینے والے لے لیے سزائے موت ختم تجویز کی گئی ہے-،ہائی جیک کرنے والے کو پناہ دینے والے کو بغیر وارنٹ گرفتار کیا جائے گا،ابتدائی طور پر وارنٹ جاری کیا جائے گا، جرم ناقابل ضمانت اور نا قابل مصالحت ہو گا-،ہائی جیک کرنے والے کو پناہ دینے والے کو عمر قید اور جرمانہ ہو گا۔
اجلاس کے دوران تحریک انصاف کےسینیٹر  علی ظفر نے کہا کہ عورت کے کپڑے اتارنے پر سزائے موت تھی اس سزائے موت کو برقرار رہنا چاہئے۔سینیٹرثمینہ ممتاز نے کہا کہ قانون کو ہم مزید نرم کر رہے ہیں ۔ ہم عورت کو کمزور بنا رہے ۔عورت کے کپڑے اتارنے میں نرمی لائی جا رہی ۔اپ کو تو اور سختی لرنی چاہیے ،یہ اسلامی ریاست ہے ،بین القوامی لوگوں کو خوش کرنے ہم اپنی سزا کم کر رہے ہیں۔وفاقی وزیر اعظم نذیر تاررڑ نے کہا کہ کیسے سوچ لیا کہ سزا کی سنگینی جرم کو روکتی ہے۔ہمارے پاس سو جرائم میں سزا موت ہے اور کرائم اوپر ہے،یورپ میں سزا موت نہیں اور وہاں کرائم کم ہو رہا۔وہاں جیلیں خالی ہیں، جنھیں میوزیم میں بدل رہے۔سزا موت دینے سے کرائم نیچے نہیں آئے گا۔پانی کے جھگڑوں پر مقدمہ بنا لیتے ہیں کہ عورت کے کپڑے اتارتے ہیں تاکہ اگلے کو سزا موت ہو جائے۔صدر ضیاء کے دور میں وڈیروں نے خاتون کے کپڑے پھاڑے تو اس کیس میں سزا موت دی گئی ۔اس سے قبل اس جرم پر سات سال سزا ہوتی تھی۔جب یہ قانون بنا تو اس کیس کا اندراج بڑھ گیا ۔عمر قید بہت بڑی سزا ہے ۔شریعت میں شامل چار جرم کے علاوہ کسی جرم پر سزائے موت نہیں ہونی چاہیے۔