’دنیا کو مٹھی بھر ظالم تباہ کر رہے ہیں‘؛میرا بیان ٹرمپ کے بارے میں نہیں تھا، پوپ لیو کی وضاحت آ گئی

Apr 18, 2026 | 23:34:PM
’دنیا کو مٹھی بھر ظالم تباہ کر رہے ہیں‘؛میرا بیان ٹرمپ کے بارے میں نہیں تھا، پوپ لیو کی وضاحت آ گئی
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک) پوپ لیو 14 کی ایران جنگ  پر تنقید سے جنم لینے والی کنٹروورسی نے امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر تنقید عروج پر پہنچا دی لیکن آج اس وقت ڈرامائی تبدیلی آ گئی جب پوپ لیو نے کہہ دیا کہ میری تنقید ٹرمپ پر نہیں تھی۔ 

رومن کیتھولک  چرچ کے سربراہ   پوپ لیو نے اپنے  بہت زیادہ ڈسکس ہونے والے بیان کی وضاحت کردی اور کہا کہ اُن کا تبصرہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بارے میں نہیں تھا۔

پوپ لیو نے امریکہ کے صدر  ٹرمپ کے ساتھ  اچانک عروج پر پہنچ جانے والی کشیدگی کو اپنی وضاحت سے تحلیل کرنے کی کوشش کی اور کہا کہ افریقی ممالک کے دورے میں دیے گئے اُن کے بیانات کو میڈیا نے غلط انداز میں پیش کیا۔

پوپ  لیو نے کیمرون میں بظاہر  ایران جنگ کے تناظر میں اپنے بیان میں کہا تھا کہ ’دنیا کو مٹھی بھر ظالم تباہ کر رہے ہیں‘۔آج انہوں نے کہا ہے کہ یہ ریمارکس صدر ٹرمپ کے بارے میں نہیں تھے۔

اس سے پہلے یہ ہوا تھا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پوپ لیو کے بیان پر زیادہ سخت پوزیشن اختیار کر لی تھی اور انہوں نے پوپ کی ایران فہمی کو چیلنج کرتے ہوئے اپنے ایران جنگ کے بارے میں مؤقف کو دہرایا اور کہا کہ ایران کو نیوکلئیر بم حاصل کرنے کا موقع کسی صورت میں نہیں دینا چاہئے۔

 ٹرمپ نے رومن کیتھولک چرچ کے سربراہ کو سخت الفاظ میں تنقید کا نشانہ بنایا تو اس پر امریکہ کے اندر اور باہر نئی کنٹروورسی کھڑی ہو گئی تھی۔

ٹرمپ کی خود پر تنقید کے جواب میں پوپ لیو نے کہا تھا کہ   تنقید کے باوجود میں  جنگ کے خلاف آواز اٹھاتا رہوں گا۔

ہیگستھ نے فریسیوں سے تشبیہہ دے دی

اس دوران ہی  صدر ٹرمپ کے وزیر دفاع ہیگستھ نے صدر ٹرمپ کی مخالفت کرنے والے مسیحی مذہب پرستوں کو یسوع مسیح کے زمانہ کے فریسیوں کے ساتھ تشبیہہ دی تھی۔  جمعرات کو میڈیا کے ارکان سے بات کرتے ہوئے، ہیگستھ نے کہا کہ انہوں نے چرچ میں فریسیوں کے بارے میں سوچا تھا جب ان کے وزیر نے نئے عہد نامے کی ایک کہانی کے بارے میں تبلیغ کی تھی جس میں یسوع کے عبادت گاہ میں داخل ہونے اور کسی بیمار کو شفا دینے کے بارے میں بتایا گیا تھا۔

فریسی کا حوالہ ماضی میں امریکہ کی سیاست میں اینٹی سیمیٹک نوشن سے جوڑے جانے کے باعث متروک قرار پا گیا تھا، اب اسے سات سال بعد ہیگستھ نے دوبارہ استعمال کیا تو اسے اس کے خاص تناظر کے سبب اینتی سمیٹک تو نہیں سمجھا گیا لیکن اسے صدر ٹرمپ کو یسوع مسیح کے نقش قدم پر چلتا ہوا دکھانے کی کوشش قرار دے کر اس پر تنقید کی گئی۔

ایک اسرائیلی اخبار نے اس پر لکھا، "وہ  (پیٹ ہیگستھ)اس آگاہی کے ساتھ جواب دے رہے تھے کہ  کرسچین روایت میں، 'فریسیوں'  کو "منافق، احمق اور سانپ کا بچہ سمجھا جاتا ہے، جو کہ بھتہ خوری، لالچ اور بدکرداری سے بھرا ہوا ہے" جیسا کہ ابتدائی یہودی کرسچئین تعلقات کی یہودی اسکالر ایمی جِل لیوین نے بحث کی ہے کہ مسیحی روایت میں یہ ایک مخالف آرٹس ہے۔"

فریسی ایک قدیم یہودی فرقہ ہے جو مذہبی اھکامات پر عملدرآمد کرنے پر زور دینے کے لئے مشہور تھا، لیکن یسوع نے شاگردوں کے ساتھ  اپنی تعلیم میں ان کو بار ہا  دکھاوا کرنے والے اور منافق قرار دیا تھا۔

ٹرمپ کے لئے امریکہ کے اندر کیتھولک ووٹرز کے ردعمل کا خدشہ

آج ہی میڈیا میں آنے والی رپورٹوں میں ی ہقیاس بھی کیا گیا کہ امریکہ میں جو کروڑوں رومن کیتھولک  کرسچین ہیں، کیا اب وہ ٹرمپ کی حمایت کرین گے اور کیا وہ ری پبلکنز کو دوبارہ ووٹ دیں گے؟۔ امریکہ میں ری پبلکن پارٹی اور ڈیموکریٹک پارٹی کے زیادہ تر رہنما پکے پروٹیسٹینٹ ہیں یا عملاً ایتھئیسٹ اور سیکولر  ہیں لیکن اپنی زندگی میں مذہب کو ترجیح دینے والے  رومن کیتھولک کرسچینز بھی پروٹیسٹنٹ کرسچینز کی طرح ری پبلکن پارٹی کو  ڈیموکریٹک پارٹی پر فوقیت دیتے رہے ہیں۔

 پوپ لیو  کی جانب سے آْج یہ بتایا گیا ہے کہ ان کی تقریر ٹرمپ کی جانب سے ان پر تنقید سے پہلے کی لکھی ہوئی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: پوپ لیو نے غلط باتیں کیں،  معافی نہیں مانگوں گا :امریکی صدر ٹرمپ