امریکی صدر کی دھمکیاں، بھارت نے روس سے 50 فیصد تیل کی خریداری کم کردی
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ویب ڈیسک) امریکا کے شدید دباؤ پر بھارت نے روس سے تیل کی خریداری کم کردی۔
وائٹ ہاؤس حکام نے برطانوی خبررساں ادارے رائٹرز سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ بھارت نے روس سے تیل کی خریداری 50 فیصد کم کردی ہے۔
عالمی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق وائٹ ہاؤس حکام کا کہنا تھا کہ امریکا اور بھارت کے درمیان تجارتی مذاکرات تعمیری اور مفید رہے، مذاکرات کے نتیجے میں بھارتی ریفائنریوں نے روس سے تیل کی درآمدات میں پہلے ہی سے 50 فیصد کمی کردی ہے۔
بھارت مستقبل میں مکمل طور پر روس سے تیل کی خریداری روکے گا یا نہیں اس حوالے سے امریکی حکام نے مزید تفصیلات سے آگاہ نہیں کیا، تاہم برطانوی میڈیا نے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ بھارتی ریفائنریاں روسی تیل پر انحصار ختم کرنے کی تیاری کر رہی ہیں اور خریداری میں کمی دسمبر سے ممکن ہے۔
یہ بھی پڑھیں:وزیر اعظم کیخلاف ممکنہ عدم اعتماد ،حکومت کو اکثریت برقرار رکھنے میں مشکلات
یاد رہے کہ گزشتہ روز امریکی صدر نے اوول آفس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے انہیں روس سے تیل نہ خریدنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ بھارت کی جانب سے روسی تیل کی خریداری پر خوش نہیں تھے مگر اب یہ معاملہ طے ہوگیا ہے، امریکی صدر نے کہا کہ بھارت فوری طور پر روس سے تیل کی خریداری نہیں روک سکتا لیکن جلد ہی روک دے گا۔
دوسری جانب بھارت کی وزارت خارجہ نے بھارت کی جانب سے روسی تیل کی خریداری روکنے کے حوالے سے مودی اور ٹرمپ کے درمیان بات چیت کی تردید کردی ہے۔
ادھر روس سے تیل کی خریداری روکنے پر بھارتی اپوزیشن جماعت کانگریس نے وزیراعظم نریندر مودی کو آڑے ہاتھوں لے لیا۔
بھارتی اپوزیشن لیڈر اور کانگریس کے سینئر رہنما راہول گاندھی نے سوشل میڈیا پر جاری پیغام میں کہاکہ نریندر مودی امریکی صدر سے ڈرتے ہیں جب ہی انہوں نے ٹرمپ کو یہ فیصلہ کرنے اور اعلان کرنے کی اجازت دی کہ بھارت روسی تیل کی خریداری بند کرے گا۔
راہول گاندھی نے لکھا کہ بار بار کی بےعزتی کے باوجود مودی نےمبارک باد کے پیغامات بھیجے، غزہ کانفرنس میں اپنی شرکت گول کرگئے، نریندر مودی پاک بھارت جنگ بندی پر صدر ٹرمپ کے دعوؤں کی تردید نہ کرسکے۔
PM Modi is frightened of Trump.
— Rahul Gandhi (@RahulGandhi) October 16, 2025
1. Allows Trump to decide and announce that India will not buy Russian oil.
2. Keeps sending congratulatory messages despite repeated snubs.
3. Canceled the Finance Minister’s visit to America.
4. Skipped Sharm el-Sheikh.
5. Doesn’t contradict him…
ادھر کانگریس کی رہنما سپریا شریناتےنے مودی کو ’’نریندر مکمل سرنڈر‘‘ کا نام دیدیا۔ کانگریس کے جنرل سکرٹری برائے مواصلات جیرم رمیش نے بھی روس سے تیل کی خریداری روکنے پر مودی سرکار کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔
یاد رہےکہ گزشتہ روز امریکی صدر نے اوول آفس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے انہیں روس سے تیل نہ خریدنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔