مولانا فضل الرحمان خیبر پختونخوا حکومت کوتنقید کا نشانہ بنائیں؛حذیفہ رحمان
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24نیوز) پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما حذیفہ رحمان نے کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمان وفاقی حکومت اور پنجاب حکومت کے بجائے خیبر پختونخوا حکومت کو اپنی تنقید کا نشانہ بنائیں۔
24نیوز کےپروگرام گونج مسعود رضا کے ساتھ میں گفتگو کرتے ہوئےپاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمان کے ساتھ دھاندلی تو تب ہو جب انہوں نے یا ان کے کسی عہدیدار نے پنجاب سے الیکشن لڑا ہو انہوں نے تو کے پی سے الیکشن لڑا اور ان کے پارٹی کے لوگ کہتے رہے ہیں کہ کے پی میں ان کے ساتھ دھاندلی ہوئی ہے تو پھر انہیں چاہیے کہ وہ کے پی حکومت کو اپنی تنقید کا نشانہ بنائیں وفاقی حکومت یا پنجاب حکومت کو نہیں ۔
انہوں نے تحریک انصاف کے کارکنوں کے کیسز پر بات کرتے ہوئے کہا کہ تحریک انصاف کے جتنے ممبر ہیں جو قومی اسمبلی پنجاب اسمبلی یا خیبرپخونخوا اسمبلی میں ہوں،ان زیادہ ترممبران پر 9 مئی کے کیسز ہیں جو انہوں نے اپنی لیڈر کو خوش کرنے کے لیے کیا تھااور یہ اس کا نتیجہ ہے کہ جو تربیت بانی تحریک انصاف نے اپنی کارکنان کی کی ہے،شہباز شریف نے اپنے دوروں میں ان سفارتی تعلقات کو بحال کیا ہے جسے بانی تحریک انصاف نے اپنے دور حکومت میں نقصان پہنچایا تھا۔
پروگرام میں شریک پاکستان پیپلز پارٹی کے اہم رہنما بیرسٹر عامر حسن نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان ایک جہاندیدہ سیاستدان ہیں، آج کی اسمبلی پر مولانا کے تحفظات ہیں جیسے اپوزیشن کے تحفظات ہیں،پاکستان پیپلز پارٹی کے بھی ہونگے لیکن ان تحفظات کے باوجود نظام تو چلنا ہے ،ان کا کہنا تھا کہ مولانا کہتے ہیں کہ پیپلزپارٹی اس نظام کا حصہ نہیں ہے ،جب حصہ نہیں ہے تو ان کے کاموں کی ذمہ دار بھی نہیں ہے لیکن پارلیمانی نظام کے اندر سب سے بڑی جماعت کے دعویدار جو تھے ہم نے ان کو آفر کی تھی کہ وہ حکومت بنائیں لیکن وہ اپنی ذمہ داری سے بھاگ گئےفرار ہوگئے ،اس کے بعد جو دوسری بڑی جماعت تھی، وہ ہمارے پاس آئے تو پیپلزپارٹی نے یہ سوچا کے ن لیگ اپنی حکومت بنائے پیپلزپارٹی ان کا ساتھ دے گی لیکن حکومت کا حصہ نہیں ہوگی تاکہ ن لیگ ذمہ دار ہو اپنے اچھے برے کی۔
پروگرام میں شامل پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور معاون خصوصی برائے اطلاعات خیبر پختونخواشفیع جان نے کہا کہ حکومت اپوزیشن سے دوریاں پیدا کر رہی ہے، 400 لوگوں کے خلاف دہشت گردی کا مقدمہ قائم کیا گیا ہے، ان میں سے کس نے دہشت گردی کی تھی تو ایک طرف تو ایسی کارروائیاں کی جارہی ہیں ،دوسری سائید پر کہتے ہیں کہ پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ مذاکرات کرنا چاہتے ہیں ۔
ان کا کہنا تھا کہ پنجاب حکومت ڈیویلپمنٹ کی باتیں کر رہی ہے لیکن ٹرانسپرینسی انٹر نیشنل کی رپورٹ ان کی پرفارمنس کا پول کھول چکی ہے جس میں یہ لکھا ہوا ہے کہ پنجاب میں سب سے کرپٹ ادارہ پنجاب پولیس ہے، دوسرے نمبر پر سندھ آتا ہے ۔
شفیع جان کا مزید کہنا تھا کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے 38 غیر ملکی دورے کیے ہیں لیکن ایک روپے کی انویسٹمنٹ نہیں لے کر آسکے۔
یہ بھی پڑھیں : شہروں اور قصبوں سے تجاوزات کا خاتمہ کرنا ہو گا: وزیرِ اعظم شہباز شریف