جب تنخواہ رُک جائے تو انصاف کہاں جائے؟

کالم:  ملک اشرف 

Apr 18, 2026 | 14:55:PM
جب تنخواہ رُک جائے تو انصاف کہاں جائے؟
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: 24نیوز
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ریاست کی ذمہ داری صرف پالیسی سازی تک محدود نہیں ہوتی بلکہ ان پر عملدرآمد یقینی بنانا بھی اسی کا بنیادی فریضہ ہے۔ جب یہی ریاست اپنے سب سے نچلے درجے کے ملازمین کو ان کی جائز تنخواہوں سے محروم رکھے تو سوال صرف انتظامی نااہلی کا نہیں رہتا، بلکہ یہ انصاف اور انسانی وقار کا معاملہ بن جاتا ہے۔ حالیہ دنوں میں لاہور ہائیکورٹ میں زیر سماعت کیس اسی تلخ حقیقت کی عکاسی کرتا ہے۔سو سے زائد درجہ چہارم ملازمین، جن میں سویپرز بھی شامل ہیں، کئی ماہ سے تنخواہوں سے محروم ہیں۔ یہ وہ طبقہ ہے جو پہلے ہی محدود وسائل اور مشکلات بھری زندگی گزارتا ہے۔ ان کے لیے تنخواہ محض آمدن نہیں بلکہ روزمرہ بقا کا واحد ذریعہ ہوتی ہے۔ ایسے میں تنخواہوں کی بندش صرف مالی مسئلہ نہیں بلکہ ایک سنگین سماجی ناانصافی ہے۔

جسٹس خالد اسحاق کی جانب سے سیکرٹری اسکول ایجوکیشن اور دیگر افسران کو ذاتی حیثیت میں طلب کرنا اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ عدالت اس معاملے کو معمولی نہیں سمجھ رہی۔ عدالتی برہمی دراصل اس نظام پر سوالیہ نشان ہے جہاں واضح احکامات کے باوجود عملدرآمد نہیں ہوتا۔ عدالت کا "آخری موقع" دینا بظاہر نرمی کا اظہار ہے، مگر اس کے پیچھے ایک واضح تنبیہ بھی موجود ہے کہ قانون کی عملداری کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔یہ پہلو بھی قابل غور ہے کہ عدالت پہلے ہی اٹھارہ جون دو ہزار پچیس کو تنخواہوں کی ادائیگی کا حکم دے چکی تھی۔ اس کے باوجود عملدرآمد نہ ہونا صرف غفلت نہیں بلکہ ادارہ جاتی کمزوری یا عدم سنجیدگی کو ظاہر کرتا ہے۔ اگر ایک واضح عدالتی حکم بھی موثر نہ ہو سکے تو عام شہری کے لیے انصاف کی راہ مزید دشوار ہو جاتی ہے۔

 زاہدہ بی بی جیسی درخواست گزار دراصل اس بڑے مسئلے کی علامت ہیں جس میں کمزور طبقہ اپنے بنیادی حقوق کے لیے عدالتوں کے دروازے کھٹکھٹانے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ یہ صورتحال اس امر کی متقاضی ہے کہ حکومتی ادارے اپنی ذمہ داریوں کا ازسرنو جائزہ لیں اور ایسے معاملات کو عدالت تک پہنچنے سے پہلے ہی حل کریں۔یہ کیس محض تنخواہوں کی ادائیگی تک محدود نہیں بلکہ یہ ایک اصولی سوال اٹھاتا ہے: کیا ریاست اپنے ملازمین کے ساتھ بھی وہی انصاف کر رہی ہے جس کا وہ دعویٰ کرتی ہے؟ اگر جواب نفی میں ہے تو اصلاح کی گنجائش نہیں بلکہ ضرورت ہے۔عدالت کی آئندہ سماعت اس حوالے سے اہم ہوگی۔ اگر عدالتی احکامات پر عملدرآمد ہو جاتا ہے تو یہ صرف سو سے زائد ملازمین کے لیے ریلیف نہیں ہوگا بلکہ ایک مثبت پیغام بھی جائے گا کہ قانون کی بالادستی برقرار ہے۔ بصورت دیگر، توہینِ عدالت کی کارروائی نہ صرف ذمہ داران کے لیے بلکہ پورے نظام کے لیے ایک سخت پیغام ثابت ہو سکتی ہے۔

آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ کسی بھی معاشرے کی اصل پہچان اس کے کمزور ترین افراد کے ساتھ برتاؤ سے ہوتی ہے۔ اگر سویپر اور دیگر نچلے درجے کے ملازمین کو ان کا حق بروقت نہیں ملتا تو یہ صرف ایک انتظامی مسئلہ نہیں بلکہ اجتماعی ناکامی ہےاور ایسی ناکامیوں کا ازالہ صرف الفاظ سے نہیں بلکہ عمل سے ہوتا ہے۔

نوٹ:بلاگر کے ذاتی خیالات سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ایڈیٹر