100 سے زائد درجہ چہارم کےملازمین کی تنخواہیں بند، سیکرٹری سکول ایجوکیشن لاہور ہائیکورٹ طلب
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24 نیوز) سرکاری سکولوں کے سویپرز سمیت درجہ چہارم کے سو سے زائد ملازمین کو کئی ماہ سے تنخواہوں کی عدم ادائیگی کے معاملے پر لاہور ہائیکورٹ نے سخت نوٹس لیتے ہوئے سیکرٹری سکول ایجوکیشن پنجاب سمیت متعلقہ افسران کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا ہے۔
جسٹس خالد اسحاق نے خاتون سویپر زاہدہ بی بی کی درخواست پر تحریری حکم جاری کرتے ہوئے سیکرٹری سکول ایجوکیشن پنجاب کو آئندہ سماعت پر پیش ہونے کا حکم دیا۔
عدالت نے چیف ایگزیکٹو افسر اور ڈسٹرکٹ ایجوکیشن افسر کو بھی طلب کر لیا۔
درخواست گزار کے مطابق سو سے زائد درجہ چہارم ملازمین کو کئی ماہ سے تنخواہیں ادا نہیں کی جا رہیں، جس پر انہوں نے عدالت سے رجوع کیا۔
عدالت نے 18 جون 2025 کو محکمہ تعلیم کو واضح احکامات جاری کیے تھے کہ تمام ملازمین کو تنخواہیں ادا کی جائیں، تاہم اس پر تاحال عملدرآمد نہیں کیا گیا۔
مزید پڑھیں:ڈاکٹر یاسمین راشد کے خلاف توہین عدالت کی درخواست سماعت کیلئے مقرر
سماعت کے دوران عدالت نے عدالتی احکامات کی عدم تعمیل پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے سیکرٹری اسکول ایجوکیشن سمیت دیگر متعلقہ افسران کے خلاف توہینِ عدالت کی کارروائی کا عندیہ دیا۔
عدالت نے ریمارکس دیے کہ متعلقہ حکام کو حکم پر عملدرآمد کے لیے "آخری موقع" دیا جا رہا ہے۔
عدالت نے واضح کیا کہ اگر آئندہ سماعت تک حکم پر عمل نہ کیا گیا تو تمام جواب دہندگان کو ذاتی حیثیت میں پیش ہونا ہوگا اور ان کے خلاف توہینِ عدالت کے قانون کے تحت کارروائی شروع کی جا سکتی ہے۔
درخواست گزار زاہدہ بی بی نے استدعا کی ہے کہ عدالتی حکم عدولی پر سیکرٹری اسکول ایجوکیشن سمیت دیگر ذمہ دار افسران کے خلاف توہینِ عدالت کی کارروائی کی جائے
متاثرہ ملازمین کو فوری طور پر ان کی تنخواہیں ادا کی جائیں۔
کیس کی آئندہ سماعت 5 مئی کو ہوگی،آئندہ سماعت میں اہم پیش رفت متوقع ہے۔